Cloud Front
American Election

امریکی انتخاب: ’روسی ہیکنگ‘ کی تحقیقات کا حکم

ہیکنگ ہلیری کلنٹن کی انتخابی مہم کو نقصان پہنچانے کی سوچی سمجھی کوشش تھی،ڈیموکریٹس کا دعویٰ، روسی حکام کی ہیکنگ الزامات کی تردید

واشنگٹن: امریکی صدر براک اوباما نے امریکی انتخابات کے دنوں میں ہونے والے سلسلہ وار سائبر حملوں کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ان حملوں کا الزام روس پر عائد کیا جاتا ہے ، سائبر حملوں میں ڈیموکریٹک پارٹی اور صدارتی امیدوار کے ایک قریبی ساتھی کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اکتوبر میں امریکی حکام کی جانب سے روس کی جانب انگلی اٹھائی گئی تھی اور اس پر امریکی انتخابات میں دخل اندازی کا الزام عائد کیا تھا۔تاہم رپبلک پارٹی کے کامیاب امیدوار اور وائٹ ہاؤس میں صدر اوباما کے پیش رو ڈونلڈ ٹرمپ نے تسلسل سے اس سے اختلاف کیا ہے۔

America VS Russian

ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے خیال میں روس کے خلاف الزامات سیاسی نوعیت کے ہیں۔ ڈیموکریٹس کا دعویٰ ہے کہ ہیکنگ ہلیری کلنٹن کی انتخابی مہم کو نقصان پہنچانے کی سوچی سمجھی کوشش تھی روسی حکام کی جانب سے ہیکنگ کے الزامات کی تردید کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ ڈیموکریٹس نے اس وقت انتہائی ناراضی کا اظہار کیا تھا جب ہیکرز نے ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی اور ہلیری کلنٹن کی انتخابی مہم کے چیئرمین جان پوڈسٹا کے ای میل اکاؤٹس تک رسائی حاصل کر لی تھی۔ریاست الینوئے اور ایریزونا میں ورٹرز رجسٹریشن ڈیٹابیس کو بھی ہیکنگ کا نشانہ بنایا گیا تھا۔پوڈسٹا کی ای میلز تک وکی لیکس کی رسائی ہوگئی تھی اور انھیں آن لائن پوسٹ کر دیا گیا تھا۔ایک موقع پر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس کا نام لیتے ہوئے حوصلہ افزائی کی تھی کہ وہ ہلیری کلنٹن کی ای میلز ‘تلاش’ کریں، تاہم شدید ردعمل کے بعد ان کا کہنا تھا کہ وہ طنز کر رہے تھے۔

ڈیموکریٹس کا دعویٰ ہے کہ یہ ہیکنگ ہلیری کلنٹن کی انتخابی مہم کو نقصان پہنچانے کی سوچی سمجھی کوشش تھی۔وائٹ ہاؤس کے ترجمان ایرک شلٹز کا کہنا ہے کہ ‘صدر اپنے زیر اثر ایسا چاہتے ہیں کیونکہ وہ اس بارے میں بہت سنجیدہ ہیں۔’ ترجمان وائٹ ہاؤس کے مطابق تحقیقات کا یہ عمل صدر اوباما کے سبکدوش ہونے اور جنوری میں ڈونلڈ ٹرمپ کے صدارت کا عہدہ سنبھالنے سے پہلے مکمل کر لیا جائے گا۔تاہم یہ واضح نہیں کہ اس تحقیقاتی جائزے کو عوام کے سامنے پیش کیا جائے گا نہیں