Cloud Front
SUprem Court

پانامہ کیس:سپریم کورٹ نے کمیشن کے قیام کیلئے فریقین سے جواب طلب کرلیا

مریم نواز وزیر اعظم کی زیر کفالت نہیں،وزیر اعظم کی تقریر سیاسی تھی ،40 سال کا ریکارڈ کہاں سے لائیں، وکیل سلمان کا عدالت میں جواب
بٹ صاحب کسی چیز کا ریکارڈ نہ رکھنے کا موقف خطرنا ک ہے،عدالت عظمیٰ
نواز شریف ہمارے بھی وزیر اعظم ہیں،وزیر اعظم اور ان کے بچوں کے وقار کا لحاظ ہونا چاہیے ،وزیر اعظم کوالزامات پر وضاحت دینا ہو گی ، جب تک الزام ثابت نہیں ہوتا وہ قابل احترام ہیں ،راجا پرویز اشرف توہین عدالت میں پیش ہوئے ان کو پوری عزت دی ،جسٹس آصف سعید کھوسہ کے ریمارکس

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کی تحقیقات سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران فریقین سے کمیشن کے قیام کے لیے جواب طلب کرلیا ۔ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 5 رکنی بنچ پاناما لیکس کیس کی سماعت کر رہا ہے ،

عدالت کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات کا جواب نہیں آیا جبکہ وزیر اعظم کے وکیل نے کہا ہے کہ چالیس سال کا ریکارڈ کہاں سے لائیں وزیر اعظم نے جوتقاریر کیں وہ سیاسی تھیں۔ جسٹس عظمت سعید نے سماعت شروع ہونے پر وزیر اعظم کے وکیل سلمان اسلم بٹ سے استفسار کیا کہ وزیر اعظم نے بیٹی کے لیے زمین کس سال خریدی ، وکیل کا کہنا تھاکہ زمین نو اپریل 2011 میں خریدی گئی ، جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ مریم نواز نے زمین کی رقم کب ادا کی ہمیں بھی پتہ ہے کہ اس ٹرانزکشن میں ہوا کیا ہے ، عام طور پر سب ایسا ہی کرتے ہیں ، وزیر اعظم نے رقم تحفہ میں بیٹی کو دی ،

مریم نواز نے یہ رقم زمین کی قیمت میں واپس کردی ،زیر کفالت ہونے کا معاملہ ابھی حل نہیں ہوا ،وکیل کا کہنا تھا کہ مریم نواز جاتی امرا میں رہتی ہیں ،جاتی امرا میں بہت سے خاندان رہتے ہیں ،جسٹس عظمت نے استفسار کیا کہ کیا جاتی امرا کی زمین مریم نواز کے نام ہے جس پر وکیل نے کہا کہ نعیم بخاری نے واجبات اور اثاثوں کو آپس میں ملا دیا۔ جسٹس عظمت کا کہنا تھا کہ مریم نواز کے رہن سہن کے اخراجات کہاں سے آتے ہیں ، وکیل نے بتایا کہ مریم نواز کی زرعی آمدن ہے۔ جسٹس عظمت نے کہا کہ ریٹرن کے مطابق مریم نواز کی انکم ٹیکس آمدن صفر تھی ، وکیل نے کہا کہ مریم نواز اگر والد کے گھر میں رہتی ہے تو کفالت میں نہیں آتی ،مریم نواز قانونی طور پر اپنے شوہر کی کفالت میں ہیں ،مریم نواز کی باقاعدگی سے آمدن زرعی زمین سے آتی ہے۔

جسٹس عظمت نے استفسار کیا کہ مریم نواز کی زرعی آمدن بتا دیں ، وکیل کا کہنا تھا کہ اس سال مریم نواز کی زرعی آمدن 21 لاکھ 68426 روپے تھی ،جسٹس عظمت نے کہا کہ مریم نواز کے سفری اخراجات تو 35 لاکھ روپے تھے ، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ مریم نواز کوئی ملازمت نہیں کرتیں ، میں جو سمجھا ہوں کہ مریم نواز کی زرعی آمدن کے علاوہ اور کوئی ذریعہ آمدن نہیں۔ وکیل نے کہا کہ کیپٹن صفدر کی زرعی زمین 160 کینال ہے ، جسٹس عظت سعید نے کہا کہ عدالت زیر کفالت کے معاملے کو دیکھ رہی ہے۔ وکیل کا کہنا تھاکہ ہم نے کفالت کے ایشو پر دلائل دیئے ہیں ، مریم اپنے والد کی کفالت میں نہیں ہے۔ نواز شریف کو مریم نواز کے اثاثے کاغذات نامزدگی میں ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں تھی ،آف شور کمپنیوں کی مریم نواز ٹرسٹی ہیں ،حسین نواز آف شور کمپنیوں کے بینی فشل مالک ہیں ،

