Cloud Front
Imran Khan

اقتدار میں آ کر90 دن میں کرپشن کا خاتمہ کریں گے ،عمران خان کا اعلان

چیئرمین نیب اور ایف بی آر کو جیلوں میں ڈالوں گا،تمام ادارے نواز شریف کے غلام بن گئے ہیں ،کرپشن کینسر کی طرح ملک کو تباہ کر رہا ہے،چیئرمین تحریک انصاف
84 میگاواٹ منصوبہ 4 سالو ں میں مکمل ہوگا ،صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں سے انقلاب آئیگا،ہسپتال پورے ملک کیلئے مثالی بنیں گے ، 34 ہزار بچے نجی سے سرکاری سکولوں میں چلے گئے، کے پی کے پولیس پر فخر ہے ،تقریب سے خطاب

سوات: چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کہا ہے کہ اقتدار میں آنے کے بعد 90 دن میں ملک سے کرپشن کا خاتمہ کریں گے اور سب سے پہلے چیئرمین نیب اور چیئرمین ایف بی آر کو جیلوں ڈالوں گا ، تمام ریاستی ادارے شریف خاندان کے غلام بن گئے ہیں، نواز شریف پر 13 مقدمات کے باوجود انہیں نہیں پکڑا جارہا ۔جمعہ کے روز سوات میں 84 میگاواٹ بجلی منصوبے کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا تھاکہ خوشی ہے کہ 84 میگا واٹ کا پروگرام شروع کر رہے ہیں یہ منصوبہ 4سال میں مکمل ہو جائے گا، اتنا بڑا پروجیکٹ کسی صوبائی حکومت نے شروع نہیں کیا جبکہ 72 سرمایہ کاروں نے خیبر پختونخوا میں 6 پاور پروجیکٹ کے لیے بڈنگ کی ہے،

150 پن بجلی گھر بنالیے ہیں اگلے سال تک مزید بنائیں گے اور 10 لاکھ لوگوں کو بجلی فراہم کریں گے، خیبرپختونخوا میں شروع ہونے والے منصوبوں سے صوبے میں انقلاب آئے گا اور صوبے کے ہسپتال پورے ملک کے لیے مثال بنیں گے، خیبر پختونخوا میں 34 ہزار بچے نجی سے سرکاری سکولوں میں گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کرپشن کے خلاف احتجاج ہمارا حق تھا اور جب بھی اقتدار میں آئے 90 روز میں بڑی کرپشن ختم کردیں گے کیونکہ کرپشن معاشرے کا کینسر ہے جو ملک کوتباہ کررہی ہے، کرپشن کے باعث کوئی سرمایہ کار پاکستان نہیں آتا جبکہ حکومت ایماندار ہو تو سرمایہ کاری آئے گی لیکن (ن) لیگ صرف اشتہاروں میں ترقی کررہی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ پانامہ میں اربوں روپے کے اثاثے ہیں لیکن ان کو کوئی نہیں پکڑتا لیکن اگر غریب چھوٹی سی چوری کرے تو اس کو جیل میں ڈال دیا جاتا ہے، یہ ظلم کا نظام ہے اس سے قومیں تباہ ہوئیں لہذا ہم نے قانون بنانا ہے تاکہ بڑے بڑے ڈاکوؤں کو پکڑ کر جیل میں ڈالیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چیئرمین نیب چھوٹے چھوٹے پٹواریوں کو پکڑتا ہے لیکن نواز شریف پر 13 مقدمات کے باوجود نہیں پکڑتا، انہیں شرم آنی چاہیے اور چیئرمین نیب کو ہی سب سے پہلے جیل میں ڈالنا چاہیے،چیئرمین ایف بی آر بھی کرپٹ آدمی ہے ہر مہینے 25 کروڑ دبئی بھجواتا ہے، تمام ریاستی ادارے شریف خاندان کے غلام بن گئے ہیں،عمران خان نے کہا کہ پنجاب پولیس میں سفارش پر بھرتیاں ہوتی ہیں اور آئی جی پنجاب شہباز شریف کے پاؤں میں بیٹھا ہوتا ہے،

پنجاب پولیس کو شریف خاندان کی نوکر بنادیا گیا ہے وہاں جھوٹے مقدمات بنائے جاتے ہیں، مجھ پر بھی 3،4 مقدمات بنادیے گئے ہیں تو عام آدمی کا کیا حال ہوگا لہذا غیر قانونی کام کروائیں گے تو پولیس کیسے چلے گی ،شریف فیملی کے پنجاب پولیس کو اپنا نوکر بنا لیا ہے۔ پنجاب پولیس اہلکاروں کی کمی کے باعث پنجاب میں جرائم میں شدید اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ روز لاہور کی مال روڈ سے میرے رشتہ دار ایم پی اے انعام اللہ نیازی کو چوروں نے لوٹ لیا۔ انعام اللہ کو میرا ساتھ چھوڑنے کی سزا ملی ہے۔ کرپشن کے خلاف احتجاج ہمارا حق ہے۔ تحریک انصاف کے کارکنوں پر پولیس کی شیلنگ اور پکڑ دھکڑ غیر قانونی تھی۔ اپنی کرپشن بچانے کے لئے ن لیگ پولیس کو استعمال کرتے ہیں۔ کیونکہ پنجاب پولیس میں غیر قانونی طور پر بھرتیاں کی گئی ہیں،خیبرپختونخوا پولیس کی ہر جگہ تعریف ہوتی ہے جس پر فخرہے