Cloud Front
urbanization

شہروں کی طرف بڑھتی نقل مکانی ، سلسلہ کہاں جاکررُکے گا؟

ایا ز محمود خان
۔ اگر آپ کو صبح صبح لاہور کی سڑکوں پر نکلنے کا اتفاق ہو تو آپ کو سڑکوں کے کناروں مزدوروں کی بڑی تعدادبیٹھی نظر آئے گی ۔ان میں ملتان روڈ اور فیروز پور روڈ قابل ذکر ہیں ۔
اور جیسے جیسے وقت گزرتا جاتا ہے۔ سٹرکوں پر بے ہنگلم ٹریفک اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ گاڑیا ں چلنے کی بجائے رینگتی نظر آتی ہیں۔اور جگہ جگہ ٹریفک جام رہتی ہے ۔اسی طرح پبلک پلیسز ، پارکوں ، ہسپتالوں ،سکولوں اور بازاروں میں اس قدر رش اس قدر زیادہ ہوتا ہے کہ تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی ۔ دفاتر ،اور کاروباری مراکز کے باہر سڑکوں کازیادہ تر حصہ گاڑیوں کی پارکنگ بنا نظر آتاہے ۔مگرجیسے ہی عید کی چھٹیا ں قریب آتی ہیں ۔ تو لاری اڈوں ، اور ریلوے سٹیشن پر لوگوں کا رش دیدنی ہوتا۔اور پھر عید کی چھٹیوں پر ایسا لگتا ہے جیسے لاہور کی سٹرکیں کچھ کشادہ ہوگئیں ہوں۔ ۔اور ٹریفک بھی نسبتاًکم ہوجاتی ہے ۔۔یہ وہ چندنشانیاں ہیں جس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ شہروں میں بڑی آبادی ان افراد پر مشتمل ہے جو دیہاتوں اورمضافاتی علاقوں سے آئے ہوئے ہیں۔ جن میں اکثر عید منانے اپنے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے واپس چلے جانے سے بھی خاص فرق نظر پڑتا نظر نہیں آئے گا۔کیونکہ شہروں کی مستقل آبادی میں بے پنا ہ اضافہ ہو چکاہے ۔کیونکہ لوگوں نے دیہاتوں کو چھوڑ کر شہروں کا رُخ کرلیا ہے۔ اور یہی ٹرینڈ پاکستان کے دوسرے بڑے شہروں میں بھی دیکھا جاسکتا ہے ۔اور کراچی میں تو صورتحال اوربھی بدتر ہے ۔جہاں نہ صرف اندرون سندھ بلکہ خیبر پختون خواہ اور جنوبی پنجاب سے لوگوں کی بہت بڑی تعداد اب آکرشہر میں بس گئی ہے ۔آبادی بڑھنے سے شہر چاروں طرف پھیل رہے ہیں ۔اور نئی رہائشی کالونیاں بنانے کا کاروبار عروج پر ہے۔جو شہروں کے قریب زرعی رقبے کو ہڑپ کرتی جارہی ہیں ۔یہ ٹرینڈ کراچی کے علاوہ لاہور ، فیصل آباد ، ملتان اور دیگر بڑے شہر وں میں دیکھا جاسکتاہے ۔ کراچی پھیل کر شیطان کی آنت سے بھی لمبا ہوچکاہے ۔
لیکن یہ رہائشی کالونیاں بھی صرف ایک خاص طبقے کے لیے ہیں اور نوکری پیشہ اور مزدور طبقے کی بڑی تعداد یاتو شہر کے اندر کرائے کے چھوٹے چھوٹے اور تنگ وتاریک مکانوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے ۔یاپھر کچی آبادیوں میں گزارا کررہی ہے۔جنہیں کسی بھی وقت اُکھاڑ پھینکا جاتا ہے۔اورشہروں کی طرف بڑھتی نقل مکانی سے بے گھر افراد کی تعداد میں بھی تیزی سے اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔
پاکستان جنوبی ایشیا ان ممالک میں سے ایک ہے جہاں لوگ تیزی سے شہروں کا رخ کررہے ہیں ۔
اعداد شمار کے مطابق 1951میں پاکستان میں شہروں کی طرف نقل مکانی کا تناسب17فیصد تھا جو 2010میں بڑھ کر 37فیصد تک پہنچ گیا ۔جبکہ 2016میں شہری علاقوں کی آبادی میں 40فیصد اضافہ ہو ا جبکہ دیہاتوں کی آبادی میں 16.1فیصد کمی واقع ہوئی ہے ۔
۔دیہاتو ں سے شہروں کی طرف اس نقل مکانی بڑی وجہ معاشی ہے ۔ زراعت کے شعبے کو نظر انداز کرنے سے زرعی پیداور میں نمایا ں کمی واقع ہوئی ہے ۔ ۔بڑے زمینداروں نے اگر چہ ڈیری فارمز کا بزنس اپنا لیا ہے ۔کیونکہ اُن کے پاس سرمایا بھی ہوتا ہے اوربنکوں سے قرضے بھی آسانی سے مل جاتے ہیں اور اکثر معاف بھی ہوجاتے ہیں ۔ان لوگوں نے شہروں میں جائیدادیں بنالی ہیں اور انکے بچے بھی شہروں میں پڑھتے ہیں ۔
