Cloud Front
kalbushan yadv

سقوط ڈھاکا اور تاریخ کا سبق

ہر سال جب سولہ دسمبر آتا ہے تو محب وطن پاکستانیوں کے دل خون کے آنسو رونے لگتے ہے۔ کیوں نہ ہو دنیا کی سب سے بڑی اسلامی سلطنت پاکستان کے جنرل نیازی نے ہمارے ازلی دشمن بھارت کی فوج کے جنرل اروڑا کے سامنے ہتھیا ڈالے تھے۔یہ مسلمانوں کی تاریخ کا دل خراش واقعہ ہے۔ایسے واقعے قوموں کی تاریخ میں پیش آتے رہتے ہیں۔ قومیں ایسے واقعات سے آیندہ کے لیے سبق سیکھتیں ہیں ۔کیا پاکستانی قوم نے سولہ دسمبر کے واقعہ سے کوئی سبق سیکھا ہے؟ بھارت پاکستان کی تاریخ کا اگر جائزہ لیا جائے تو ہندوستان میں کبھی بھی ہندو ایک مرکزی حکومت کے تحت نہیں رہے۔ مسلمانوں کی آمند سے پہلے بھی ہندوستان پرہندوں راجاؤں کی حکومتیں تھیں۔ مسلمان کمانڈر محمد بن قاسم نے بھی سندھ میں راجہ داہر کو شکست دے کر مسلم حکومت قائم کی تھی۔ اس کے بعد مسلمان حکمران ایک ہزار سال تک ہندوستان پر حکمرانی کرتے رہے۔ سب سے طویل دور مسلمان حکمران مغلوں کا دور ہے۔جو وسط ایشیا سے آکر ہندستان پر تقریباً چھ سو سال حکومت کرتے رہے۔مسلمان مغل حکمران اورنگ زیبؒ نے برما سے کابل تک پچاس سال حکمرانی کی۔ اس کے بعد مغلوں کی طاقت کمزرو ہونے لگی تو انگریزوں نے تجارت کے بہانے دھوکے سے ہندوستان پر قبضہ کیا تھا۔ کیونکہ انگریزوں نے مسلمانوں سے حکومت چھینی تھی اس لیے مسلمانوں کو ہر فیلڈ میں کمزور کیا اور ہندووں کی سرپرستی کی۔ پھرانگریز کے خلاف ہندو اور مسلمان نے آزادی کی جنگ لڑی اور آزادی حاصل کی۔

ہندووں کے تعصب کی وجہ سے ۱۹۰۶ء میں بنگال میں مسلمانوں نے اپنی الگ سیاسی جماعت مسلم لیگ کی بنیاد رکھی۔مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے قائدؒ اعظم کی لیڈرشپ کے اندر جمہوری جدو جہد کی وجہ سے ۱۹۴۷ء میں ہندوستان کی تقسیم دو قومی نظریہ پر عمل میں آئی۔پاکستان اور بھارت دو مملکتیں دنیا کے نقشے پر وجود میں آئیں۔ ہندووں نے مسلم دشمنی میں پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا۔پاکستان کے اثاثے روک لیے۔کشمیر میں اپنی فوجیں داخل کر کے کشمیر پر قبضہ کر لیا۔ مشرقی پاکستان کی بنگالی آبادی کو مغربی پاکستان کے خلاف حقوق کے نام پر اُکسایا۔ بلا آخر شیخ مجیب الرحمان نے ۱۹۷۱ء کے الیکشن میں بنگالی قومیت اورمغربی پاکستان مخالف نظریات پر الیکشن جیتا۔ڈکٹیٹر یحییٰ خاں نے بھٹو کے کہنے پر مجیب الرحمان کو اقتدار منتقل نہیں کیا۔ اس پر مجیب الرحمان نے مشرقی پاکستان میں علیحدگی کی تحریک شروع کی ۔ بھارت بے علیحدگی پسند بنگالیوں کو دہشت گردی کی ٹرینینگ دی۔ مکتی باہنی بنی۔ ڈکٹیٹر یحییٰ نے فوجی آپریشن شروع کیا۔بھارت نے اپنی فوجیں مشرقی پاکستان میں داخل کر دیں۔ لڑائی ہوئی پاکستان کو شکست ہوئی۔ پھر بھارت کی فوجی مداخلت پر مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔اندرا گاندھی نے تاریخی بیان دیا تھا کہ ’’میں نے قائد اعظم کا دوقومی نظریہ بحر ہند میں ڈبو دیا اور مسلمانوں سے ایک ہزارسالہ دور حکمرانی کا بدلہ بھی لے لیا‘‘ صاحبو!یہ تو بھارت کی کامیاب کارستانی کی کہانی ہے۔

