Cloud Front
national-assembly

چھتیس اجلاس اور اٹھاسی قوانین !‌

موجودہ قومی اسمبلی کے چھتیس اجلاسوں میں اٹھاسی قوانین کی منظوری
گذشتہ اسمبلی نے اسی عرصے میں 78 قوانین کی منظوری دی تھی
موجودہ اسمبلی نے تاحال نجی اراکین کا کوئی قانونی مسوّدہ منظور نہیں کیا ،فافن کی رپورٹ

اسلام آباد: چودھویں قومی اسمبلی نے جون 2013 سے اکتوبر 2016 کے دوران اپنے پہلے چھتیس اجلاسوں میں اٹھاسی (88) قانونی مسوّدوں کی منظوری دی ہے جبکہ معیشت، سکیورٹی اور عدلیہ جیسے شعبہ جات قانون سازی کی ترجیحات میں سرفہرست رہے ہیں۔ موجودہ اسمبلی نے تاحال صرف حکومتی قانونی مسوّدوں ہی کی منظوری دی ہے جبکہ نجی اراکین کے پیش کردہ زیادہ تر قانونی مسوّدات اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں میں زیرِ التوا ہیں۔ تیرہویں قومی اسمبلی نے اسی عرصے میں اٹھہتر (78)قانونی مسوّدات کی منظوری دی تھی جن میں سات نجی اراکین کی جانب سے تجویز کیے گئے قوانین بھی شامل تھے۔ فافن کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ قومی اسمبلی کی قانونی سازی کی ترجیحات میں معیشت، انسانی حقوق اور تعلیم کے شعبے شامل تھے اور ان موضوعات پر بالترتیب سترہ، بارہ اور دس قوانین منظور کیے گئے تھے۔

موجودہ حکومت کی جانب سے اب تک آرڈیننس کے ذریعے قانون سازی کا رجحان پچھلی حکومت کی نسبت کچھ کم رہا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کی اکثریت رکھنے والی حالیہ اسمبلی کے پہلے چھتیس اجلاسوں میں حکومت کی جانب سے بتیس(32) آرڈیننس پیش کیے گئے ہیں جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کی اکثریت والی گذشتہ اسمبلی میں اکیانوے (91) آرڈیننس پیش کیے گئے تھے البتہ ان میں سے پینتیس(35) آرڈیننس سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کی جانب سے ایمرجنسی (تین نومبر 2007 تا پندرہ دسمبر 2008) کے دنوں میں جاری کیے گئے تھے جنہیں عدالتِ عظمٰی کے حکم پر پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں اسمبلی میں پیش کیا گیا تھا۔ اس دوران پیش کیے جانے والے باقی چھپن (56)آرڈیننس کا اجرا پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کی حکومت کی جانب سے کیا گیا۔ دونوں اسمبلیوں نے اپنے چھتیس اجلاسوں میں انتیس، انتیس آرڈیننسوں کی منظوری دی۔

موجودہ اسمبلی کے دور میں آٹھ مواقع پر قانون سازی کے عمومی طریقہ کار سے انحراف کرتے ہوئے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کی سفارشات طلب کیے بغیر حکومتی قوانین منظور کیے گئے۔ ان آٹھ قوانین میں دو آئینی ترامیم اور سکیورٹی سے متعلقہ قوانین میں ترامیم بھی شامل ہیں۔ ان قوانین کی فوری منظوری کے لیے حکومت کی جانب سے اسمبلی کے قواعد وضوابط کے تقاضوں سے صرفِ نظر کرنے کی تحاریک پیش کی گئیں تھیں۔مزید برآں قائمہ کمیٹیوں کی سفارشات میں تعطّل بھی قانونی سازی کی رفتار سست کرنے کا سبب بنا۔ قائمہ کمیٹیوں نے اپنی سفارشات پیش کرنے کے لیے قواعدو ضوابط میں مقرر کردہ مدّت سے کہیں زیادہ وقت لیا۔

