Cloud Front

آسٹریلیا کیخلاف قومی ٹیم کی مستقل مزاجی سے کارکردگی فتح کی کنجی ہے ، مشتاق احمد

ہماری ٹیم مستقل مزاجی ، توجہ کے ساتھ کھیلے تو بڑی کامیابی حاصل کرسکتی ہے ، تاریخ کو دہرا سکتی ہے
بابراعظم، آسٹریلیا میں ٹرمپ کارڈ ثابت ہوں گے جبکہ مصباح، یونس اور اظہر علی سیریز میں پاکستان کو کامیابی دلانے میں نمایاں کردار ادا کریں گے، سابق کپتان

اسلام آباد: پاکستان کرکٹ کو بام عروج تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرنے والے مشتاق احمد کو آسٹریلیا کے موجودہ دورے میں بھی قومی ٹیم سے بہت توقعات وابستہ ہیں اور انہوں نے مستقل مزاجی سے کارکردگی کو فتح کی کنجی قرار دیا ہے۔ نجی ٹی وی کو دیئے گئے ایک انٹرویومیں مشتاق محمد نے کہا کہ ہماری ٹیم مستقل مزاجی اور توجہ کے ساتھ کھیلے تو بڑی کامیابی حاصل کرسکتی ہے اور تاریخ کو دہرا سکتی ہے۔آسٹریلیا کے خلاف جیت کیلئے پرامید سابق پاکستانی کپتان نے نوجوان بلے باز بابر اعظم کو پاکستان کا ٹرمپ کارڈ قرار دیا۔انہوں نے کہا بابراعظم، آسٹریلیا میں ٹرمپ کارڈ ثابت ہوں گے جبکہ مصباح، یونس اور اظہر علی سیریز میں پاکستان کو کامیابی دلانے میں نمایاں کردار ادا کریں گے،

یہ تینوں بلے باز آزمودہ ہیں اور انھیں اپنی صلاحیتوں کو ثابت کرنا ہوگا۔پاکستان کے کامیاب کپتانوں میں سے ایک مشتاق محمد نے بیٹنگ میں مسلسل جدوجہد کرنے والے یونس خان کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کے سب سے کامیاب بلے باز کو آف اسٹمپ پر کھیلنے میں درپیش دشواری پر قابو پانا ہوگا جو ان کی ناکامی کی وجہ ہے کیونکہ تجربہ کارکھلاڑی کی حیثیت سے بڑی اننگز کھیلنا ان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔آسٹریلیا کی وکٹوں پر ابتدائی تین دنوں میں باؤلرز کے کردار کو اہم گرداتنے ہوئے انھوں نے کہا کہ ایسی صورت حال میں آپ کو ایک ایسے باؤلر کی ضرورت ہوتی ہے جو گیند کو گھما سکے۔مشتاق محمد کا کہنا تھا کہ مجھے یاسر شاہ کی باؤلنگ تکنیک پر چند تحفظات ہیں اور انگلینڈ کے دورے میں انتخاب عالم اور مشتاق احمد کو میں نے اپنے تحفظات سے آگاہ کیا تھا لیکن اس سب کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ وہ پاکستان ٹیم کی ضرورت ہیں۔محمد عامر کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ‘عامر نے مجھے مایوس کیا اور مجھے ان میں فاسٹ باؤلر کی پھرتی نظر نہیں آتی۔