Cloud Front
Muhammad SAW

موجودہ دور کے مسائل اور انکا اسوۃالرسول ﷺمیں حل

نگاہ عشق ومستی میں وہی اول وہی آخر
وہی قرآن وہی فرقان وہی یٰسں وہی طحٰہ
تمام تعریفیں اللہ رب العز ت کے لئے ہیں جو اپنی ذات اور صفات میں یکتا ہے۔۔ وہی معبود وہی مالک اور وہی خالق ،وہی عظمتوں والا رب۔۔۔۔ جس کی رحمتیں کائنات کا احاطہ کئے ہوئے ہیں۔۔ جس کی ذات و صفات اس کے عاشقین کو حیرت میں ڈال دیتی ہے۔۔ کتنا کریم ہے وہ رب جس نے انسان کو بنایا پھر اسے علم سے سرفراز کیا۔۔۔ جو خود علام ہے اور اپنی ذات کی جستجو کرنے والوں کو عالم بنا دیتا ہے۔۔
کتناعظمتوں والا ہے وہ رب جس کی عظمت انسانی دماغ میں سما نہیں سکتی۔۔ جہاں قل انسانیت ، جن و ملائیکہ کی سوچ و شعور اس کی عظمتوں سے متعلق پہنچتے ہیں۔۔۔ وہاں سے اس کی عظمتوں کا آغاز ہوتا ہے۔۔ بے شک وہ اپنی ذات اور صفات میں بے مثل ہے۔۔

کتناعظمتوں والا ہے وہ رب جس نے ہمارے درمیاں اس ہستی کو بھیجا، جس نے ہم جیسوں کو رب کی رحمتوں سے روشناس کروایا۔۔ جو رحمت العالمین ہیں، جو عالمین کو اللہ کی رحمتوں کی خوشخبری سنانے والے اور اللہ کے پیغام سے خبر دار کرنے والے ہیں۔۔

اللہ کی رحمتیں ہوں اس ذات مقدس پر جو دشمنوں پر بھی رحم کرنے والے، گرے ہؤں کو اٹھانے والے، ٹوٹے ہوئے قلوب کو جوڑنے والے ہیں۔۔۔ جن کا لایا ہوا دین سلامتی والا ہے۔۔جو ان کے غلاموں کے درمیان۔۔۔ محبت اور اتحاد پیدا کرتا ہے۔۔ جس پر چل کر انسان اللہ کی معرفت پاتا ہے۔۔ اور پھر اللہ رب ذولجلال والاکرام کی رحمت سے فنا کے مراحل طے کرتا ہوا مقام عبد پا جاتا ہے۔۔
کتنا عظمتوں والا ہے وہ نبی۔۔ جس کاکلمہ ہمیں نصیب ہوا۔۔۔
ازل سے ابد تک کا وقت بھی کم ہے۔۔۔۔ اللہ کی اسی ایک رحمت کا شکر ادا کرنے کے لئے۔۔۔۔ کہ ہم اس نبی صلی اللہ علیہ و آلٰہ وسلم کے امتی ہیں۔۔۔۔ جن پر درود و سلام۔۔۔۔ خود اللہ سبحان و تعالٰی کی ذات بھیجتی ہے جو مالک ازل و ابد ہے جو محدود اور لا محدود کا مالک و خالق ہے۔۔

اللہ اور اس کے ملائکہ درود بھیجتے ہیں نبی پر اے ایمان والو،تم بھی اس پر درود و سلامتی بھیجو

اللہ رحمان ہے اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ و آلٰہ وسلم رحمت اللعالمین۔۔

ہم نے آپ کو عالمین کے لئے رحمت بنا کر بھیجا

ایک لا محدود نظر آنے والی کائینات۔۔۔ جس کی حدود صرف اس کو بنانے والا ہی جانتا ہے۔۔۔ اسی کائینات میں۔۔ ایک انتہائی چھوٹا سا نظام شمسی۔۔۔اس نظام شمسی میں ایک انتحائی چھوٹا سیارہ۔۔۔زمین۔۔۔۔ اس زمین پر ایک چھوٹی سی مخلوق انسان۔۔۔ یہ اللہ کی رحمت ہی ہے کہ ایک ایسی مخلوق جس کا ہونا اور نا ہونا برابر ہے۔۔ اللہ نے اس انسان کو اشرف المخلوقات ٹھہرایا اور اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ و آلٰہ وسلم انہی انسانوں میں رہبر و ہادی اور خوشخبری سنانے والا،خبردار کرنے والا اور فی سبیل اللہ اور صراط مستقیم کی طرفرہنمائی کر نیوالا بنا کر بھیجا۔ اور سب سے بڑھ کر ایک ایسی مخلوق جو انبیاء4 کے طریقے بھلا کر دینی، سماجی، معاشی اور معاشرتی بت پرستی کا شکار بن چکی تھی اسے تمام جھوٹے خدا ؤں سے آزادی دلا کر آزاد کروانے والا بنا کر بھیجا۔

