Cloud Front
Afghan Border

افغان سرحد پر موجود دہشت گرد خطے کیلئے خطرہ ہیں، امر یکہ

پاک افغان سرحدی علاقوں میں اب بھی متعدد دہشت گرد گروپوں کے ٹھکانے موجود ہیں، دونو ں مما لک کے درمیان فوجی تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے ،ینٹاگون

واشنگٹن: امریکی محکمہ دفاع ’پینٹاگون‘ کا کہنا ہے کہ پاک۔ افغان سرحد پر موجود دہشت گرد گروپ دونوں ممالک کے لیے سیکیورٹی چیلنج اور خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔رواں ہفتے ’افغانستان میں سیکیورٹی اور استحکام میں اضافہ‘ کے نام سے جاری رپورٹ میں پینٹاگون نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان اور افغانستان کے درمیان فوجی تعاون بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ’پاکستان اور افغانستان کا سرحدی علاقوں میں اب بھی متعدد دہشت گرد گروپوں کے ٹھکانے موجود ہیں۔

ان دہشت گرد گروپوں میں طالبان، القاعدہ، القاعدہ برصغیر، حقانی نیٹ ورک، لشکر طیبہ، کالعدم تحریک طالبان پاکستان، داعش۔ خراسان، اور اسلامک موومنٹ آف ازبکستان شامل ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’القاعدہ برصغیر‘ جنوبی اور وسطی ایشیا سے بڑے پیمانے پر جنگجو بھرتی کر رہی ہے، جس سے خطے میں امریکی مفادات کو براہ راست خطرہ لاحق ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ’امریکا، پاکستان کی جانب سے سیکیورٹی ماحول میں بہتری کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کو سراہتا ہے لیکن ساتھ ہی دہشت گردوں اور شدت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا مکمل خاتمہ چاہتا ہے