Cloud Front
NAB

سابق وزیر تعلیم سندھ پیر مظہر الحق کیخلاف کرپشن تحقیقات جاری

سابق وزیر تعلیم سندھ پیر مظہر الحق کیخلاف کرپشن تحقیقات جاری ، نیب نے تمام ریکارڈ حاصل کر لیا،مثبت پیش رفت، سندھ حکومت نے انکوائری رپورٹ نیب کے حوالے کردی

اسلام آباد : سندھ کے سابق صوبائی وزیر تعلیم مظہر الحق کیخلاف نیب حکام کو کرپشن کے دستاویزاتی ثبوت مل گئے ہیں۔ سندھ وزارت تعلیم نے سابقہ دور میں غیر قانونی طور پر سینکڑوں اساتذہ کو بھرتی کرنے کے تمام ریکارڈ نیب سندھ کے حوالے کر دیا ہے۔ جس کی روشنی میں اب مظہر الحق کیخلاف تحقیقات مثبت سمت میں جا رہی ہیں۔ آن لائن کو نیب ذرائع نے بتایا ہے کہ سابق وزیر تعلیم سندھ پیر مظہر الحق نے غیر قانونی طور پر سندھ میں سینکڑوں افراد کو اساتذہ بھرتی کیا تھا ان افراد کو ایسے سکولوں میں بھرتی کیا گیا جہاں سیٹیں ہی موجود نہیں تھی۔ زیادہ تر اساتذہ کو تو بھرتی کر لیا گیا تھا لیکن انہیں تنخواہیں بھی نہیں مل سکیں تاہم اساتذہ نے تنخواہیں نہ ملنے پر عدالتوں کا رخ اختیار کیا تھا

وزیر تعلیم مظہر الحق جو کہ سندھ میں روحانی پیر بھی مانے جاتے ہیں پر الزام ہے کہ انہوں نے بھاری رشوت لے کر سینکڑوں بے روزگار نوجوانوں کو قواعد کے بر خلاف بھرتی کیا تھا۔ سندھ حکومت نے بھی غیر قانونی بھرتیوں پر ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے بھی مظہر الحق کے احکامات اور اساتذہ بھرتیوں کو ناجائز عمل قرار دیا تھا ۔ نیب نے مظہر الحق کے خلاف ملنے والی سینکڑوں درخواستوں پر تحقیقات کی تھیں اور اب وزارت تعلیم سندھ حکومت نے بھی تمام ریکارڈ نیب کے حوالے کر دیا ہے

جس کی روشنی میں اب تحقیقات مثبت سمت میں جا رہی ہیں پیر مظہر الحق کا بڑے بھائی نے بھی اربوں روپے کرپشن کرنے پر جیل میں رہے ہیں جبکہ ان کی سابقہ بیوی اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے چیئر پرسن فرزانہ راجہ بھی اب اربوں روپے کرپشن کے الزامات کی تحقیقات کا سامنا کر رہی ہیں۔ فرزانہ راجہ نے آج کل ورلڈ بینک کے افسر سے شادی کر رکھی ہے اور امریکہ میں زیادہ وقت گزارتی ہیں نیب نے اپنی تحقیقات کا دائرہ بھی وسیع کر رکھا ہے ۔ مظہر الحق آج کل بلاول بھٹو زرداری کے دست راست بنے ہوئے ہیں