بتحقیق تمہارے لیے اللہ کے رسول میں بہترین نمونہ ہے، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ اور روز آخرت کی امید رکھتا ہو اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرتا ہو

یہ فیض محمدی صلی اللہ علیہ و آلٰہ وسلم ہی تھا کہ وہ عرب جو سینکڑوں بتون کی پوجا کرتے یہاں تک کے مظاہر فطرت اور جنات و شیاطین کے شر سے بچنے کے لئے انہیں بھی خدا جانتے۔۔ وہی عرب صرف چند دہائیوں میں ہی دنیا کی امامت کا بیڑا اٹھاتے ہیں۔۔ صدیوں سے جاری دشمنیاں ، جہالت اور مکروہ رسومات۔۔۔ جو ان عربوں کی پہچان ہوتی ہے اور جن پر یہی عرب فخر کرتے اور غیر عرب ان کی بنیاد پر عربوں کا مذاق اڑاتے ہیں۔۔۔وہی عرب دنیا کو جدیدیت کی راہ دیکھاتے ہیں۔ اور تہذیب و تمدن کو عروج تک پہنچاتے ہیں۔۔
لوح بھی تو قلم بھی تو تیرا وجود الکتاب
گنبدِ آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حجاب
عالمِ آب و خاک میں تیرے حضور کا فروغ
ذرہ ریگ کو دیا تو نے طلوعِ آفتاب
شوکت سنجر وسلیم تیرے جلال کی نمود
فقر و جنید بایزید تیرا جمال بے نقاب

حضور بنی کریم صلی اللہ علیہ و آلٰہ وسلمکی اسوۃ الحسنہ کو اللہ رب العزت نے رہتی دنیا کے لئے عملی نمونہ کہا۔۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلٰہ وسلم کی اسواۃ الحسنہ کا اولیں درس معاشرتی ،نظریاتی اور معاشرتی توحید کا قیام ہے۔۔
حضور صلی اللہ علیہ و آلٰہ وسلم کی اسوۃ الحسنہ کا سب پہلا اور بڑا درس توحید باری تعالٰی کا معاشرتی، معاشی اور نظریاتی طور پر قائم کرنا ہے۔ آپ کی حیات طیبہ بتاتی ہے کہ جب انسان رب العزت کے سامنے سر تسلیم خم کر دیتا ہے تو وہ ہر قسم کے خوف سے آزاد ہو جاتا ہے۔۔۔ اسے صرف اللہ کا خوف ہوتا ہے اور یہ خوف ہی اس کے عمل کا اساس بنتا ہے۔ اب اسے کسی کا خوف نہیں ہوتا اسی لئے وہ بے فکر ہو کر حق بات کرتا ہے۔
توحید گویا اس انسان کو جو پہلے مختلف خداوں کو راضی کرنے کے چکروں میں پڑا ہوتا ہے۔۔۔ آزاد کر دیتی ہے۔۔۔۔ اسے بولڈ کر دیتی ہے اور اسے دلیر بنا دیتی ہے۔۔۔
اللہ عدل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔۔ عدل کے معنی ہیں ہر چیز کو اس کے مقام پر رکھنا۔۔۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلٰہ وسلم کی اسوۃ الحسنہ پر عمل کرنے کا سب سے بڑا فیضان مسلمانوں میں خیر و شر کے کونسیپٹ کا پیدا ہو جانا ہے۔۔۔ مسلمان عادل ہوتا ہے جو ہر کام ہر فکر اور ہر رشتے میں عدل قائم کرتا ہے۔۔۔
توحید ہر مقام پر انڈی پینڈنس آف مائینڈ اور درست سمت کی طرف رہنمائی کرتی ہے اور توحید پرست کا ہر فیصلہ عدل پر ہوتا ہے۔۔۔ اس کے لئے فیصلہ صرف میرٹ پر اور اللہ کے خوف کی بنیاد پر ہوتا ہے۔۔۔اور اس راہ عدل میں چاہے اسے خود نقصان اٹھانا پرے۔۔۔وہ اس کی پرواہ نہیں کرتا۔۔۔
جبکہ دوسری طرف بت پرست نے مختلف خداوں کو راضی کرنا ہوتا ہے۔۔ اور خدا بھی وہ جواس کی سوچ

