Cloud Front
column

شام کے نصیبوں کی ڈھلتی شام

شام میں جب سے مسلمانوں نے آپس میں لڑنا شروع کیا تب سے اب تک میری پروفائل پر پہلی دفعہ لفظ شام لکھا جا رہا ہے۔ اس خیال سے کہ ایک کے متعلق حقیقت لکھی تو رافضی کہلایا جاؤں گا اور دوسرے کے متعلق حقیقت لکھی تو خارجی کہلاوایا جاؤں گا میں ہمیشہ خاموش رہا۔ میرا دل تب بھی روتا تھا جب بشار کے خلاف لڑنے والے بے گناہوں کو قتل کرتے تھے میرا دل اب بھی رو رہا ہے جب بشار کے حامی بے گناہوں کو قتل کریں گے۔ اس واقعہ کا کوئی انجام نہیں ہو گا یہ سلسلہ نسل در نسل چلے گا۔ جن کے ماں باپ آج مریں گے وہ کل بڑے ہو کر اپنے والدین کے قاتلوں کو ماریں گے اور اسی طرح یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔

ہاں مگر یہ آگ ٹھنڈی ہو لے تو ضرور لکھوں گا کہ سعودیہ اور ایران کے ہاتھوں پر ان بے گناہوں کا کتنا خون ہے جو اس پراکسی جنگ کی وجہ سے قتل ہوئے۔ ایک نے روس کی آشیرباد لی ایک نے امریکہ کی۔ ایک گروہ نے آلِ سعود کو قبلہ جانا دوسرے گروہ کا قبلہ تہران بن گیا۔ درمیان میں وہ بھی شامل ہو گئے جو تہران اور ریاض دونوں کی حکومتوں کو کافر جانتے ہیں۔ ان کو بھی دونوں اطراف سے سپورٹ کیا گیا۔

کچھ کو روس نے سپورٹ کیا کچھ کو امریکہ نے۔ خون دونوں اطراف سے مسلم کا بہا۔ بچے دونوں اطراف سے جو قتل ہوئے مسلمانوں کے ہی تھے۔ افسوس افسوس افسوس صد ہا افسوس کہ فرقہ واریت کی آگ ہزاروں انسانوں کو نگل گئی اور یہاں پاکستان میں بیٹھ کر رونے والے لوگ بجائے امت کے نقصان پر آنسو بہانے کے ایک ایک فرقے کی طرف ہو کر اپنا دکھ بانٹ رہے ہیں۔ فیس بک کی تحریریں گواہ ہیں بشار کے حامیوں کی موت پر یہاں جشن منانے والے آج رو رہے ہیں۔ اور فیس بک کی ہی تحریریں گواہ ہیں کہ شامی باغیوں کے ہاتھوں قتل ہونے والوں کو پاکستان میں بیٹھ کر رونے والے آج بشار کے حامیوں کے اسی عمل پر خوشی منا رہے ہیں۔
قتالِ مسلم پر خوشیاں منانے والے وہ خون آشام بلائیں ہیں جن کے چہرے اس خون سے رنگے ہوئے ہیں جو اسلام کے زخموں سے رس رہا ہے۔

یہ وہ بد مزاج بد فطرت طبیب ہیں جو امت کے ان زخموں کو جو عالمِ کفر نے خوب سوچ سمجھ کر لگائے پر مرہم رکھنے کے بجائے پہلے انہیں کریدتے رہے اور اب انہیں ادھیڑ رہے ہیں۔ مجھ پر قران کی اس آیت کا مفہوم آج واضح ہو گیا ہے جس میں اللہ نے یہ فرمایا ہے کہ اللہ اس بات پر قادر ہے کہ تمہارے پیروں کے نیچے سے عذاب لائے یا تمہارے سروں کے اوپر سے تم پر عذاب مسلط کر دے یا پھر تمہیں فرقہ فرقہ کر دے۔ میں نے فرقہ واریت کے عذاب کی عملی تفسیر شام میں دیکھ لی۔ وہ تمام جو پہلے باغیوں کے ہاتھوں بے گناہوں کے قتل پر خوش ہوتے تھے اور وہ تمام جو آج حکومت کے ہاتھوں بے گناہوں کے قتل پر خوش رہے ہیں ،خدا کی ناپسندیدگی کی عملی تفسیر ہیں۔ بروئے حدیث ایک مسلمان کی حرمت کعبہ سے زیادہ ہے اور ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے قران کی رو سے۔ حدیث کا مفہوم ہے ” سب سے بڑا سرکش اور نافرمان وہ انسان ہے جو ایسے شخص کو قتل کرے جس نے اسے قتل نہیں کیا یا ایسے شخص کو مارے جس نے اسے نہیں مارا” حدیث گواہ ہے کہیں پر کوئی سنی شیعہ دیو بندی حتی کہ مسلمان یا غیر مسلم کی قید نہیں ہے۔ لفظ انسان ہے حدیث میں۔ جان لو وہ جو شام میں فرقہ واریت کی جنگ کی نظر ہوئے سب کے سب انسان تھے۔