Cloud Front
Senat

انتخابی قوانین اور اصلاحات کے مسودے کو حتمی شکل دیدی گئی

حلقے میں خواتین کے ووٹ 10فیصد سے کم آنے یا خواتین کو زبردستی ووٹ ڈالنے کے حق سے محروم کرنے پر انتخابات کو کالعدم قرارد یا جائے گا، انتخابی اصلاحات ذیلی کمیٹی
نئے شناختی کے اجراء کے ساتھ ہی نادرا حکام الیکشن کمیشن کو ووٹ رجسٹریشن کیلئے ڈیٹا فراہم کریں گے ،الیکشن کے روز ریٹرننگ افسران حلقے میں مرد اور خواتین کے ووٹوں کا تناسب بھی فراہم کرنے کے پابند ہونگے، وفاقی وزیر قانون زاہد حامد

اسلام آباد: انتخابی اصلاحات کی ذیلی کمیٹی نے انتخابی قوانین اور اصلاحات کے مسودے کو حتمی شکل دیدی ہے ،کسی بھی حلقے میں خواتین کے ووٹ 10فیصد سے کم آنے یا خواتین کو زبردستی ووٹ ڈالنے کے حق سے محروم کرنے پر انتخابات کو کالعدم قرارد یا جائے گا،نئے شناختی کے اجراء کے ساتھ ہی نادرہ حکام الیکشن کمیشن کو ووٹ رجسٹریشن کیلئے ڈیٹا فراہم کریں گے ،

الیکشن کے روز ریٹرننگ افسران حلقے میں مرد اور خواتین کے ووٹوں کا تناسب بھی فراہم کرنے کے پابند ہونگے ،الیکشن کمیشن ہر سال تمام حلقوں میں ووٹرز ڈیٹا فراہم کرے گا جبکہ خواتین کو شناختی کارڈ ز کی فراہمی اور ووٹ رجسٹریشن کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں گے انتخابی اصلاحات کا مجوزہ ڈرافٹ بل سوموار کے روز ذیلی کمیٹی سے منظوری کے بعد مین کمیٹی میں پیش کیا جائے گا

انتخابی اصلاحات کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیرقانون زاہد حامد نے کہاکہ الیکشن کمیشن کے حکام نے خواتین ووٹرز کی کم تعداد میں بحثیت ووٹرز رجسٹریشن کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایاہے کہ اس وقت پاکستان کی آباد میں خواتین کا تناسب 48فیصد ہے جبکہ بحثیت ووٹرز خواتین کی رجسٹریشن 44فیصد ہے یعنی اس وقت12ملین خواتین بحثیت ووٹرز رجسٹرڈ نہیں ہے انہوں نے بتایاکہ اس سلسلے میں انتخابی اصلاحات کی جانب سے مجوزہ ڈرافت بل میں یہ تجویز دی گئی ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان ہر سال حلقہ وائر ڈیٹا تیار کرے گا کہ حلقے میں مرد اور خواتین ووٹرز کی تعداد کتنی ہے اور اگر یہ فرق 10فیصد سے زیادہ ہو تو حلقے میں ہنگامی بنیادوں پر خواتین کے شناختی کارڈ ز بنائے جائیں گے اور انہیں بحثیت ووٹرز رجسٹرڈ کیا جائے گاانہوں نے بتایاکہ کہ یہ تجویز بھی پیش کی گئی ہے کہ اگر کسی حلقے میں انتخابات کے دوران خواتین کے ووٹ 10فیصد سے کم ہوں اور یہ بھی معلوم ہو کہ حلقے میں خواتین ووٹرز کو زبردستی یا کسی بھی جرگے کے فیصلے کے تحت ووٹ کا حق استعمال کرنے سے روکا گیا ہے

تواس صورت میں الیکشن کمیشن کے پاس اختیار ہوگا کہ اس حلقے میں انتخابات کو کالعدم قرار دے انہوں نے بتایاکہ نئے قوانین کے تحت قومی شناختی کارڈ کے بنتے ہی نادرہ حکام الیکشن کمیشن کو ڈیٹا فراہم کریں گے اور بحثیت ووٹر بھی رجسٹریشن ہوجائے گی اسی طرح الیکشن کے روز متعلقہ ریٹرننگ افسران ٹوٹل ووٹ کا ڈیٹا فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ حلقے میں خواتین ووٹر کے ووٹ ڈالنے کی شرح بھی دینے کے پابند ہونگے انہوں نے بتایاکہ کہ ذیلی کمیٹی نے انتخابی قوانین اور اصلاحات کے مسودے کو حتمی شکل دیدی ہے اور الیکشن سے متعلق 7مختلف قوانین کو یکجا کر دیا گیا ہے یہ مسودہ سوموار کے روز ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں دوبارہ پیش کیا جائے گا اور ذیلی کمیٹی کی منظوری کے بعد مین کمیٹی میں پیش کیا جائے گا انہوں نے بتایاکہ الیکشن کمیشن حکام کو بائیو میٹرک اور الیکٹرانیک ووٹنگ مشینوں کی خریداری میں چند مسائل اور مشکلات درپیش ہیں جن کے حل ہونے کے بعد مشینوں کی ابتدائی خریداری کا عمل مکمل کیا جائے گا ۔