اور خوف کی وجہ سے خدا ہوتے ہیں جن کی بقا اس کے خوف پر ہوتی ہے یہ ہی وجہ ہے کہ کئی بار ایک کی رضا پر دوسروں کی ناراضگی کا احتمال ہوتا ہے اور یوں زندگی سے فیصلے کی طاقت چھن جاتی ہے اور انساں عظمت کردار سے محروم ہو جاتا ہے۔۔۔
توحید پرست جب لا الٰہ الااللہ کہتا ہے تو وہ گویا صرف کچھ الفاظ ہی نہیں بولتا بلکہ وہ فکری، نظریاتی، معاشرتی اور معاشی توحید کا اعلان کرتا ہے۔۔۔ کیونکہ اللہ رب العزت کی ربوبیت کا اقرار عدل کا تقاضہ ہے۔۔ جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھرائے وہ عدل کی راہ چھوڑ کر ہی ایسا کر سکتا ہے ورنہ اللہ کی تو کوئی مثال ہی نہیں۔۔۔ وہ اپنی ذات و صفات میں یکتا ہے۔۔۔
لیکن جو شیطان کے بہکاوے میں آ جائے۔۔۔ یا توحید کا مطلب نہ سمجھ پائے وہ زبان سے تو توحید کا اعلان کرتا ہے لیکن فکری ،سیاسی، معاشی اور نظریاتی بت پرستی کا شکار رہتا ہے۔۔۔ توحید پرست سراسر عجز ،سخاوت ،عدل اور بہادری کا پیکر ہوتا ہے۔۔ یہی توحید پرستی عظمت کردار کی بنیاد بنتی ہے۔۔
بقول اقبال
بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے نا امیدی
بتا تو سہی اور آزری کیا ہے
توحید پر یقین عظمت کردار پیدا کرتی ہے۔۔ عظمت کردار صفت عدل ، اعلٰی ظرفی ،مروت ،سچائی سخاوت، اخلاق ،صلح جوئی، بہادری ،شجاعت اور متانت اور اعلٰی انسانی اقدار کو ظاہر کرتا ہے کیونکہ گل توحید کی خوشبو عظمت کردار ہے۔۔
سرکار صلی اللہ علیہ و آلٰہ وسلم کی شخصیت اور کردار کیسا تھا اس بات کا اندازہ اس واقعے سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب اللہ رب العزت نے حضور صلی اللہ علیہ و آلٰہ وسلم کو اعلان نبوت کا حکم دیا تو حضور صلی اللہ علیہ و آلٰہ وسلم نے کفار کو دعوت پر مدعو کیا۔۔۔ جب سب پہنچ گئے تو حضور صلی اللہ علیہ و آلٰہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میں
کہوں کے اس پہاڑ کے پیچھے سے دشمن کا لشکر آ رہا ہے تو کیا تم لوگ یقین کرو گے؟؟
تمام کفار یک زباں ہو کر بولے۔ کیوں نہیں۔۔ہم نے آپ صلی اللہ علیہ و آلٰہ وسلم کو ہمیشہ صادق اور امین پایا ہے۔۔
اسی اثناء میں ابوجہل اٹھا اور کہیں جانے لگا
حضور صلی اللہ علیہ و آلٰہ وسلم نے پوچھا۔۔ اے عمرو کیا تجھے میری بات پر یقین نہیں؟؟؟
ابوجہل بولا۔۔ اے بھتیجے تو نے ہمیں دعوت پر بلایا تھا۔۔اس لئے میں ہتھیار لے کر نہیں آیا۔ اب جب آپ صلی اللہ علیہ و آلٰہ وسلم کہہ رہے ہیں کہ پہاڑ کے پیچھے دشمن کا لشکر ہے تو میں اپنی حفاظت کے لئے گھر سے ہتھیار لانے جا رہا ہوں۔۔
نبی رحمت صلی اللہ علیہ و آلٰہ وسلم مسکرائے اور فرمایا کہ اگر اس پہاڑ کے پیچھے دشمن کا لشکر نہ ہو تو؟؟
ابوجہل بولا۔۔ اے بھتیجے میں اپنے نظر پر تو شک کر سکتا ہوں مگر آپ کی بات پر نہیں۔۔۔
نبی دنیا میں پیدائش سے پہلے بھی نبی ہوتا ہے۔۔ اسے بھیجا جاتا ہے ناکہ دنیا میں آنے کے بعد مقرر ہوتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلٰہ وسلم کو چالیس سال کی عمر میں اعلان نبوت کا حکم ہوتا ہے اور نبوت کے اعلان سے پہلے کا عرصہ عظمت کردار دوستوں اور دشمنوں سے منوانے میں گزرتا ہے اعلان نبوت سے پہلے ایک بار پھر دوستوں اور دشمنوں سے سرکار صلی اللہ علیہ و آلٰہ وسلم کی عظمت کردار کی گواہی لی جاتی ہے تاکہ حجت تمام ہو جائے۔۔۔ اور دل کے بیمار اور زندہ دل سب کے سامنے آ جائیں۔۔