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ اس موقف سے درخواست گزار نے اتفاق نہیں کیا ، اس معاملے کا فیصلہ یہاں نہیں ہو سکتا ،ہو سکتا ہے دستاویز کے جائز ے کے لیے کمیشن بنانا پڑے ،دونوں فریقین اپنی دستاویزات پر انحصار کر رہے ہیں ،ہمارے لیے دستاویزات کا جائزہ لینا ممکن نہیں ،اس لیے کمیشن بنانے کا باب کھلا رکھا ہے ،کیا الیکشن کمیشن نے وزیر اعظم سے متعلق معاملہ زیر التوا ہے ،

وکیل نے بتایا کہ یہ معاملہ الیکشن کمیشن میں زیر التوا ہے ،سپیکر قومی اسمبلی نے معاملہ نمٹایا ،تحریک انصاف ہائی کورٹ چلی گئی تھی ،جسٹس آصف سعید نے ریمارکس دیئے کہ دونوں فورمز پر معاملہ زیر التوا ہے کیا چاہتے ہیں عدالت عظمی 183کے ذریعہ مداخلت نہ کرے ،اس موقع پر چیف جسٹس نے سلمان بٹ سے وزیر اعظم کے خاندان کے 62 اور 63 کے حوالے سے ہائی کورٹ اور الیکشن کمیشن میں زیر التوا امور کی تفصیلات طلب کرلیں،جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ کیا ٹرسٹی کو کمپنیوں کا ٹیکس نہیں دینا پڑتا ،وکیل کا کہنا تھا کہ دونوں کمپنیاں آف شور ہیں اس لیے ٹیکس ادائیگی کا معاملہ نہیں ،برطانوی قانون میں ایسے ٹرسٹ کی اجازت ہوتی ہے جس کی رجسٹریشن کی ضرورت نہیں ،

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ بعض دستاویزات کے مطابق مریم تو بینی فشل مالک ہیں ،دستاویزات میں لکھا ہے کہ کمپنی کو کسی ٹرسٹ کا علم نہیں ،وکیل کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں ٹرسٹ کا قانون بڑا لچکدار ہے ،جسٹس اعجاز نے کہا کہ کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ یہ ایک پرائیویٹ انڈراسٹینڈنگ ہے ،کیا ٹرسٹ بنانے کے معاملے پر موسیک کمپنی کو آگاہ نہیں کر نا چاہیے تھا ،وکیل کا کہنا تھا کہ موسیک کو آگاہ کرنے کی ضرورت نہیں تھی ،بڑے بڑے بحری بیڑے پانامہ میں رجسٹرڈ ہیں ،جسٹس اعجاز نے کہا کہ موسیک نے کس بنیاد پر مریم کو بینی فشل مالک قرار دیا ہے ،وکیل نے جواب دیا کہ مجھے ایسی کسی دستاویزات کا علم نہیں ،

