Cloud Front
Senat

قائمہ کمیٹی قومی ہیلتھ سروسز نے امتناع تمباکو نوشی ترمیمی بل 2016 منظور کرنیکی سفارش کر دی

ملک میں غیر معیاری اور مضر صحت سگریٹ فروخت ہو رہے ہیں ، غیر قانونی طور پر تیار ہونے والی سگریٹ پر کوئی ٹیکس نہیں دیتا ،ذیلی کمیٹی کی رپورٹ

اسلام آباد : سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی ہیلتھ سروسز نے امتناع تمباکو نوشی ترمیمی بل 2016 منظور کرنے کی سفارش کر دی ۔ بل کے تحت پبلک جگہوں اور ملحقہ علاقوں میں سگریٹ نوشی کرنے کی معامنت ہو گی ملک میں غیر معیاری اور مضر صحت سگریٹ فروخت ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے صحت کے مسائل جنم لے رہے ہیں کمیٹی نے تعلیمی اداروں اور دیگر جگہوں پر پیئے جانے والے شیشہ اور اس کے مختلف اقسام پر بھی بین لگانے کی سفارش کر دی ۔ سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی ہیلتھ سروسز کا اجلاس سینیٹر میاں محمد عتیق شیخ کی زیر صدارت بدھ کو پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا اس موقع پر ذیلی کمیٹی کی امتناع تمباکو نوشی ترمیمی بل 2016 کی رپورٹ پیش کی گئی امتناع تمباکو نوشی ترمیمی بل 2016 سینیٹر مشاہد حسین سید نے پیش کیا تھا ۔

ذیلی کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں غیر معیاری اور مضر صحت سگریٹ فروخت ہو رہے ہیں اس کے علاوہ غیر قانونی طور پر تیار ہونے والی سگریٹ پر کوئی ٹیکس نہیں دیتا جس کے سبب ریونیو کا نقصان ہو رہا ہے اس پر وزارت صحت کے حکام نے کہا کہ یہ بل پرائیویٹ ممبر کے طور پر پیش کیا تھا اس لئے ان کی مخالفت کرتے ہیں وزارت قانون کے حکام نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد صحت کا شعبہ صوبوں کو منتقل ہو گیا ہے اس لئے 2002 ء میں بنائے گئے قوانین کی اہمیت ختم ہو گئی ہے اگر یہ بل پاس ہو گیا تو اس کا اطلاق اسلام آباد کی حدود میں ہو گا جس پر کمیٹی کے ممبر نعمان وزیر خٹک نے کہا کہ اگر صوبے 18 ویں ترمیم کے بعد قانون سازی نہ کریں تو وفاق بھی نہ کرے ۔ قانون سازی نہ ہونے کا زیادہ نقصان کے پی کے اور بلوچستان کو ہو رہا ہے جس پر کمیٹی نے متفقہ طور پر امتناع تمباکو نوشی ترمیمی بل 2016 پاس کرنے کی سفارش کر دی ۔ کمیٹی میں سینیٹر اعظم خان سواتی کی جانب سے شیشہ سموکنگ بل 2016 کی رپورٹ پر بھی غور و خوض کیا گیا کمیٹی نے تعلیمی اداروں سمیت دیگر جگہوں پر شیشہ سموکنگ پر پابندی لگانے کی سفارش کر دی ۔