Cloud Front

روس و ایران طالبان کو سیاسی عمل میں شامل نہ کریں، بھارت

بھارت اور روس کے دوطرفہ باہمی تعلقات میں کوئی منفی رجحان نظر نہیں آتا لیکن افغانستا ن میں حالیہ روش پر تشویش کا سامنا ہے، ترجمان بھارتی وزیر خارجہ

نئی دہلی: بھارت نے روس اور ایران کو خبردار کیا ہے کہ افغانستا ن کے زمینی حقائق بدلنے کے لئے طالبان کو سیاسی عمل کا حصہ بنانے کی کوشش نہ کریں۔بھارتی میڈیا کے مطابق نئی دہلی سرکار کا کہنا ہے کہ طالبان کو کسی بھی سیاسی عمل کا حصہ بنانے سے پہلے مکمل طور پر تشدد اور دہشت گردی کو خیر باد کہہ کر القائدہ سے روابط توڑنے ہوں گے اور آئینی اور جمہوری قوانین کا احترام کرنا ہو گا۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سوراپ نے کہا کہ بھارت اور روس کے دوطرفہ باہمی تعلقات میں کوئی منفی رجحان نظر نہیں آتا لیکن بھارت کو روس کی افغانستا ن میں حالیہ روش پر تشویش کا سامنا ہے۔روس کی وزارت خارجہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار ضمیر کبو لوو کے مطابق افغانستان میں داعش کے حوالے سے روس اور طالبان کے مشترکہ مفادادت ہیں،ہم سمجھتے ہیں کہ افغان طالبان ایک قومی ، عسکری اور سیاسی تحریک ہیں۔بھارتی میڈیا نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران افغانستا ن میں داعش کے خطرہ کے پیش نظر طالبان سے رابطہ رکھنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔افغان حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ ایران نہ صرف افغانستان میں طالبان کی پشت پناہی کررہا ہے بلکہ ان کو ہتھیار بھی فراہم کررہا ہے۔ دوسری جانب تہران نے طالبان کے ساتھ کسی بھی قسم کے روابط ہونے سے انکار کیا ہے۔