Cloud Front
Punjab-University

یونیورسٹیوں،تعلیمی اداروں کی سیکورٹی کیلئے 2ارب 33کروڑ روپے گرانٹ

گرانٹ دوسال کے دوران جاری کی گئی،آزاد کشمیر65کروڑ،بلوچستان 23کروڑ 90لاکھ،اسلام آباد 2کروڑ 50لاکھ، گلگت بلتستان2کروڑ،خیبر پختونخوا 62کروڑ 90لاکھ ،پنجاب 61کروڑ80لاکھ اور سندھکو 3کروڑ جاری کئے گئے، دستاویزات

اسلام آباد: ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے گذشتہ دو سال کے دوران ملک بھر کی سرکاری یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں کو سیکورٹی انتظامات بہتر بنانے کیلئے مجموعی طور پر 2ارب 33کروڑ روپے کی گرانٹ جاری کی ہے ،آزاد کشمیرکی 5یونیورسٹیوں کو65کروڑبلوچستان کی 9یونیورسٹیوں اور تعلیمی ادروں کو 23کروڑ90لاکھ روپے،اسلام آباد کی 20 یونیورسٹیوں اورتعلیمی اداروں کیلئے2کروڑ50لاکھ روپے،قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی گلگت بلتستان کیلئے2کروڑ،خیبر پختونخوا کی 24یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں کیلئے62کروڑ90لاکھ روپے،پنجاب کی 40یونیورسٹیوں اور تعلیمی ادروں کے لئے61کروڑ80لاکھ روپے اور سندھ کی 6یونیورسٹیوں کیلئے 3کروڑ روپے جاری کئے گئے ہیں ۔

آن لائن کو موصول ہونے والے دستاویزات کے مطابق ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے ملک بھر کی سرکاری یونیورسٹیوں اور ان سے ملحقہ تعلیمی اداروں میں سیکورٹی کی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے گذشتہ 2سالوں کے دوران مجموعی طور پر 2آرب 33 کروڑ روپے جاری کئے ہیں دستاویزات کے مطابق سب سے زیادہ گرانٹ خیبر پختونخوا کی یونیورسٹیوں کو دی گئی ہے اور ملنے والی گرانٹ سے یونیورسٹیوں میں سیکورٹی کی صورتحال کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ یونیورسٹیوں کے ساتھ ملحقہ ہاسٹلزکی سیکورٹی بہتر بنانے اور دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کیلئے استعمال کی جائے گی

دستاویزات کے مطابق خیبر پختونخوا کی یونیورسٹیوں پر دہشت گردوں کے حملوں کے بعدہائیر ایجوکیشن کمیشن نے تمام یونیورسٹیوں کو اپنی سیکورٹی بہتر بنانے کی ہدایات کی تھی جس کے جواب میں یونیورسٹیوں کی جانب سے سیکورٹی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے اضافی گرانٹ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا دستاویزات کے مطابق مالی سال 2014/15کے دوران ملک بھر کی سرکاری یونیورسٹیوں اور ان کے ساتھ ملحقہ تعلیمی اداروں کو مجموعی طور پر 1آرب33کروڑ روپے فراہم کئے گئے جبکہ مالی سال2015/16کے دوران مذید1آرب روپے دئیے گئے ہیں دستاویزات کے مطابق ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے حکام مختلف یونیورسٹیوں میں سیکورٹی کی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے دی جانے والی گرانٹ سمیت دیگر معاملات کی چیکنگ کیلئے یونیورسٹیوں کے اچانک دورے کریں گے ۔