سب سے زیادہ نقصان چھوٹے کاشتکاروں کو ہوا ہے جو اخراجات پورے نہیں کرپاتے اور مزدور طبقے نے دیہاتوں میں روزگار کے مواقع کم ہونے کی وجہ سے شہروں کا رُخ کیا ہے۔اوریہ سلسلہ جاری و ساری ہے۔
بڑھتی ہوئی آبادی کے علاوہ دیہاتوں میں تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولتوں کا فقدان بھی اس ہجرت کا بڑا سبب ہے ۔
تمام ترقیاتی منصوبے ،صحت اور تعلیم کی بہتر سہولیات صرف چند بڑ ے شہروں تک محدود ہیں اور دیہی علاقوں کو مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے۔
اس کی بڑی مثال لاہور کی ہے ۔جہاں صوبے کے بجٹ کابڑا حصہ حکمرانوں کے میٹرواور اورنج ٹرین جیسے منصوبوں پر خرچ کیا جارہا ہے ۔اور یہاں تک کہ تعلیم اور صحت کا بجٹ بھی ان منصوبوں کی تعمیر میں جھونکا جارہا ہے۔لیکن شہروں کی طرف تیزی سے ہوتی نقل مکانی کی وجہ سے یہ منصوبے ناکامی سے دوچار نظر آتے ہیں اور شہر کے وسائل اتنی بڑی آبادی کو سہارنے کے قابل نہیں رہے۔
۔ صنعت کاری اور شہروں کی طرف نقل مکانی یا urbanization ر ملک کی معاشی ترقی کے لیے ضروی ہے ۔اور دنیا کے کسی بھی ملک کی آمدنی میں بڑے شہروں کے بغیر ممکن نہیں ہوا۔ تاہم آمدنی میں اضافے کاانحصار اس نقل مکانی کی mangangemt پر ہے ۔اگر منجمنٹ درست ہو توurbanization سے مجموعی خوشحالی بڑھائی جاسکتی ہے ۔ورنہ اس سے صرف بھیڑ اور شہروں اور دیہاتوں کے درمیان عدم مساوات کو بڑھانے کا بڑا زریعہ ثابت بنتی ہے۔
۔چین نے ادارو ں ، انتطامی ڈھانچوں اور مراعات سے نہ صرف شہروں کی طرف نقل مکانی کی رفتار اور آمدنی میں اضافے کو احسن طریقے سے سنبھال کر مثال قائم کی ہے ۔جبکہ پاکستان میں میں شہری نقل مکانی تو ہوئی ہے لیکن ناقص منصوبہ بند ی اور منیجٹ نہ ہونے کی وجہ سے شرح نمو میں اضافہ نہیں ہوسکااور دوسری طرف شہر وں کے مسائل حد سے زیادہ بڑھ چکے ہیں ۔اگرچہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے آکڑوں کو دیکھا جائے تو ملک ترقی کی راہوں پر گامزن ہے ۔مگر حقیقت میں یہ ترقی قرضوں کے سہارے کھڑی ہے ۔جس سے حکومت تو چل رہی ہے مگر عوام مسائل سے دوچار ہے ۔۔
۔لوگوں کی شہروں میں نقل مکانی سے شہروں پر جو اثرات مرتب ہورہے ہیں ۔وہ کسی سے ڈھکے چُھپے نہیں ۔
ان میں منشیات کا بڑھتا استعمال ، جرائم کی شرح اور بے گھر افراد کی تعداد میں اضافہ اور صحت عامہ ، ماحولی آلودگی کے مسائل سب سے زیادہ واضع ہیں ۔حال ہی میں لاہو ر میں چھاجانے والی سموگ نے خبر دار کردیا کہ کراچی کے بعد لاہوربھی دنیاکے آلودہ ترین شہروں میں شامل ہوچُکاہے۔اور ٹریفک کی صورتحال یہ ہے کہ انڈرپاسزاور فلائی اور ز پر اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود بھی ہر جگہ ٹریفک جام رہتی ہے ۔
اس کے علاوہ شہروں میں نقل مکانی کے بڑھنے سے زمین اور گھروں کی قیمت اور کرائے میں بہت زیادہ اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ بنیادی ضروریادت کی اشیا ء بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی چلی جاتی ہیں ۔آمدنی اور خرچ میں بہت بڑا فرق پید اہوجاتا ہے اوربچت کرنا ناممکن ہوجاتاہے ۔اور منصوبہ بندی کے فقدان کی وجہ سے جو چیز ترقی کا باعث بنتی سکتی ہے مسائل کا سبب بن جاتی ہے۔
۔اگر حکومت نے ترقیاتی منصوبوں اور سہولیات کو دیہی علاقوں تک وسعت نہ دی ،آبادی کے جن کو قابو نہ کیا گیا اور شہر وں کی طرف نقل مکانی کا سلسلہ جاری رہا تو طبقاتی خلا اتنا بڑھ جائے گا کہ یہ شہربھی اُبل پڑیں گے اور ملک میں نام نہاد ترقی کا پہیہ بھی جام ہو کر رہ جائے گا۔