Cloud Front
Wrestler

ڈبلیو ڈبلیو ای کی تاریخ میں پہلی بار پاکستانی ریسلر ان ایکشن ، پہلا میچ بلانتیجہ ختم

ریسلنگ لڑنا میرے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے، یہ وہ خواب ہے جس کے ساتھ میں بڑا ہوا،مصطفی علی

لندن : ڈبلیو ڈبلیو ای کی تاریخ میں پہلی بار ایک پاکستانی ریسلر کو رنگ میں ایکشن میں آنے کا موقع ملا تاہم ان کا پہلا میچ بلانتیجہ ختم ہوگیا۔پاکستانی نژاد امریکی ریسلر مصطفیٰ علی ڈبلیو ڈبلیو ای کے ایک نئے ریسلنگ پروگرام 205 لائیو کا حصہ ہیں جس میں ان کا پہلا میچ گزشتہ شب دیکھنے میں آیا۔اپنے ڈبلیو ڈبلیو ای ڈیبیو پر مصطفیٰ علی کا مقابلہ پیورٹو ریکو کے لینسی ڈو راڈو سے ہوا۔

یہ دونوں ریسلرز کا ڈبلیو ڈبلیو ای کے اس پروگرام میں ڈیبیو تھا جس میں دونوں نے زبردست فائٹ کی تاہم آخر میں یہ میچ ڈبل کاؤنٹ آؤٹ پر بلا نتیجہ ختم ہوا۔یعنی دونوں ریسلرز رنگ کے باہر تھے جب ریفری نے 10 تک گنتی گنی جس کے بعد میچ بے نتیجہ ختم کردیا گیا۔شکاگو میں پیدا ہونے والے مصطفیٰ علی پاکستان سے تعلق رکھنے والے پہلے ریسلر ہیں جو ڈبلیو ڈبلیو ای کا حصہ بنے اور انہیں اس کمپنی کے نئے شو 205 لائیو کے لیے کنٹریکٹ دیا گیا۔یہ نیا شو 29 نومبر کو شروع ہوا جس میں شرکت کرنے والے تمام ریسلرز کروزر ویٹ کیٹیگری سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کا وزن بھی 205 پونڈز سے زیادہ نہیں ہوسکتا۔ڈبلیو ڈبلیو ای کے رواں سال ہونے والے ایک ریسلنگ ٹورنامنٹ کروزر ویٹ کلاسیک کے ذریعے مصطفیٰ علی کی اس کمپنی میں انٹری ہوئی تھی۔یہ 32 افراد کا ٹورنامنٹ تھا جس میں دنیا بھر کے ریسلرز کو شریک کیا گیا ہے

جن میں سے ایک مصطفیٰ علی بھی تھے، دلچسپ بات یہ ہے کہ اصل میں وہ اس شو کا حصہ نہیں تھے مگر برازیل سے تعلق رکھنے والے ایک ریسلر کو ویزہ مسائل کا سامنا کرنا پڑا جس کی جگہ پاکستانی نڑاد ریسلر کو ملی۔مصطفیٰ علی کو اس ٹورنامنٹ کے پہلے راؤنڈ میں ہی شکست ہوگئی تھی اور ڈبلیو ڈبلیو ای کا حصہ نہیں بن سکے تھے۔مصطفیٰ علی ریسلنگ کی دنیا کے لیے نئے نہیں بلکہ ایک دہائی سے زائد عرصے تک امریکا بھر میں مقابلوں میں شریک ہوتے رہے ہیں

ایک انٹرویو کے دوران مصطفیٰ علی نے بتایا ” ڈبلیو ڈبلیو ای میں لڑنا میرے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے، یہ وہ خواب ہے جس کے ساتھ میں بڑا ہوا، اس کے لیے میں 13 برسوں سے کوشش کررہا تھا، اسی کے لیے میری ہڈیاں ٹوٹیں، متعدد تقریبات کو فراموش کیا، ڈبلیو ڈبلیو ای کے رنگ میں کھڑے ہونے کے لمحے کے جذبات بیان کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں”۔