Cloud Front

زاہد حامد اور مراد سعید کے درمیان تلخ کلامی

قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کے اجلاس میں زاہد حامد اور مراد سعید کے درمیان تلخ کلامی

اسلام آباد : وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی زاہد حامد اور پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی مراد سعید کے درمیان تلخ کلامی ہوئی جس کے نتیجے میں دلوں کے غبار زبان پر آ گئے۔ اطلاعات کے مطابق منگل کے روز قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں چیئر مین کمیٹی زاہد حامد موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے بریفنگ دے رہے تھے ۔ تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی مراد سعید نے سوال اٹھایا کہ 2008ء سے 2013ء تک خیبر پختونخوا میں اربوں روپے مالیت کے درخت کاٹے گئے ہیں تاہم کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔

مراد سعید نے سوال اٹھایا کہ آپ کی موسمیاتی پالیسی اچھی ہے لیکن اس پر عملدرآمد کون کرے گا؟ چیئر مین کمیٹی زاہد حامد نے جواباً کہا کہ آپ کے سوال کا تین جواب دے چکا ہوں آپ سنتے ہی نہیں۔ مراد سعید نے کہا کہ آپ غصہ کیوں کر رہے ہیں میں تو سوال کا جواب مانگ رہا ہوں۔ اگر میں برداشت نہیں ہو رہا تو چلا جاتا ہوں مگر یہ رویہ مناسب نہیں ہے۔ زاہد حامد نے جواب میں کہا کہ نہیں ایسا بالکل نہیں کہ آپ برداشت نہیں ہو رہے ہیں بلکہ آپ کے سوال کا جواب ایک سے زائد بار دیا جا چکا ہے۔ واضح رہے کہ حکومتی وزراء اور تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی ایک دوسرے کو سخت جواب دینے کا کوئی موقع بھی ضائع نہیں ہونے دیتے اور مراد سعید کی اس سے پہلے بھی کئی بار حکومتی وزراء اور اراکین اسمبلی سے تلخ کلامی ہوئی ہے۔