Cloud Front
Electricity

لوڈ شیڈنگ میں اضافے کا خدشہ

تقسیم کار کمپنیوں نے نئے بجلی کنکشن دینے پر غیر اعلانیہ پابندی عائد کردی
ڈیسکوز سٹورروں میں نئے بجلی میٹرز ، کھمبے اور تاریں کئی مہینوں سے غائب
لاکھوں صارفین نئے بجلی میٹرز کی تنصیب کیلئے واپڈا دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور ہو گئے

اسلام آباد: لوڈ شیڈنگ میں اضافے کے خدشے کے پیش نظر بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے نئے بجلی کنکشن دینے پر غیر اعلانیہ پابندی عائد کردی ہے ۔ ملک بھر میں ڈیسکوز سٹورروں میں نئے بجلی میٹرز ، کھمبے اور تاریں گزشتہ کئی مہینوں سے ختم ہونے کی وجہ سے بجلی کنکشنوں کا معاملہ التواء کا شکار ہوگیا ہے ملک بھر میں اس وقت لاکھوں صارفین نئے بجلی میٹرز کی تنصیب کیلئے واپڈا دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور ہیں ۔

ذرائع کے مطابق ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ملک بھر کے تمام ڈسکوز کے سٹور رومز خالی کردیئے گئے ہیں اور میٹروں کا تو نام نشان بھی نہیں ہے اور لاکھوں کی تعداد میں نئے کنکشن کیلئے درخواستیں وصول ہورہی ہیں اور ایک ڈسکو کو لاکھوں میٹر ضرورت ہیں ذرائع کا کہنا ہے کہ مختلف ڈسکوز کے چیف ایگزیکٹوز اپنی ضرورت سے انتہائی کم چند ہزار میٹر منگواتے ہیں اور وہ میٹر ان لوگوں کو دیئے جاتے ہیں جن کی سفارش زیادہ تگڑی ہوتی ہے اور ان کو میٹر لگاکر دے دیا جاتا ہے باقی لوگوں کو بے سہارا دفاتر کے چکر لگانے پر چھوٹ دیا جاتاہے ذرائع کا کہنا ہے کہ میٹر فراہم نہ کرنے کی ایک بڑی وجہ ٹرانسمیشن سنٹر کا اپ گریڈ نہ ہونا ہے اور ملک کی ٹرانسمیشن لائنز اتنی کمزور ہیں کہ اگر تمام صارفین کے میٹروں کیلئے درخواستیں دے رکھی ہیں انہیں میٹر فراہم کردیئے جائیں تو ٹرانسمیشن لائنوں پربوجھ بڑھ جائے گا

جس کی وجہ سے حکومت کوشش کررہی ہے کہ ٹرانسمیشن لائن کو اپ گریڈ کیا جائے اور اس کے بعد نئے میٹر اور دیگر سامان فراہم کیاجائے وزارت پانی و بجلی حکام کے مطابق سٹوروں میں سامان کی عدم دستیابی ڈسکوز کی چیف ایگزیکٹو کی ذمہ داری ہے کہ وہ سامان پورا رکھیں وزارت اپنا کام کررہی ہے لیکن ڈسکوز کے سی ای او اپنا کام صحیح طرح سے نہیں کررہے ہیں