Cloud Front
World Bank

عالمی بینک نے سندھ طاس معاہدے کے معاملے پر غیر جانبدار ماہر کی تقرری روک دی

عارضی تعطل سے متعلق درخواستیں دونوں ملکوں کے وزرائے خزانہ کو ارسال

کراچی: عالمی بینک نے پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدے کے معاملے پر غیر جانبدار ماہر کی تقرری روک دی اور اس عارضی تعطل سے متعلق درخواستیں دونوں ملکوں کے وزرائے خزانہ کو ارسال کر دی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی بینک کی جانب سے منگل کو جاری کردہ اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ انڈس واٹر ریور سسٹم پر متنازع ڈیموں کی تعمیر سے متعلق معاملے کے حل کے لئے پاکستان اور بھارت نے باضابطہ درخوا ستیں دی تھیں۔ بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے انڈس واٹر سسٹم پر بھارت کی جانب سے کشن گنگا ڈیم کی تعمیر روکنے کے لئے عالمی بینک سے ثالثی عدالت بنانے اور اس کے چیئر مین کی تقرری کے حوالے سے جب کہ بھارت نے اس معاملے پر غیر جانبدارانہ ماہر کی تقرری کی درخواستیں کی تھی

تاہم سندھ طاس متنازع معاملہ جاری رہنے کے باعث عالمی بینک نے دونوں ملکوں کی درخواستوں پر عمل درآمد روک کر ثالثی عدالت اور غیر جانبدار ماہر کی تقرری کا عمل منجمد کر دیا ہے۔ عالمی بینک کی جانب سے12دسمبر تک سندھ طاس معاہدے پر غیر جانبدار ماہر کی تقرری متوقع تھی۔ عالمی بینک کے صدر جم یونگ کم نے بھی ٹی وی کے مطابق بتایا ہے کہ متنازع جاری رہنے سے انڈس واٹر ٹریٹی غیر فعال ہونے کا خدشہ ہے اور عارضی اقدامات اس معاہدے کے تحفظ کے لئے کئے گئے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان اور بھارت سندھ طاس معاہدے پر جنوری تک متفق ہو جائیں گے اور متنازع معاملہ ختم کر دیں گے۔ خیال رہے کہ سندھ طاس معاہدے پر 19ستمبر1960ء کو کراچی میں دستخط ہوئے جس کے تحت تین مغربی دریا سندھ ، جہلم اور چناب پاکستان جبکہ تین مشرقی دریا ستلج، راوی اور بیاس بھارت کے حصے میں آئے تھے تاہم کچھ عرصہ سے بھارت اس معاہدے کی خلاف ورزی کر کے پاکستان کے حصے کے پانی پر ڈیموں کی تعیر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