اب میں وزیر اعظم کی تقریر میں مبینہ تضاد پر بات کروں گا ،جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ٹرسٹ ڈیڈ پر بات ابھی ختم نہیں ہوئی ،کیا آپ کومبر کمپنی اور دیگر دستاویزات سے انکاری ہیں ،وکیل کا کہنا تھا کہ اس پر میں بعد میں بحث کروں گا ،جسٹس آصف نے ریمارکس دیئے کہ ہمارے استاد کہتے تھے کہ جج صاحب سوال کریں تو فوری اس کا جواب دیں ،وکیل سلمان اسلم بٹ کا کہنا تھا کہ استادیہ بھی کہتے ہیں کہ اس طرح کی صورتحال میں ایشو کو تھوڑا ٹچ کرکے آگے نکل جائیں ،گلف اسٹیل ملز کے مجموعی واجبات نعیم بخاری نے 36ملین درہم بتائے ،عمران خان کے وکیل نے کہا کہ 21 ملین درہم بینک کو دے کر باقی 14اعشاریہ 6 ملین درہم واجبات ادا کیے ،گلف سٹیل کے پانی کے واجبات قسطوں میں ادا کئے گئے ،جسٹس عظمت نے کہا کہ کیا پانی کے واجبات طارق شفیع نے ادا کیے ،جس پر وکیل نے جواب دیا کہ طارق شفیع نے واجبات ادا کیے ،جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ خسارے کی فیکٹری سے واجبات کیسے ادا کیے ،وکیل نے کہا کہ 1978 میں نئی انتظامیہ آنے کے بعد فیکٹری منافع میں چلی گئی ،چالیس سال پرانا ریکارڈ کہاں سے لائیں ،فیکٹری کے 75 فیصد شیئرز کا معاہدہ موجود ہے ،دبئی کے بینک صرف پانچ سال کا ریکارڈ رکھتے ہیں ،1980 کا ریکارڈ کہاں سے لاؤں،1999میں تمام ریکارڈ قبضے میں لے کر سیل کردیا گیا تھا ،کمپنیوں کی بک ویلیو کچھ اور جبکہ اصل قیمت کچھ اور ہوتی ہے ،

دستاویزات بک ویلیو پر تیار ہوتی ہیں ،بڑے بڑے شہروں میں کاروبار پرچی پر ہوتا ہے ،جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ بٹ صاحب یہ موقف بڑا خطرناک ہے ،کسی چیز کا ریکارڈ نہ رکھنا خطرنا ک ہے ،وکیل نے کہا کہ 1978میں نواز شریف طالب علم تھے پوری کہانی میں نواز شریف کاذکر نہیں ہے ،نواز شریف کا نام نہ تو پنامہ کیس میں ہے نہ ہی کسی متعلقہ دستاویز میں ہے ،جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ عوامی عہدہ رکھنے پر ایسی مشکلات تو ہوتی ہیں ،وکیل نے کہا کہ دبئی فیکٹری کے کاغذات وہاں سے حاصل کیے ،میرے پاس تو ریکارڈ نہیں تھا 1999 میں تو تمام ریکارڈ ضبط کرلیا گیا تھا ،جسٹس ا?صف سعید نے کہا کہ وزیر اعظم نے تو تقریر میں کہا کہ تمام ریکارڈ موجود ہے پیش کیا جاسکتا ہے ،

وکیل کا کہناتھا کہ بی سی سی ا?ئی کے ساتھ 1978 میں 21 ملین درہم میں معاملات طے پائے تھے 25 فیصد شیئرز کی فروخت پر بارہ ملین درہم ملے ،وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں کہا تھاکہ 1999میں ریکارڈ ضبط کرلیا گیا تھا ،وزیر اعظم کا ایک بیان دبئی اور دوسرا بیان جدہ سے متعلق ہے ،تیسرا بیان لندن فلیٹس کے حوالے سے ہے ،جسٹس اعجاز نے کہا کہ وزیراعظم نے تقریر میں قطری خط کا زکر نہیں کیا ،وکیل نے کہا کہ سیاسی لوگ سیاسی تقاریر کرتے ہیں ،یہ عدالتی ریکارڈ نہیں سیاسی تقاریر ہیں ،بارہ ملین درہم تین اعشاریہ چھ ملین ڈالر بنتے ہیں ،دوبارہ اثاثے قومیانے سے بچانے کے لیے باہر رکھے ،جسٹس اعجاز نے کہا کہ مشکل بات ہے کہ قطر میں سرمایہ کاری کا ریکارڈ ہی نہیں ،رقم کی قطر منتقلی کا بھی ریکارڈ نہیں ،وکیل نے کہا کہ سرمایہ کاری شریف فیمیلی نے کی تھی ،شریف فیملی کا مطلب نواز شریف نہیں ہے،جسٹس اعجاز نے کہا کہ کیا آپ کہناچاہتے ہیں کہ یہ سارا معاملہ میاں شریف اور پوتوں کے درمیان تھا ،نواز شریف کو ان باتوں کا علم نہیں تھا ،وکیل نے کہا کہ ہو سکتا ہے نواز شریف کو علم ہو ،تمام امور میاں شریف کنٹرول کرتے تھے ،جسس اعجاز الا حسن نے کہا کہ قطری سرمایہ کاری سے متعلق امور کیسے طے پائے ،وکیل نے جواب دیا کہ اس زمانے میں کام کیش پر بہت کم ہوتا تھا ،