سچا اور کردار والا انسان جو اپنے لئے پسند کرتا ہے وہی دوسروں کے لئے پسند کرتا ہے۔۔۔ وہ کوئی ایسی نصیحت نہیں کرتا جس پر خود عمل نا کرتا ہو۔۔۔ اسی لئے تو بقول واصف علی واصف سچے کے منہ سے نکلی بات سچ ہوتی ہے۔۔۔ یعنی صفت کی پہچان موصوف کی ذات بن جاتی ہے۔۔۔
اس وقت پاکستان اپنی تاریخ کے سخت ترین دور سے گزر رہا ہے۔۔ غربت ، جرائم میں اضافہ ،معاشرتی بے چینی، دہشتگردی اور شدت پسندی معاشرے کو تیزی سے کھائے جا رہی ہے تو دوسری طرف معاشی ابتری اس سب میں کیٹلسٹ کا کردار ادا کر رہی ہے۔۔
خطے میں جاری حالات۔۔ غرض کے ہر چیز مستقبل کے اندھیروں کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔۔ اوپر سے اس قوم کے صاحبان عقل اور میڈیا قوم کو مایوسی سے نکالنے کی بجائے اسے مزید مایوسیوں میں دھکیل رہے ہیں۔۔جس کی وجہ سے دن بہ دن قوم اخلاقی باختگی کا شکار ہو رہی ہے۔۔۔
دوسری طرف قوم اپنے کئے کے الزام کبھی سیاستدانوں پر دھرتی ہے تو کبھی اداروں پر۔۔۔ وہ قوم ہیں جس کا امیر، امیر سے امیر تر اور غریب، غریب سے غریب تر ہو رہا ہے۔۔ اور ہر شخص نے اپنی نفسانی خواہشات کو اپنا خدا بنا رکھا ہے۔۔ اسلام کے نام پر بننے والی ریاست آج معاشی معاشرتی اور نظریاتی بت پرستی کی لت میں بری طرح اٹی پڑی ہے۔۔۔

معاشرہ اس قدر بے حس اور تماش بین ہو چکا ہے کہ نیکی اور بدی کا فرق مٹ گیا ہے۔۔ہماری نمازیں بھی دیکھاوا ہیں ہمارے روزے بھی۔ہر کوئی گدھ ہے جو مردار خوری کو تیار ہے۔۔ وہ کون سی ایسی خصوصیت ہے جس کی وجہ سے پہلی قومیں تباہ ہوئی ہوں اور وہ ہم میں موجود نہ ہوں؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلٰہ وسلم کے قول کے مطابق
جیسے ہم ہیں ویسے ہی ہمارے حکمران ہیں۔۔
مگر کیا ہمارے مسا ئل کا کوئی حل ہے؟؟؟
جی ہاں ان حالات سے نکلنے کا حل موجود ہے اور وہ حل ہے۔۔ اسوۃ الرسول صلی اللہ علیہ و آلٰہ وسلم سے رہنمائی حاصل کرنا۔۔ اپنے نفس اور خواہشات کے پیٹرن توڑ کر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلٰہ وسلم کی
اسوۃ الحسنہ پر عمل کرتے ہوئے معاشی ،معاشرتی، سیاسی اور معاشی توحید کو زندگی کے ہر شعبے میں قائم کرنا۔۔
مجھ کو طوفاں کی موجون کا کیا ڈر
یہ گزر جائے گا رخ بدل کر
نا خدا ہیں میرے جب محمد




محمد بلال افتخار خان پروگرام کھرا سچ سے وابستہ ہیں بین الاقوامی معاملات میں کافی گرفت رکھتے ہیں قومی اور بین الاقوامی اخبارات میں بھی لکھتے ہیں اورسٹریٹیجک سٹڈیز میں ایم اے کی ڈگری رکھتے ہیں