Cloud Front
Karan Johar

میرے شو میں بھی لوگ اب کھل کر بات کرنے سے گریز کرتے ہیں: کرن جوہر

سارے مہمان جانتے ہیں کہ کوئی ڈاٹ کام یا سوشل میڈیا ان پر نظر رکھ رہا ہے، شو کی 100قسطیں ہونے پر خوش ہو ں، فلم میکر

ممبئی: بالی ووڈ فلم ساز کرن نے کہا ہے کہ پہلے فلمی ستارے ان کے شو میں جتنی بے باکی سے بات کرتے تھے اب ویسا نہیں ہوتا ہے۔بالی وڈ کے فلم ساز کرن جوہر کے معروف ٹی وی شو ‘کافی ود کرن’ کی 100 قسطیں پوری ہو چکی ہیں لیکن اب کرن کا کہنا ہے کہ پہلے فلمی ستارے ان کے شو میں جتنی بے باکی سے بات کرتے تھے اب ویسا نہیں ہوتا۔کھل کر بات نہ کرن سے نقصان یہ پہنچا ہے کہ اب سٹارز کرن کے شو میں متنازع موضوعات پر بات کرنے سے گریز کرتے یا پھر ہچکچاتے ہیں۔کرن جوہر کہتے ہیں: ‘یہ سارے مہمان جانتے ہیں کہ کوئی ڈاٹ کام یا سوشل میڈیا ان پر نظر رکھ رہا ہے۔ اب انھیں معلوم ہے کہ وہ کچھ بھی بولیں گے تو اس کا کوئی اور مطلب بھی نکل سکتا ہے، ہیڈ لائن بن سکتی ہے لیکن یہ ان کے لیے اچھا نہیں ثابت ہوگآ۔’وہ مزید کہتے ہیں:

‘اس لیے کچھ بولنے سے پہلے وہ سوچتے ہیں۔ یہ غلط بات ہے کیونکہ کچھ باتیں بطور مذاق مختلف تناظر میں کہی جاتی ہیں لیکن ان کی تشریح کچھ اور ہی کر لی جاتی ہے۔ میں تو یہی کہوں گا کہ کوئی کسی کو دکھ نہیں پہنچانا چاہتا، بس سب کا اپنا ایک نظریہ ہوتا ہے۔’کافی ود کرن کا پہلا سیزن 2004 میں شروع ہوا تھا اور پہلے مہمان شاہ رخ خان اور کاجول تھے۔ 2016 میں پانچویں سیزن کی شروعات بھی شاہ رخ کے ساتھ ہی ہوئی۔ اس کے بعد ٹوئنکل کھنہ اور اکشے کمار اس میں آئے۔حال ہی میں دو ایسے مہمان آئے جن کو ایک ساتھ لانے کا کام کرن ہی کر سکتے تھے۔

اور یہ مہمان تھے رنویر سنگھ اور رنبیر کپور۔ایک دوسرے پر طنز کرنے اور حاضر جوابی کا چلن شاید کرن کے شو سے ہی شروع ہوا۔کرن جوہر کو ایسا لگتا ہے کہ شو میں لوگ کم بولتے ہیں لیکن بعض کے مطابق کچھ نہ بول کر بھی لوگ بہت کچھ بول جاتے ہیں۔کرن اس بات سے بہت خوش ہیں کہ 100 قسطیں پوری ہوچکی ہیں کیونکہ ان کی شناخت ٹی وی سے بھی بنی ہے۔وہ کہتے ہیں: ‘جب لوگ مجھے دیکھتے ہیں تو وہ مجھے ایک اینکر کی طور پر پہنچاتے ہیں۔ فلم ساز یا ڈائریکٹر کے طور پر نہیں۔’اس شو کے اگلے پروگرام عامر خان آنے والے ہیں جو اپنی آنے والی فلم دنگل کے بارے میں بات کریں گے۔