Cloud Front

ایران کا ‘جوہری کشتیاں’ بنانے کا فیصلہ

امریکا کی جانب سے ایرا ن پر پا بندیو ں کا بل غیر منصفا نہ ہے، ایرا نی حکام

تہران: امریکا کی جانب سے آئندہ 10 سالہ پابندی کے بل کی منظوری پر ایران نے سخت غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے جوہری ایندھن سے چلنے والی کشتیاں بنانے کا فیصلہ کرلیا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکی کانگریس کی جانب سے ایران پر پابندیوں کے بل کی منظوری کے بعد ایرانی صدر حسن روحانی نے حکام کو حکم دیا ہے کہ وہ جوہری ایندھن سے چلنے والی کشتیاں بنانے کا منصوبہ تیار کریں۔خیال رہے کہ امریکی کانگریس نے گذشتہ ماہ ایک بل کی منظوری دی تھی جس کے مطابق ایران پر لگی پابندیوں کو آئندہ 10 سال تک برقرار رکھا جائے گا،

تاہم بل کو باقاعدہ قانون کا حصہ بنانے کیلئے اس پر امریکی صدر باراک اوباما کے دستخط ہونا باقی ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ اندازہ لگایا جارہا ہے کہ امریکا کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جو ایران کے عالمی برادری کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے کے خلاف ہیں، عہدہ سنبھالنے کے بعد اس مسئلے کو حل کریں گے۔

ایران کے سرکاری ٹی وی اور سرکاری نیوز ایجنسی آئی آر این اے پر نشر اور شائع ہونے والے صدر روحانی کے تحریر کردہ خط کے مطابق انھوں نے ایرانی جوہری پروگرام کے علی اکبر صالحی کو جوہری ایندھن سے چلنے والی کشتیاں اور ان کا ایندھن تیار کرنے کا منصوبہ بنانے کیلئے 3 ماہ کا عرصہ دیا ہے۔اس کے علاوہ ایک علیحدہ خط میں وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کو امریکا کی جانب سے ‘جوہری معاہدے کی خلاف ورزی’ کی پیروی کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔خیال رہے کہ ایران پر پابندیوں کا بل امریکی کانگریس کی جانب سے پہلی مرتبہ 1996 میں منظور کیا گیا اور اس کے بعد متعدد مرتبہ اسے توسیع دی گئی،

جس کے مطابق امریکا کو ایران پر معاشی پابندیاں لگانے کی اجازت اور کمپنیوں کو ایران سے تجارت کرنے سے روکا گیا۔جس پر حال ہی میں ایرانی حکام کی جانب سے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے مذکورہ معاملے پر رد عمل ظاہر کرنے کیلئے گذشتہ ہفتے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس بھی منعقد ہوا تھا۔یاد رہے کہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے کانگریس کے منظور کردہ بل کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اس سے عالمی برادری کے ساتھ ایران کے ہونے والے جوہری معاہدے کی خلاف ورزی نہیں ہوتی،

اس معاہدے پر دنیا کی 6 طاقتوں نے دستخط کیے تھے۔واضح رہے کہ مذکورہ معاہدہ ایران کو پابند کرتا ہے کہ وہ کچھ معاشی پابندیاں اٹھائے جانے کیلئے یورنیم کی افزودگی بند کردے گا۔یہ بھی یاد رہے کہ ایران کے ایک ایڈمرل نے جون 2012 میں مبینہ طور پر کہا تھا کہ ان کا ملک پہلی جوہری آبدوز کا ڈیزائن بنا چکا ہے تاہم یہ منصوبہ کبھی سامنے نہیں آسکا۔دو روز قبل ایران نے اپنے فضائی بیڑے میں اضافے کیلئے امریکا کی بوئنگ کمپنی سے 80 طیاروں کی خریداری کا معاہدہ کیا تھا۔ایران کی سرکاری ایجنسی ‘آئی آر این اے’ نے رپورٹ کیا تھا کہ ایران میں 1979 میں آنے والے انقلاب کے بعد یہ اپنی نوعیت کا پہلا معاہدہ ہے جس کی مالیت 16.6 ارب ڈالر یا 15.7 ارب یورو ہے۔

ایران کے دارالحکومت تہران میں امریکی بوئنگ کمپنی کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرنے والے ایران کی قومی ایئر لائن کے چیف ایگزیکٹو فرہاد پرویریش کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کے تحت ‘آئندہ 10 سال میں پچاس 737 طیارے جبکہ تیس 777 طیارے ایران کو فراہم کیے جائیں گے’، خیال رہے کہ ایران میں انقلاب کے بعد یہ کسی بھی امریکی ہوائی باز کمپنی سے ان کا پہلا معاہدہ ہے۔ادھرتہران یونیورسٹی میں سرکاری ٹی وی پر خطاب کرتے پوئے حسن روحانی کا کہنا تھا کہ ٹرمپ بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں لیکن اس کے اقدامات ہمیں متاثر نہیں کریں گے۔