اسمبلی کے قواعد و ضوابط کے تحت عموماً کمیٹیوں کو اپنی سفارشات تیس دن کے اندر اسمبلی کے سامنے رکھنا ہوتی ہیں تاوقتیکہ اسمبلی کسی معاملے کو کمیٹی کے سپرد کرتے وقت اس مدّت کو زیادہ یا کم کردے۔ مگر کمیٹیوں نے حکومتی قانونی مسوّدات پر سفارشات پیش کرنے کے لیے اوسطاً فی بل 172 دنوں کا وقت لیا۔ سٹیٹ لائف انشورنش کارپوریشن کی تنظیم نو اور کریڈٹ بیوروز سے متعلق حکومتی قانونی مسوّدات پر متعلقہ قائمہ کمیٹی نے فقط دو روز میں اپنی رپورٹ ایوان میں پیش کردی جو کہ مختصر ترین مدّت ہے جبکہ فارن ایکسچینچ سے متلعقہ قانون پر کمیٹی کی رپورٹ آنے میں 590 دن کا وقت لگا۔

گیارہحکومتی قانونی مسوّدات کو کمیٹی کی سفارشات کا انتظار کیے بغیر منظور کردیا گیا کیونکہ متعلقہ کمیٹیاں مقررہ وقت میں اپنی سفارشات پیش کرنے میں ناکام رہیں تھیں۔ یہ سبھی قوانین آرڈیننسوں کی صورت میں پہلے سے نافذ العمل تھے اور ان کا تعلق معیشت، سکیورٹی، توانائی اور انتخابات کے شعبوں سے تھا۔دوسری جانب کمیٹیوں کی جانب سے 142 نجی اراکین کے قانونی مسوّدات میں سے صرف ستائیس پر ایوان میں سفارشات جمع کرائی ہیں جبکہ 114 مسوّدات کمیٹیوں میں ہی زیرِ التوا ہیں۔ جن ستائیس نجی قانونی مسوّدات پر سفارشات پیش کی گئی ہیں ان میں سے ہر بل پر اوسطاً 419 دن کا وقت صرف کیا گیا اور دس قانونی مسوّدات کو منظور کرنے کی سفارش کی گئی ہے جبکہ باقی سترہ کو مسترد کردیا گیا ہے۔ تاہم کمیٹیوں کی سفارشات کے باوجود حکومت ان دس نجی اراکین کے قانونی مسوّدات کو اسمبلی میں منظوری دلوانے سے گریزاں ہے۔ ان مسوّدات کو پیش کرنے والے اراکین نے بارہا ان پر اسمبلی میں بحث اور غور کی تحاریک پیش کی ہیں لیکن حکومتی درخواست پر ان تحاریک کو زیرِ التوا رکھا گیا ہے۔ اس بابت حکومتی وزرا کی جانب سے ایوان میں یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ ان سے ملتے جلتے حکومتی قانونی مسوّدات اسمبلی میں جلد پیش کیے جائیں گے۔

البتہ تاحال صرف ہندو برادری کی شادیوں سے متعلق ایک ہی ایسا قانون اسمبلی سے منظور کرایا جاسکا ہے۔متحدہ قومی موومنٹ کے اراکین اسمبلی چالیس قانونی مسوّدات اسمبلی میں پیش کر کینجی قانون سازی میں سرِ فہرست رہے جبکہ مسلم لیگ ن کے اراکین نے ستائیس، پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے اراکین نے تئیس، پاکستان تحریک انصاف کے اراکین نے سترہ، جمیعت علمائے اسلام کے اراکین نے سولہ اور جماعت اسلامی کے اراکین نے گیارہ قوانین ایوان میں پیش کیے۔ قومی وطن پارٹی کے ایک رکن نے بھی ایک قانونی مسوّدہ اسمبلی میں پیش کیا جبکہ بقیہ چھ مسوّدے مختلف جماعتوں کے اراکین کی جانب سے مشترکہ طور پر پیش کیے گئے تھے۔