Cloud Front
Death

زندگی اور موت

حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا زندگی کیسے گزاریں؟
جناب عمر نے جواب دیا ۔۔”یہ سوچو راہ میں کانٹے دار جھاڑیاں ہیں اور تم نے کانٹوں سے دامن بچاتے ہوئے۔۔۔ محتاط چلنا ہے۔کہ سفر بھی کٹ جائے اور کپڑے کانٹوں میں بھی نہ الجھیں۔۔۔”

مجھے حضرت میاں میر رحمتہ اللہ علیہ سے بے حد محبت اور عقیدت ہے۔ جب میں دربار میں داخل ہوتا ہوں تو ایسے لگتا ہے کہ جیسے کسی بہت ہی شفیق اور محبت کرنے والی ہستی کے پاس آیا ہوں۔۔ بے شک جناب میاں میر کو صاحبان نظر ۔۔۔شہنشاہ عشق کے نام سے پکارتے ہیں اور ایک مجذوب نے تو یہاں تک کہا کہ جس میں عشق نہ ہو وہ کچھ لمحوں سے زیادہ یہاں بیٹھ ہی نہیں سکتا۔۔

میرا سرکار میاں میر سے محبت اور عقیدت کاتعلق سن دو ہزار سے جاری ہے۔۔ میں جب جب سرکار کی لحد پر فاتحہ کے لئے گیا۔۔ واپسی پر عمل صالح کرنے کی موٹیویشن اور روحانی سکون لے کر واپس آیا۔۔۔
کچھ عرصہ پہلے میاں میر رحمتہ اللہ علیہ کے مزار کے باہر میں ایک مجذ وب سے ملا ،جس نے دامن پکڑ کر مسکراتے ہوئے کہا۔
میاں کیا لے کر آئے تھے
کیا لے کر جاؤگے
خالی ہاتھ آئے تھے
اور خالی ہاتھ جاؤ گے
اور مسکرتا ہوا آگے نکل گیا۔
میں کھڑا سوچ میں پر گیا کہ یہ شخص کیا کہہ گیا ہے۔۔ اسی سوچ میں تھا کہ ایک جنازے کو قبرستان جاتے دیکھا۔۔لوگ کلمہ شہادت ، کلمہ شہادت کی صدائیں لگا رہے تھے۔۔ بے دھیانی میں میں بھی جنازے کے ساتھ چل پڑا۔۔
ایک گہری قبر تھی۔۔ ایک آدمی اندر اترا اور پھر مردے کو بھی اتار دیا گیا۔۔ پتہ چلا میت ایک دکان دار کی ہے جو خاصا امیر شخص تھا جس کے چھ بیٹے اور بیٹیاں ہیں۔۔سب کچھ تھا مگر دل کا آٹیک لے ڈھوبا۔۔۔
میں وہاں سے چل دیا۔۔ دل میں بار بار خیال آنے لگا۔۔بار بار اندر سے آواز آنے لگی۔۔بھائی جی آپ کا بھی تویہی انجام ہے۔۔ انسان کیا لے کر آتا ہے۔۔ اور کیا لے کر جاتا ہے

