Cloud Front
Muhammad Hafeez

پروفیسر باؤلنگ ایکشن جانچنے کے قانون سے خوش نہیں

مشکوک بولنگ ایکشن کا قانون غیر واضح ہے ،امپائرز کسی بولر کے بارے میں منفی سوچ رکھتے ہیں تو ہر چیز بری لگے گی
مشکوک بولنگ سے متعلق قانون تمام بولرز کے لیے یکساں ہونا چاہیے، اطلاق تمام بولرز پر ہونا چاہیے ، محمد حفیظ

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے آل راؤنڈر محمد حفیظ بولنگ ایکشن کلیئر ہونے پر خوش لیکن مشکوک بولنگ ایکشن کے قانون اور اس کے ذریعے بولرز سے نمٹنے کے طریقہ کار سے مطمئن نہیں ہیں۔محمد حفیظ نے بی بی سی اردو کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ مشکوک بولنگ ایکشن کا قانون غیر واضح ہے کیونکہ یہ مائنڈ سیٹ کی بات ہے کہ اگر امپائرز کسی بولر کے بارے میں منفی سوچ رکھتے ہیں تو ہر چیز بری لگے گی۔

‘اس وقت بھی انٹرنیشنل کرکٹ میں ایسے کھلاڑی بولنگ کر رہے ہیں جن کے بولنگ ایکشن میں گڑبڑ لگتی ہے لیکن انہیں رپورٹ نہیں کیا گیا لہذٰا اس قانون کو ایسی جگہ لانے کی ضرورت ہے جہاں تمام شکوک وشبہات دور ہو جائیں جو ذہنوں میں آتے ہیں کہ کسی بولر کے بولنگ ایکشن کو رپورٹ کر دیا اور کسی کو نہیں۔’محمد حفیظ نے کہا کہ وہ اس بات ہر ہمیشہ زور دیتے آئے ہیں کہ مشکوک بولنگ سے متعلق قانون تمام بولرز کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔اس کا اطلاق تمام بولرز پر ہونا چاہیے۔محمد حفیظ کو امید ہے کہ اس سال دوسری مرتبہ بولنگ ایکشن کلیئر ہونے کے بعد دوبارہ انہیں اس طرح کی صورتحال اور پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنے کریئر میں ایک ہی انداز اور ایکشن سے بولنگ کی ہے اور اس میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں کی۔

وہ اب بھی اسی ایکشن سے بولنگ کریں گے جس سے وہ پہلے کرتے آئے ہیں۔محمد حفیظ کا کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیم میں واپسی کے لیے پرامید ہیں۔ وہ اب مکمل فٹ ہیں اور ڈومیسٹک کرکٹ بھی کھیل رہے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ وہ انٹرنیشنل کرکٹ میں واپس آ کر بیٹنگ کے ساتھ ساتھ بولنگ میں بھی پاکستانی ٹیم کے کام آئیں۔انہوں نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ دنیا کے نمبر ایک آل راؤنڈر کا اعزاز دوبارہ حاصل کریں جو انہیں پہلے ملا تھا۔