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ اگر مان لیں ابا جی نے یہ کام کیا تو مجھے معلوم نہیں کہ اس کے اثرات کیا ہوں گے ،وزیر اعظم نے تقریر میں کہا دبئی جدہ کا ریکارڈ موجود ہے ،کیا وزیر اعظم نے درست نہیں کہا ،وکیل نے کہا کہ جو ریکارڈ تھا پیش کردیا ،مزید دستاویزات بھی پیش کرسکتے ہیں ،وزیر اعظم کی تقریر میں کوئی تضاد نہیں ،جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ عدالت قانون سے ہٹ کر فیصلہ نہیں کرتی ،وزیر اعظم نے تقریر میں خود کہا کہ تمام ریکارڈ دستیاب ہے ،جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا کہ یہ جو بات کہہ رہے ہیں بہتر ہوتا کہ عوام میں بھی کہہ دیتے ،آج آپ کہہ رہے ہیں کہ تقریر سیاسی تھی ،جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ تمام زندگی ریکارڈمحفو ظ رکھنا ممکن نہیں ،

کیا عدالت کے سامنے یہ جواب مناسب ہیں ،1980 میں آپ کے پاس بارہ ملین درہم تھے وہاں سے بات شروع کریں ،وزیر اعظم ہمارے بھی وزیر اعظم ہیں ،وزیر اعظم اور ان کے بچوں کے وقار کا لحاظ ہونا چاہیے ،وزیر اعظم کوالزامات پر وضاحت دینا ہو گی ،وضاحت کے دوران ان کی عزت و تکریم پر کوئی بات نہیں ہونا چاہیے ،جب تک الزام ثابت نہیں ہوتا وہ قابل احترام ہیں ،راجا پرویز اشرف توہین عدالت میں پیش ہوئے ،عدالت نے ان کو پوری عزت دی لیکن اپنے سوا ل بھی پوچھے ،وکیل نے بتایا کہ ہم بھی عدالت کے سوالوں کا جواب دیں گے ،جسٹس امیر ہانی مسلم کا کہنا تھا کہ تمام باتوں کا جواب عدالت میں دینا چاہیے ،عدالت میں دلائل کم اور میڈیا پر زیادہ ہوتے ہیں ،جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ میڈیا اپنے کیس کا فیصلہ کرے عدالت اپنے کیس کا فیصلہ کرے گی ،جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ وزیر اعظم نے کہا کہ جدہ اسٹیل ملز کے پیسے بچوں کو کاروبار کے لیے دیئے ،وکیل وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے یہ تو نہیں کہا کہ بچوں نے اس وقت کاروبار کیا ،کیا شریف خاندان کے 1980سے آج تک کے امور کا کھوج لگانا ہے ،جسٹس آصف سعید نے کہا کہ بالکل ہر چیزکا کھوج نہیں لگایا جاسکتا ،

