Cloud Front
PSL logo

سپر لیگ کو الگ پرائیویٹ کمپنی کے طور پر رجسٹر کرانے کی قرارداد منظور کرنے کا معاملہ

پاکستان سپر لیگ کو الگ پرائیویٹ کمپنی کے طور پر رجسٹر کرانے کی قرارداد منظور کرنے کا معاملہ
اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے پیٹرن ان چیف اور بورڈ آف گورنرز کو نوٹس جاری کر دیا

اسلام آباد: پاکستان سپر لیگ کو الگ پرائیویٹ کمپنی کے طور پر رجسٹر کرانے کی قرارداد منظور کرنے کا معاملہ،اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے پیٹرن ان چیف اور بورڈ آف گورنرز کو نوٹس جاری کر دیا،تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس عامر فاروق نے سول سوسائٹی کی درخواست پر سماعت کی۔ پاکستان سپر لیگ کو الگ پرائیویٹ کمپنی کے طور پر رجسٹر کرانے کی قرارداد منظور کرنے کے معاملے پر عدالت نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے پیٹرن ان چیف اور بورڈ آف گورنرز کو نوٹس جاری کر دیاہے۔

درخواست گزارکے وکیل طارق اسد ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایاکہ پی ایس ایل کو الگ کمپنی کے طور پر رجسٹر کرانے کی قرارداد کی منظوری اختیارات سے تجاوز ہے، پی سی بی آئین کے تحت ایسی قرارداد منظور نہیں کی جا سکتی، ملک میں کرکٹ کے فروغ اور نگرانی کا اختیار صرف پی سی بی کو ہے، پی ایس ایل میں اربوں روپے کے فنڈزاور منافع ہے اس لیے پی سی بی سے الگ کرنا چاہتے ہیں،

پی ایس ایل کے لاہور میں صرف ایک ڈنر پر چار کروڑ روپے خرچ کیے گئے، پی ایس ایل فرسٹ سیزن کی آڈٹ رپورٹ سے مزید حقائق سامنے آ سکتے ہیں، پی ایس ایل کو علیحدہ کمپنی بنانا مخصوص افراد کو پیسہ کمانے کی اجازت دینے کی کوشش ہے، وزیراعظم سے قربت کے باعث پی سی بی کے معاملات نجم سیٹھی چلا رہے ہیں، پی سی بی کے بورڈ آف گورنرز کے ممبرز نجم سیٹھی اور شکیل شیخ پر بدعنوانی کے الزامات ہیں، واضح رہے کہ پی سی بی کے 8 نومبر کے بورڈ آف گورنرز اجلاس میں قرارداد منظور کی گئی تھی۔