Cloud Front
pakistan railways

ریلوے میں 47کروڑ کا نیا سکینڈل!

کوکا کولا کمپنی بھی کروڑ کا ٹیکہ لگانے والوں میں شامل ، رپورٹ پارلیمانی کمیٹی کو ارسال

اسلام آباد: ریلوے میں 47 کروڑ روپے کرپشن کا نیا سکینڈل سامنے آگیا ہے ، بزنس ٹرین چلانے والی دو کمپنیوں نے ریلوے کو 47 کروڑ روپے دینے سے انکار کردیا ہے اس نقصان میں ریلوے کے اعلیٰ حکام کو ذمہ دار قرار دیا جارہا ہے پارلیمانی کمیٹی کو بھجوائی گئی ایک مفصل رپورٹ میں ریلوے میں اربوں روپے کرپشن کو بھی بے نقاب کرکے ذمہ دار کرپٹ اہلکاروں کیخلاف کارروائی کی ہدایت کی گئی ہے رپورٹ کے مطابق نو سال قبل شروع کیا گیا منصوبے کیلئے ریلوے حکام سے 9سال بعد پانچ کروڑ روپے کی مشینری خریدی اور قومی خزانہ کو بھاری نقصان پہنچایا ہے ملتان ڈویژن کے مختلف ریلوے سٹیشن پر سٹالوں ، کمرشل سرگرمیوں کے نام پر متعلقہ حکام نے تین کروڑ روپے کی دیہاڑی لگائی تھی پہلے ان دکانوں کو کرایہ پر دے کر قومی خزانہ کو سالانہ تین کروڑ کا فائدہ ہوتا تھا سلیپر فیکٹری خانیوال کے افسران نے ناقص سامان کی خریداری کرکے ایک کروڑ 62 لاکھ کا نقصان پہنچایا تحقیقات مکمل ہونے کے باوجود افسران اپنی سیٹوں پر موجود ہیں ۔ راولپنڈی ریلوے اسٹیشن کی 425دکانوں کو پرانے معاہدوں پر کرایہ پر دے کر افسران قومی خزانہ کو ماہانہ ایک کروڑ چالیس لاکھ کا نقصان پہنچا رہے ہیں ۔

سہراب سے کچلاک کوئٹہ کے مابین شٹل ٹرین چلانے سے ادارہ کو ڈیڑھ کروڑ کا نقصان ہوا ہے جبکہ راولپنڈی ڈویژن میں ریلوے حکام نے ایک کروڑ34 لاکھ کا ڈیزل بیچ کر کھا گئے ہیں سکھر ریجن میں کوکا کولا کو سٹال لگانے کیلئے 2008ء میں ریلوے حکام نے معاہدہ کیا تھا اب آٹھ سال کے بعد اس معاہدے کی ازنو تجدید نہیں کی گئی جس سے ادارہ کو سالانہ پچاس لاکھ سے زائد کا نقصان ہورہا ہے راولپنڈی ریجن کے افسران میل اور ایکسپریس ٹرین کی 750 گھنٹے بندش کے باوجود انہی دنوں میں اضافی تیل کی کھپت دکھا کر 22لاکھ روپے ہضم کرگئے ہیں رپورٹ کے مطابق بزنس ٹرین چلانے والی کمپنی نے ریلوے کو 47 کروڑ روپے ادا کرنے سے انکار کردیا ہے اور اس نقصان میں ریلوے حکام کی سازباز بھی شامل ہے نجی کمپنی فور برادرز اور ایئر ریلوے کے سروسز یہ رقوم دینے سے انکاری ہیں اور ان کمپنیوں کے پیچھے ریلوے حکام بھی شامل ہیں یہ ٹرینیں لاہور اور کراچی کے مابین چلائی گئی تھیں معاہدے کے مطابق 47 کروڑ ابھی تک وصول نہیں ہوسکے ۔