Cloud Front
CDA

سی ڈی اے کی پھرتیاں، سوا تین ارب کا پلاٹ من پسند کمپنی کو 50کروڑ میں نیلام کر دیا

نیلامی میں اسی پلاٹ کے حصول کے ایک دعویدار کو ماتحت عدالت نے 20دسمبر تک حکم امتناعی دے رکھا تھا
سی ڈی اے نے حکم امتناعی ختم کرانے کیلئے 14دسمبر کو ہی درخواست دی اور فوری فیصلے لے کر پلاٹ نیلام کر دیا
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نوٹس لیں ماتحت عدالتیں شہریوں کی داد رسی کی بجائے با اثر اداروں اور لوگوں کیلئے قانون کو موم کی ناک کی طرح کیوں موڑ رہی ہے، سینئر وکیل اظہر صدیق

اسلام آباد : سی ڈی اے نے عدلیہ سے فوری اور سستا انصاف حاصل کرنے کے بعد سوا تین ارب روپے مالیت کا پلاٹ من پسند کمپنی کوصرف 50کروڑ روپے میں نیلام کر دیا ہے۔ نیلامی کے ذریعے یہی پلاٹ حاصل کرنے کے ایک دعویدار کو ماتحت عدالت نے 20دسمبر تک حکم امتناعی دے رکھا تھا۔ مدعی کی طرف سے اخبارات میں حکم امتناعی بابت اشتہار دیئے جانے کے باوجود سی ڈی اے نے ایف ٹین مرکز کے 20کنال کے قیمتی پلاٹ کا حکم امتناعی ختم کرانے کے لئے 14دسمبر کو ہی درخواست دی اور فوری فیصلے لے کر پلاٹ نیلام کر دیا۔

20کنال کے اس قیمتی پلاٹ کی مارکیٹ ویلیو ساڑھے تین ارب روپے بتائی جا رہی تھی لیکن سی ڈی اے نے من پسند گروپ زیڈ کے بی کو2ارب 75کروڑ روپے دیکر الاٹ کر دیا۔ ذرائع کے مطابق زیڈ کے بی کمپنی نے جس وکیل کی خدمات حاصل کیں وہ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے قریبی عزیز ہیں۔ کاشف علی ایڈووکیٹ گزشتہ روز اس کمپنی کی طرف سے سول جج حبیب بلال رانجھا کی عدالت میں پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ حکم امتناعی کا کوئی جواز نہیں ہے سی ڈی اے یہ پلاٹ بیچنے کے لئے اخبار میں اشتہار دے چکا ہے۔ اور نیلامی کے تمام تر انتظامات موجود ہیں اس لئے فاضل عدالت حکم امتناعی کو فوری ختم کرے ۔ واضح رہے کہ اسی عدالت نے دوسرے فریق مقبول ایسو سی ایٹس کو حکم امتناعی دیا تھا اور آئندہ سماعت20دسمبر مقرر کی گئی تھی۔ گزشتہ روز جب کاشف علی ایڈووکیٹ اس حکم امتناعی کے اخراج کے لئے عدالت میں پیش ہوئے تو مخالف فریق کو نوٹس دیئے بغیر ہی حکم امتناعی ختم کر دیا گیا۔ سی ڈی اے کے ترجمان ملک مظہر نے رابطے کرنے پر بتایا کہ تین کمپنیوں نے نیلامی میں حصہ لیا تھا ان میں سے زیڈ کے بی کامیاب بول دہندہ تھی۔ اس لئے اس کو الاٹ کر دیا گیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق مذکورہ پلاٹ مارکیٹ ریٹ سے50کروڑ روپے سستا فروخت کیا گیا ہے۔

اس حوالے سے سپریم کورٹ کے سینئر وکیل اظہر صدیق سے قانونی رائے لی گئی تو انکا کہنا تھا کہ ایسی کوئی ایمرجنسی نافذ نہیں تھی کہ مخالف فریق کا مؤقف سنے بغیر ہی حکم امتناعی خارج کر دیا جائے ۔ عدالتی قواعد و ضوابط کے تحت عدالت کو مخالف فریق کو نوٹس ضرور دینا چاہیئے تھا تاکہ انکا مؤقف سامنے آ سکے۔ اس طرح آناً فاناً درخواست کا آنا اور عدالت کا سٹے آرڈر خارج کر دینا سمجھ سے بالاتر ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سی ڈی اے کسی کو نوازنے کا تہیہ کر چکی تھی۔ اس معاملے کا چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کو نوٹس لینا چاہیئے کہ ماتحت عدالتیں شہریوں کی داد رسی کی بجائے مختلف با اثر اداروں اور لوگوں کے لئے قانون کو موم کی ناک کی طرح کیوں موڑ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ فریق سیشن جج کے پاس اپیل کر سکتا ہے لیکن سی ڈی اے نے جس کو نوازنا تھا اسکا کام ہو گیا ہے۔ا ب متاثرہ فریق کو انصاف ملنے میں کتنے سال لگ جائیں یہ کچھ نہیں کہا جا سکتا