اب کیا ہمارے حکمرانوں نے تاریخ سے سبق حاصل کیا۔بانی پاکستان قائد اعظمؒ کے ویژن کے مطابق پاکستان کی بنیاد، دو قومی نظریہ کو مضبوط کیا؟ جواب ہے نہیں کیا۔ بلکہ اس کے برعکس پاکستان میں سیکولر حضرات کو پاکستان کی قلیدی عہدوں پر تعینات کیا گیا۔جن حضرات کے سیکولر نظریات کو قائد اعظمؒ نے جمہوری طریقہ سے شکست دی تھی۔ نواز حکومت نے ان کو اپنا اتحادی بنایا ہوا ہے۔ دوقومی نظریہ کی یہ کہہ کر نفی کر دی کی بھارت اور پاکستان میں بس تقسیم کی ایک لکیر ہے باقی ہمارے رہن سہن او کلچر سب باتیں ایک جیسے ہیں وغیرہ۔ بھارت سے معذرتانہ رویہ اختیار کیا ہوا ہے۔ بھارتی دہشت گرد،مذہبی انتہا پسند، بھارتی انتہا پسند مذہبی جماعت آر ایس ایس کے بنیادی رکن وزیر اعظم، دنیا میں کسی بھی فورم پر پاکستان کو تنہا کرنے اور دہشت گرد ثابت کرنے کی انتہائی کوششیں کرتا رہتا ہے۔بھارت کے یوم آزادی پر کہتا ہے کہ مجھے پاکستانی کشمیر، گلگت بلتستان اور بلوچستان سے مدد کے لیے فون کال آرہی ہیں۔بلوچستان سے بھارت کے حاضر سروس نیوی کے آفسیر کلبھوشن یادیو جاسوسی کے الزام میں پکڑا جاتا ہے۔پاکستان حکام بلوچستان کے حالیہ تین دہشت گردی کے واقعات کو بھارت کی دہشت گردی کہتے ہیں۔ بھارتی سفارت کار پاکستان کی جاسوسی کرتے ہوئے گرفتار ہوتے ہیں۔ الطاف حسین را کے ایجنٹ اور غدرار پاکستان کے خلاف دفعہ ۶ کے تحت کاروائی کے صوبائی ،مرکزی اسمبلیوں اور سینیٹ کی قراردادیں پاس ہوتی ہیں۔پاکستان کی عدلتوں میں الطاف حسین کے خلاف پاکستان سے غداری کے مقدمات چل رہے ہیں۔آپ نے خود الطاف حسین کے خلاف کاروائی کے لیے چاروں صوبوں کے وزرا اعلیٰ کو شامل کر ایک کمیٹی بھی بنائی تھی۔ اس پر ابھی تک کوئی کاروائی عوام کے سامنے نہیں آئی۔ آپ نے آج تک کلبھوشن یادیو کے خلاف منہ نہیں کھولا۔ نہ بھارت کے وزیر اعظم کے پاکستان مخالفانہ پروپگنڈے کا کوئی توڑ کیا۔ آپ بھارت سے امن کی باتیں کرتے ہیں۔ آپ مودی کو اپنی نواسی کی منگنی کے پروگرام میں بلاتے ہیں۔ آلو پیاز کی تجارت کرتے ہیں۔ اب کیا آپ

کے مخالفوں کی یہ بات تسلیم کر لی جائے کہ آپ مودی سے اپنے ذاتی کاروباری تعلوقات نبہا رہے ہیں۔ آپ کو پاکستان کی کوئی فکر نہیں۔ بھارت آپ کا ازلی دشمن ہے۔ جو حکمران اپنے دشمن کو نہیں پہنچانتے وہ حکمرانی کا حق کھو جاتے ہیں۔ بھارت نے پاکستان کو توڑا ہے۔اس کا وزیر داخلہ کہہ رہا ہے پاکستان کے دس ٹکڑے کر دیں گے۔ بھارتی میڈیابھارتی حکمرانوں کے ڈاکٹرین پر بھارت عوام میں پاکستان مخالف فضا تیار کر چکے ہیں۔بھارت نے پاکستان کی بحری، فضائی اور زمینی سرحدوں کی خلاف درزی کی ہے۔لہٰذا تاریخ سے سبق سیکھتے ہوئے جیسے بھارت نے تیاری کی ہوئی ہے آپ بھی فوراً پاکستان میں بانی پاکستان ،قائد عظم کے ویژن کے مطابق اسلام کے فلاحی نظام حکومت کا اعلان کر دیں۔ اپنی فوج سے اگر کوئی اختلاف ہے تو اسے بھی ختم کریں۔ ڈان لیک کی تحقیق کو عوام کے سامنے لائیں اور غلطی کرنے والوں کو قرار واقعی سزادیں ۔ اس وقت پاکستان حالت جنگ میں ہے۔دونوں ایوانوں کا اجلاس بلا کر بھارت کے وزیر اعظم کے پاکستان مخالف رویہ اور بھارتی وزیر داخلہ کے بیان پر مذامت کی قرارداد پاس کریں ۔ بھارت کے جار حانہ رویہ کے مقابل جارحانہ رویہ اختیار کریں۔ یہی ۱۶ دسمبرسقوط ڈھاکا اور تاریخ کا سبق ہے۔

تحریر : میر افسر امان
Mir Afsar Aman