Cloud Front
عالیہ شاہ

ردی کے بھاؤ انسانی جان اور کوڑیوں کے مول انصاف

آخر کار پی کے 661 کے حادثے کے چار روز بعد اعظم سہگل نے استعفیٰ دے دیا، وہ بھی یہ کہہ کر کہ استعفیٰ ذاتی وجوہات کی بنیاد پر دیا گیا۔گویا حادثے کی ذمہ داری قبول کر کے استعفیٰ دینا انا کے خلاف بات ہے۔ اصولی طور پر یہ استعفیٰ وزیراعظم کو ان سے حادثے کے فوراً بعد ہی طلب کر لینا چاہئے تھا جب انھوں نے بیان دیا تھا کہ (ہمارا خیال تھا کہ جہاز ایک انجن سے بھی صحیح پرواز کر لے گا۔۔نہ جہاز میں خرابی تھی اور نہ ہی پائلٹ کا قصور ہے۔) یہ ایسے متضاد بیانات ہیں جن پر غیر جانبدارانہ تحقیق کی جائے تو قصور سراسر پی آئی اے کا ہی نکلتا ہے۔ ہمارے سادہ لوح عوام اس ذاتی وجوہات پر دئیے گئے استعفیٰ پر ہی خوش ہو گئے اور ٹوٹر پر ٹرینڈ چلا دیا۔لیکن کسی نے یہ ٹرینڈ نہیں چلایا کہ ۔۔ اعظم سہگل کو عدالت میں لے کر کون جائے گا؟ اعظم سہگل اور پی آئی اے کے کرتا دھرتاؤں کے خلاف پی کے 661 کی ایف آئی آر کون کٹوائے گا؟ کیا کسی نے شہید ہونے والے پائلٹ کی والدہ کی گفتگو سنی جس میں انھوں نے انکشاف کیا کہ ان کے خاندان کو قانونی کارروائی سے روکنے کے لئے پی آئی اے ان کے اوپر دباؤ ڈال رہی ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ طیارے کہ انجن خراب تھا۔

پاکستان میں خود سے استعفیٰ دینے کا رواج نہیں کیونکہ یہاں انسانی جان ردی کے بھاؤ فروخت ہوتی ہے اور انصاف کوڑیوں کے مول بکتا ہے۔ جہاز کے ملبے سے جلی ہوئی لاشوں کے ٹکڑوں کا معاوضہ دینے کی بات فخرسے کی جاتی ہے گویا مرنے والے کے خاندان پر ایک احسان عظیم کیا جا رہا ہو۔ خدا نہ کرے کہ مرنے والوں کے لواحقین واٹس اپ پر گردش کرنے والی وہ ویڈیو دیکھیں جس میں طیارے کے حادثے کے بعد جائے وقوعہ سے جلے اور کٹے ہوئے بازو اور ٹانگیں اس طرح جمع کی جا رہی ہیں جیسے قربانی کے بعد جانور کا گوشت اکٹھا کیا جاتا ہے۔ یہ منظر کسی بھی مہذب ملک کی حکومت کو اس بات پر مجبور کر دیتا کہ غفلت برتنے والوں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے لیکن یہاں تو بلدیہ فیکٹری میں ہونے والی مبینہ تخریب کاری کے نتیجے میں ڈھائی سو لوگ اذیت ناک موت مر گئے اور ہم ابھی تک اس تحریب کاری کے مجرم ڈھونڈتے اور پکڑتے پھر رہے ہیں۔ کولمبیا کے جہاز کے کریش ہونے پر بولووین آفیشلز نے حادثے کی تحقیقات کے سلسلے میں لامیہ ائیر لائن کے سربراہ کو گرفتار کر لیا ہے۔ جبکہ اعظم سہگل نے حادثے کے چار روز بعد ذاتی وجوہات کی بناء پر استعفیٰ دے کر ملک پر احسان عظیم کیا اور وزیراعظم نے چار و نا چار یہ استعفیٰ قبول کیا۔

جنوبی کوریا کی پارلیمینٹ نے اپنی خاتون صدر کا مواخذہ اس لئے کیا ہے کیوں کہ خاتون صدر کی سہیلی نے صدر کے نام پر کرپشن کی۔ لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکلے اور پارلیمینٹ نے یہ فیصلہ کیا کہ عوام کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے کرپٹ صدر کا مواخذہ کیا جائے۔ شاید یہ مواخذہ کرنا اس لئے آسان تھا کیونکہ ان کی پارلیمینٹ میں کوئی فضل الرحمٰن نہیں۔ وہاں بات بات پر سسٹم خطرے میں نہیں آجاتا۔ وہاں ہارس ٹریڈنگ اور سیاسی جماعتوں کا ایک دوسرے کی کرپشن پر پردہ ڈالنے کا رواج نہیں۔ وہاں صدر یا وزیر اعظم اسمبلی میں کھڑے ہو کر ایسی سیاسی تقریر نہیں کر سکتا جس میں مصلحت کے تحت جھوٹ کی آمیزش کی گئی ہو۔ وہاں کی برخواست ہونے والی صدر میں اتنی طاقت نہیں تھی کہ وہ اپنی مرضی کا آرمی چیف لا سکے یا ایک لارجر بنچ کو گھر بھیج کر اپنے من پسند لارجر بنچ سے کرپشن کے کیسز سے اپنی خلاصی کراسکے۔ اگر کوریا کی یہ صدر ہمارے حکمرانوں سے مشورہ کر لیتیں تو اپنی سہیلی کی کرپشن کو چھپانے کے ایک سو ایک ٹوٹکے ڈھونڈ لیتیں۔ صد افسوس کہ ان کے کانوں تک ہمارے حکمرانوں کی ذہانت اور ہوشیاری کی کہانیاں نہ پہنچ پائیں اور بے چاری مواخذے کی بھینٹ چڑھ گئیں۔
دوسری جانب وہ تمام نوجوان لڑکے اور لڑکیاں جنھوں نے پی ٹی آئی کے دھرنوں اور جلسوں میں شرکت کی، ٹھٹھرتی سردی اور چلچلاتی دھوپ کا سامنا کیا، حلق پھاڑ پھاڑ کر نعرے لگائے اور پھر بھی کچھ نہ کر پائے، بہت اداس ہیں اور کوریا کی سڑکوں پر پانچ لاکھ لوگوں کا جشن دیکھ کر جل کر کباب ہو گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کوریا کے پانچ لاکھ لوگ سڑکوں پر نکل آئیں تو صدر کا مواخذہ ہو جاتا ہے، تو ہم نے کیا قصور کیا ہے؟ ہماری دھرنے اور جلسے کی ریاضت میں کس چیز کی کمی رہ گئی ہے؟ کوئی ان کو بتائے کہ جس ملک میں انسانی جان کی قیمت ردی کے بھاؤ ہو اور انصاف ٹکوں کے مول بکتا ہو وہاں کے وزیراعظم یا صدر سے استعفے یا پارلیمینٹ سے مواخذے کی امید رکھنا بے سود ہے۔

تحریر :‌عالیہ شاہ