خالی ہی ہاتھ آیا ہے اور خالی ہی ہاتھ جائے گا۔
جب تک روح اور جسم کا تعلق رہتا ہے۔۔ کیسے کیسے سپنے سجاتا ہے۔۔جیسے ہی تعلق ختم ہوتا ہے۔۔۔ سپنے بھی ختم ہو جاتے ہیں۔۔دنیا بھی ختم ہو جاتی ہے۔۔ اور پھر کچھ ہی روز میں بھلا دیا جاتا ہے۔۔
زندگی بھی عجیب ہے۔ انساں جب دنیا میں آتا ہے۔۔تو روتا ہوا آتا ہے۔۔ اپنے بس میں اس کے کچھ بھی نہیں ہوتا۔نہ آنے کا اختیار اور نہ ہی جانے کا۔۔آتے ہوئے خود روتا ہے اور جاتے ہوئے دوسروں کو رُلاتا ہے۔۔
پیدا ہوتا ہے تو خود اپنی ذات کو اپنی ہی غلاظت سے پاک کرنے کے لئے والدین کا محتاج ہوتا ہے۔۔ اپنی بھوک مٹانے کے لئے روتا ہے ، ماں قریب ہو تو دودھ پلا دے۔۔ورنہ اتنا کمزور کہ خود اپنی بھوک تک نہیں مٹا سکتا۔۔
وقت کے ساتھ ساتھ طاقت پکڑتا ہے۔۔ اس طاقت کے ساتھ نفس بھی جوانی پکڑتا ہے۔۔ اور پھر اگر اللہ کی رحمت شامل حال نہ ہو تو۔۔۔سرکشی پر آمادہ ہوتا چلا جاتا ہے۔۔۔ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ سرکشی میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔۔ کمزوریوں کی جگہ نئی طاقتیں۔۔۔ دنیا کا رنگ روپ بدلنے لگتا ہیں۔۔ وہی ماں ،باپ جن کی مہر بانیوں سے کمزوری کا زمانہ مزے سے کٹا۔۔ وہی ماں باپ ایک وقت آتا ہے برے لگنے لگتے ہیں۔۔ ان کی ڈانٹ ڈپٹ زہر لگنے لگتی ہے۔۔۔
پھر وہ وقت آ جاتا ہے جب تعلیم ختم ہو جاتی ہے۔۔ اب روزگار لگ جاتا ہے۔۔ بعض بد بخت اس دور میں احسان فرموشی کی انتہا پر پہنچ جاتے ہیں۔۔ بعض شادی کے بعد احسان فرموش بن جاتے ہیں اور کچھ خوش نصیب ساری زندگی اللہ کی اس رحمت کا شکر ادا کرتے ہیں جو ماں باپ کے روپ میں ان پر رہی۔۔
پھر وہ محسنیں جنھوں نے پالا پوسہ۔۔۔۔ آہستہ آہستہ پیش منظر سے پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔۔ اب انسان کی توجہ کا محور خود اس کی اولاد ہوتی ہے۔۔

انسان بھی کیا چیز ہے۔۔ جس کا احسان ہو۔۔۔ اسے وہ مقام نہیں دیتا۔۔۔ جو۔۔۔۔ان لوگوں کو دیتا ہے جن پر وہ احسان کرے۔۔ شا ید انسان احسان بھی لالچ میں کرتا ہے اور۔۔ ان پر کرتا ہے جن سے واپسی کی امید ہو۔۔
ماں باپ اولاد پر ان کی پیدائیش سے اپنی زندگی کے آخری دور تک احسانات کرتے ہیں۔۔۔بدلے میں ان کے بڑھاپے میں انسان ان کی خدمت کا حق کیا ادا کرے۔۔۔ اپنی اولاد کو ان پر ترجیع دینے لگ جاتا ہے۔
پھر اولاد جوان ہو جاتی ہے۔۔ وہ اب اپنا عیال رکھتی ہے۔۔ اب انسان کو اندازہ ہوتا ہے کہ کیسے اس نے خود اپنے والدین سے سلوک کیا۔۔ لیکن یہ احساس بے فائدہ ہوتا ہے۔۔

زندگی کا وہ وقت جو طاقت کے نشے میں گزرتا ہے۔۔ جس میں اپنی اولاد کے لئے انسان خوب محنت کرتا ہے ، کماتا ہے۔۔اور ریٹائیر ہونے تک کبھی خیال نہیں کرتا کہ حق کمایا ۔۔یا مال حرام۔۔۔
بڑھاپہ آتے ہی یہ انسان سب کو بے وقعت نظر آنے لگتا ہے۔۔ اب پروٹوکول اسے نہیں بلکہ اس کی اولاد کو ملتا ہے کیونکہ وہ طاقتور ہیں اور یہ نہیں۔۔۔یہ انسان اپنی بیماریوں کا علاج مہنگے سے مہنگے ڈاکٹروں سے تو کروا سکتا ہے۔۔۔مگر صحت کی کوئی گرنٹہ نہیں دیتا۔۔ افسوس پیسہ اور مرتبہ صحت اور زندگی نہیں دے سکتے۔۔
پھر ایک دن ملک الموت آ جاتا ہے۔۔ اپنے ساتھ چلنے کا کہتا ہے۔۔۔ سب کچھ ہے، محل ہے، بینک بیلنس ہے۔۔۔ اولاد ہے۔۔۔ لیکں۔۔افسوس کوئی اس سے بچانے کی حیثیت نہیں رکھتا۔۔۔

