Cloud Front
baaghitv

ایشیائی امن تباہی کے دہانے پر…!

بھارت کی پالیسیوں کی بدولت خطے کا امن داؤ پر لگ چکا ہے، داعش کو ہتھیار یا مالی امداد مہیا کرنے کا معاملہ ہو یاکشمیر سے لے کر افغانستان اور سری لنکا سے لے کر بلوچستان تک دیگر ممالک میں غیر قانونی اور مجرمانہ مداخلت کا تذکرہ ہو۔ ہمیں ہر جگہ بھارت کا ناپاک کردار دکھائی دیتا ہے۔ بھارت جو اندرونی طور پر بے تحاشا مسائل کا شکار ہے اور خالصتان سمیت 32 سے زائد علیحدگی پسند تحریکوں کا سامنا اندرونی طور پر کر رہا ہے اور بیرونی سطح پر اسے کشمیر جیسے محاز پر نبرد آزما ہونا پڑ رہا ہے اب بالکل پاگل پن کی حدوں کو چھونے لگا ہے۔

تفصیلات کے مطابق بھارت اپنی افواج کو ایم 777 توپیں مہیا کرنے کی آڑ میں خفیہ طور پر کیمیائی ہتھیار خرید رہا ہے۔ بھارت کی اندرونی اور بیرونی صورتحال کو دیکھیں تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ بھارت کیمیائی ہتھیار کیوں خریدرہا ہے۔ بھارت کے پاس موجود ایٹمی ہتھیار وں کی کارگردگی سے متعلق بھارت خود بھی غیر مطمئن ہے ۔ بھارت ان ہتھیاروں کا استعمال نہ تو کشمیر میں کر سکتا ہے اور نا ہی سکھوں کے خلاف ایٹمی ہتھیار استعمال کر سکتا ہے۔

بھارت کے ایٹمی ہتھیار اس وجہ سے بھی کشمیر کےلیے بیکار ہیں کہ اگر ان کا استعمال بھارت کرے گا تو بھارت کو عالمی سطح پر پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا عین ممکن ہے کہ بھارت سے ایٹمی ہتھیار واپس لینے کی عالمی مہم چل جائے۔ ایک بڑی وجہ بھارت کے عدم تحفظ کی یہ بھی ہے کہ ناقص کارگردگی والے ایٹمی ہتھیار چھوٹے پیمانے پر تباہی پھیلانے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔ یعنی کشمیر حریت پسندوں کے ساتھ مکمل جنگ کی صورت میں بھارت وہاں محدود پیمانے پر کوئی بھاری کاروائی اپنے ایٹمی ہتھیاروں سے نہیں کر سکتا نہ ہی پاکستان کے خلاف۔ اس ساری صورتحال کو دیکھیں تو واضح ہو جاتا ہے کہ بھارت کو کیا ضرورت پڑی کہ بھارت کیمیائی ہتھیاروں کو خریدنے چل نکلا۔ایٹمی ہتھیاروں کے مقابلے میں کیمیائی ہتھیار کم لاگت سے تیار ہوتے ہیں مگر یہ تباہی پھیلانے میں ایٹم بم پر بھی سبقت لے جاتے ہیں۔

باوجود اس حقیقت کے کہ بھارتی افواج میں انتہائی بڑے پیمانے پر کرپشن ہوتی ہے ، بھارت نے 777 ملین ڈالرز کا معاہدہ کیا ہے جو کہ تقریبا چھ ہزار کروڑ پاکستانی کرنسی میں بنتے ہیں۔ بھارت اس معاہدے کے تحت وہ توپیں خرید رہا ہے جن کی مدد سے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ نہتے کشمیری جن کے خلاف پہلے بھارت نام نہاد کم نقصان دینے والی پیلٹ گنیں استعمال کر رہا تھا اب پیلٹ گن پر بس نہیں کر ےگا۔ بقول بھارت کے کم نقصان دینے والی ان پیلٹ گنوں کے استعمال سے محض 5 ماہ میں 4400 سے زائد کشمیری آنکھوں سے محروم ہوئے۔ لیکن شائد بھارت اب کشمیر کے مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانا چاہتا ہے۔

بھارت جو پہلے گجرات میں مسلمانوں کی نسل کشی کا مرتکب ہو چکا ہے اس سے کچھ بعید نہیں کہ جلد یا بدیر وہ کشمیرمیں کیمیائی ہتھیار استعمال کرے گا۔ بھارتی پارلیمنٹ اس وقت مکمل طور پر ہندو انتہا پسندوں کے قبضے میں ہے اور ماضی کی بھارتی پالیسیاں اس بات کی گواہ ہیں کہ بھارت میں پالیسی سازی کا مرکزی عمل ہمیشہ سے انتہا پسندوں کے قبضے میں رہا ہے۔ اقوام متحدہ سمیت تمام عالمی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھارت کے ارادوں کا بروقت نوٹس لیناچاہیے اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔

کیمیائی ہتھیار اور ان کا استعمال بین الاقوامی طور پر ممنوع ہے۔ کیوں کہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال نہ صرف جسمانی طور پر تباہ کن ثابت ہوتا ہے کہ بلکہ کیمیائی ہتھیاروں کے متاثرین اگر زندہ بچ جائیں تو بھی مستقل طور پر نفسیاتی امراض کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے انسان کا اعصابی نظام مکمل طور پر درہم برہم ہو جاتا ہے، انسان کے نروس سسٹم میں ہولناک تباہی کی وجہ سے آنکھوں ، ناک اور کانوں سے خون جاری ہو جاتا ہے جس سے انسان تکلیف دہ موت کا شکار ہو کے ہلاک ہو جاتا ہے۔

بھارت جیسا انتہا پسند ملک جو گائے کے گوشت کو بنیاد بنا کر بے گناہ انسانوں کو زبح کرتا ہے اس کے پاس ایسے ہتھیاروں کی موجودگی نہ صرف کشمیریوں اور سکھوں کےلیے مضر ہے بلکہ اس سے پورے ایشیا کی سلامتی داؤ پر لگ جاتی ہے۔ اس سے پہلے بھارتی اسٹیبلشمنٹ کے اعلی احکام یورینیم کی سمگلنگ میں ملوث پائے گئے ہیں۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا تھا کہ نیم افزودہ یورینم داعش کو پہنچائی جانی تھی جس کا الزام بعد میں پاکستان پر لگایا جاتا۔ ان حالات میں اگر بھارت کے پاس کیمیائی ہتھیار آ جاتے ہیں تو اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ کل کو وہ ہتھیار بھارت داعش جیسی انتہا پسند تنظیموں کو مسلمانوں کے خلاف استعمال کرنے کےلیے مہیا نہیں کرےگا۔ اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ بھارت کے جنون کوقابو میں رکھتے ہوئے اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں بھارت کی بازپرس کریں۔