Cloud Front
PIA

پی آئی اے چیئرمین کی تقرری:حکومت کو مشکلات کا سامنا

کوئی بھی ایئرلائن کے موجودہ حالات میں اس پوزیشن کو سنبھالنے کے لیے راضی نہیں،چیئرمین نجکاری کمیشن
ایئرلائن کو ’کور‘ اور ’نان کور‘ میں تقسیم کیے جانے کے عمل کے دوران حکومت ملازمین کو نکالنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی، محمد زبیر

لاہور: حکومت کو پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کے نئے چیئرمین کی تلاش میں مشکلات کا سامنا ہے۔حکومت کی جانب سے اب تک اس حوالے سے جس سے بھی رابطہ کیا گیا، کوئی بھی ایئرلائن کے موجودہ حالات میں اس پوزیشن کو سنبھالنے کے لیے راضی نہیں۔ایئرلائن کے گزشتہ چیئرمین اعظم سہگل نے حویلیاں کے قریب ہولناک طیارہ حادثے کے چار روز بعد 12 دسمبر کو عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔نجکاری کمیشن کے چیئرمین محمد زبیر کے مطا بق طیارہ حادثے کے بعد ہمیں اس پوزیشن کے لیے موزوں امیدوار کی تلاش میں مشکلات کا سامنا ہے،

حکومت نے اب تک جس سے بھی رابطہ کیا ان میں سے کوئی بھی ایئرلائن کے موجودہ حالات میں اس پوزیشن کو سنبھالنے کے لیے راضی نہیں۔‘انہوں نے کہا کہ ’اس عہدے کی ذمہ داریاں اتنی مشکل اور کٹھن ہیں کہ گزشتہ سات ماہ کے دوران اس پوزیشن سے پی آئی اے کے 2 چیئرمین استعفیٰ دے چکے ہیں۔حکومت کے ایئرلائن کو ’کور‘ اور ’نان کور‘ بزنس یونٹس میں تقسیم کرنے کے حوالے سے سوال پر محمد زبیر کا کہنا تھا کہ ’یہ عمل اپنے آخری مراحل میں ہے، لیکن یہ عمل نئے چیئرمین کی تقرری کے بعد مکمل ہوگا۔‘انہوں نے کہا کہ ’نجکاری کمیشن کے مالیاتی مشیروں نے کور اور نان کور بزنس یونٹس کے حوالے سے تین ہفتے قبل پی آئی انتظامیہ سے ملاقات کی اور اس کے طریقے کار پر غور کیا، اگلی ملاقات ایئرلائن کے بورڈ کو یہ منصوبہ منظوری کے لیے پیش کیے جانے سے قبل جنوری میں ہونی تھی، لیکن اب یہ نئے چیئرمین کی تقرری کے بعد ہوگی، حتمی فیصلہ انہیں اعتماد میں لینے کے بعد کیا جائے گا۔‘محمد زبیر نے کہا کہ ایئرلائن کو ’کور‘ اور ’نان کور‘ میں تقسیم کیے جانے کے عمل کے دوران ہوسکتا ہے کہ چند ملازمین کے تبادلے کردیئے جائیں، لیکن حکومت ملازمین کو نکالنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