روح نکلتی ہے۔۔ وہ لوگ جن کی محبت میں ساری زندگی گزاری۔۔ روتے ہیں ماتم کرتے ہیں۔۔ پھر ایک کہتا ہے۔۔۔ اسے جلدی دفن کر دو۔۔۔ سنت بھی یہ ہی ہے۔۔ دوسرا لاش خراب ہونے کا خطرہ بھی ہے۔۔۔
غم کے عالم میں پیارے اسے غسل دیتے ہیں ، جنازہ پڑھتے ہیں اور پھر۔۔وہ بیوی جس کی محبت میں اپنی مان پر چیخا۔وہ بیٹا جس کے منہ سے نکلی ہر فرمائش پوری کی۔۔چاہے اس کے لئے اپنے والد کی ضرورت بھی قربان کرنی پڑی۔۔وہ بیٹی جس کی تعلیم اور پھر شادی کے لئے حرام و حلال میں فرق نہ کیا۔۔ اسے قبر میں ڈالتے ہیں۔۔فاتحہ پڑھتے ہیں۔۔واپس گھر چل دیتے ہیں۔۔ کوئی نہیں سوچتا کے اس کے پاس رہے۔۔۔ بھلا مردوں کے ساتھ کون رہتا ہے؟
گھر پہنچتے ہی دیگیں گھلتی ہیں اور غم کے مارے عزیز اور دوست مرغ بریانی اور کورمے سے غم مٹا کر چل دیتے ہیں۔۔
پھر ایک وقت آتا ہے وہ شخص بھلا دیا جاتا ہے اور ایک اور بے وقوف پھر طاقت کے نشے میں احسان
فراموش بن کر اسی زندگی کا سزاوار ٹھہرتا ہے۔ اور سلسلہ چلتا رہتا ہے۔۔

انسان بھی کتنا بے وقوف ہے، لمحات میں جیتا ہے اور ایک کل کو بھلا دیتا ہے اور ایک کل کو نظر انداز کر دیتا ہے۔۔
کتنا خوش قسمت ہے وہ۔۔جو کھیل کو سمجھ جاتا ہے۔۔ اور اپنے رب کی بنائی اس دنیا کے راز کو پا لیتا ہے۔۔۔ پھونک پھونک کر قدم رکھتا ہے۔۔ ہر لمحے ایسے بیج بوتا ہے جن کا پھل اس کے زندگی اور ما بعد زندگی میں کام آئے۔۔ جو طاقت میں رہتے ہوئے بھی اپنی کمزوریوں کو نہیں بھولتا۔۔جو احسان کو یاد رکھتا ہے اور خود کو محسن کا مقروض سمجھتا ہے۔۔
جو حقوق و فرائض کے ادئیگی میں جتا رہتا ہے۔۔ اور خوف خدا میں زندگی کے فیصلے کرتا ہے۔۔
خوش قسمت ہے وہ جس کا وجود شکر اور مالک کی رضا کے حصول میں جتا رہے۔۔
اللہ ہمیں زندگی اور دنیا کی حقیقت سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔ اور ہماری آنکھوں میں پڑے مادہ پرستی کے حجاب اٹھائے تاکہ ہم اپنی حقیقت سے روشناس ہو سکیں۔آمین




محمد بلال افتخار خان پروگرام کھرا سچ سے وابستہ ہیں بین الاقوامی معاملات میں کافی گرفت رکھتے ہیں قومی اور بین الاقوامی اخبارات میں بھی لکھتے ہیں اورسٹریٹیجک سٹڈیز میں ایم اے کی ڈگری رکھتے ہیں