Cloud Front

پاکستان کے ساتھ تعلقات کافی پیچیدہ رہے ہیں، ترجمان وائٹ ہاؤس

ان تعلقات کی بناء پر براک اوباما پاکستان کا دورہ نہیں کر سکے، ٹرمپ نوازبات چیت سے متعلق ردعمل نہیں دے سکتے، معاملے کی وضاحت کیلئے صدر ٹرمپ کی ٹیم سے بات کی جائے، جوش ارنیسٹ

واشنگٹن: امریکہ نے کہا ہے کہ قومی سلامتی کے حوالے سے پاکستان اور امریکا کے تعلقات خاصے پیچیدہ رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر براک اوباما خواہش کے باوجود پاکستان کادورہ نہیں کرسکے ٹرمپ نوازبات چیت سے متعلق اعلامیے کی درستگی اور لہجے پر ردعمل نہیں دے سکتے ۔وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنیسٹ نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ٹرمپ نوازبات چیت سے متعلق اعلامیے کی درستگی اورلہجے پرردعمل نہیں دے سکتے۔ اس معاملے کی وضاحت کیلیے نومنتخب صدر ٹرمپ کی ٹیم سے بات کی جائے۔

جوش ارنیسٹ کا کہنا تھا کہ تمام صدورمحکمہ خارجہ کیاہلکاروں سے مشورہ لیتے رہے ہیں اور عہدہ سنبھالنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ بھی ایساکریں گے۔ایک سوال کے جواب میں ترجمان کا کہنا تھا کہ صدراوباما نے ایک مرتبہ پاکستان جانیکی خواہش ظاہرکی تھی،تاہم کئی وجوہات کیسبب اوباما خواہش پوری نہ کرسکے ، گزشتہ 8 سال میں خصوصا القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کی پاکستان میں ہلاکت کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات ناہموار رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صدر اوباما پاکستان کا دورہ کرنا چاہتے تھے لیکن دونوں ملکوں کے پیچیدہ تعلقات کی وجہ سے ایسا نہ کر پائے۔جوش ارنسٹ نے کہا کہ نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد بہت سے ملکوں کا دورہ کرنے کے بارے میں سوچیں گے اور یقینی طورپران ممالک میں پاکستان بھی شامل ہوگا امریکی صدر کے کسی بھی ملک کے دورے سے اس ملک کے عوام کو ٹھوس پیغام ملتا ہے، ترجمان وائٹ ہاؤس کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیراعظم نوازشریف کی گفتگو سے متعلق حکومت پاکستان کا اعلامیہ پڑھا ہے لیکن اس کے درست یا غلط ہونے کے بارے میں کوئی رائے نہیں دے سکتا۔