ایک انٹرویو میں وزیر اعظم نے 1997 میں اپنا نام بزنس سے الگ کرنے کا فیصلہ کیا تھا ، اس انٹرویو کی سی ڈی فراہم کی جائے ،ہم یہ سمجھتے ہیں کہ کسی کی تمام زندگی کا حساب نہیں لگایا جاسکتا،کیا یہ موقف قانون کی نظر میں قابل قبول ہے ،وکیل نے کہا کہ ریکارڈ کے حصول کے لیے ہائی کورٹ میں درخواست دی تھی ،دوہزار بارہ میں ہائی کورٹ نے ریکارڈ دینے کا حکم جاری کیا ،عدالتی حکم کے باوجود پورا ریکارڈ نہیں ملا ،ریکارڈ نہ دینے پر نیب کو عدالت نے جرمانہ بھی کیا ،عدالت نے سپیکر کے پاس نواز شریف کے خلاف ریفرنس کا ریکارڈ بھی طلب کرلیا،چیف جسٹس نے کہا کہ عمران خان اور آپ نے دستاویزات فراہم کی ہیں ،کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ہم ان دستاویزات پر دلائل سن کر فیصلہ کردیں ،درخواستوں میں کرپشن کے الزامات لگائے گئے ،درخواست گزار کا موقف ہے کہ حسن ،حسین اور مریم کی ملکیت میں فلیٹ کیسے آئے ،اگر ہم فیصلہ نہیں کرسکتے تو اس بحث کے بعد کس نتیجے پر پہنچیں گے ،دونوں فریقین نے دستاویزات پر اعتراض کیے ہیں ،وکیل کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کا پانامہ اور حبیبیہ پیپرز میں نام نہیں ہے ،جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ عمران خان ٹرسٹ ڈیڈ تسلیم نہیں کرتے ،

آپ کو اس اعتراض پر وضاحت دینا ہو گی ،وزیر اعظم کی دستاویزات کے حوالے سے تمام سوالوں کے جو اب نہیں آئے ،اس پر جھگڑا نہیں کہ فلیٹ نیلسن اور نیسکول کی ملکیت ہیں ،آپ کا موقف ہے کہ 2006 میں یہ کپمنیاں حسین نواز کے پاس آگئیں ،مونرواہ کمپنی کو سروس دینے کا کس نے کہا ،کمپنی کے حوالے سے دستاویزات عدالت کو نہیں دی گئیں ،وزیر اعظم کے وکیل نے کئی سوالات کے جواب نہیں دیئے ،جسٹس آصف سعید نے کہا کہ قطری خط کی تصدیق ضروری ہے ،وزیر اعظم کے وکیل نے کمیشن بنانے کی حمایت کردی اور کہا کہ انصاف کے تقاضوں کے لیے کمیشن کا قیام ضروری ہے ،انصاف پر سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے ،چیف جسٹس نے کہا کہ عمران خان اور آپ نے دستاویزات فراہم کی ہیں ،کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ہم ان دستاویزات پر دلائل سن کر فیصلہ کردیں ،درخواستوں میں کرپشن کے الزامات لگائے گئے ،درخواست گزار کا موقف ہے کہ حسن ،حسین اور مریم کی ملکیت میں فلیٹ کیسے آئے ،

اگر ہم فیصلہ نہیں کرسکتے تو اس بحث کے بعد کس نتیجے پر پہنچیں گے ،دونوں فریقین نے دستاویزات پر اعتراض کیے ہیں ،جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ عمران خان ٹرسٹ ڈیڈ تسلیم نہیں کرتے ،آپ کو اس اعتراض پر وضاحت دینا ہو گی ،وزیر اعظم کی دستاویزات کے حوالے سے تمام سوالوں کے جو اب نہیں آئے ،

اس پر جھگڑا نہیں کہ فلیٹ نیلسن اور نیسکول کی ملکیت ہیں جسٹس عظمت کا کہنا تھا کہ تشنگی کی بنیاد پر فیصلہ کیسے کردیں ،جسٹس آصف سعید نے کہا کہ حاکم وقت حساب دینے کے لیے عدالت میں آتا ہے ،حساب ان کے خلاف ہوا تو فیصلہ دینے میں بھی کوئی مسئلہ نہیں ہو گا ،حساب وزیر اعظم کے حق میں گیا تو تب بھی فیصلہ نہیں ہو گا ،سپریم کورٹ نے کمیشن کی تشکیل کے معاملے پر فریقین سے رائے طلب کرلی چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہماری طرف سے کمیشن کے حوالے سے کوئی دباؤ نہیں ہے کمیشن بنا تو اس کا دائرہ کار محدود ہو گا ،کمیشن سپریم کورٹ کے جج پر مشتمل ہو گا ،کمیشن کو تمام اداروں کی معاونت حاصل ہو گی،پی ٹی آئی کی طرف سے مشاورت کے لیے مہلت مانگنے پر عدالت نے سماعت نو دسمبر تک ملتوی کردی۔