Cloud Front
Ch Nisar

چوہدری نثار کی پریس کانفرنس حکومت یا اپوزیشن کے خلاف !

رپورٹ : علی رضا شاف :

وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی پریس کانفرنس جارحانہ انداز
اپوزیشن کے لئے کم حکومت کے لئے زیادہ تشویش ناک
پریس کانفرنس میں آف شور کمپنیوں اورکرپشن کا ذکر کیوں ؟
حکومت کے لئے آئند چند دن کسی طوفان کا پیش خیمہ ؟

وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے پریس کانفرنس میں کافی جارحانہ انداز اپناتے ہوئے اپوزیشن کے الزامات کا جوا ب دیا.
اگر دقیق نظر ی سے دیکھا جائے تو شہباز شریف چوہدری نثار علی خان کے کافی قریب جانے جاتے ہیں ماضی میں جب چوہدری نثار علی خان پارٹی سے نالاں تھے تو شہباز شریف ہی ان کو منانے کا کام کرتے رہے ہیں جبکہ چوہدری نثار کی طبیعت مردم بیزار ہے جس کی بدولت کم ہی لوگ ان کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے دعویدار ہیں اس وقت ان کے خلاف مہم پر شہباز شریف بھی نہیں‌ بولے، اور میاں‌نواز شریف جنہیں وہ اپنا استعفیٰ بھی پیش کر چکے ہیں ان کی جانب سے بھی اس تمام معاملے میں کوئی لب کشائی نہیں کی گئی شاید میاں نواز شریف اس معاملے پر بول کر پیپلزپارٹی سے مک مکا کے تمام راستے بند نہیں کرنا چاہتے؟

اس کے علاوہ پاکستان پیپلزپارٹی کی جانب سے حکومت کو 27 دسمبر تک دی گئی ڈیڈ لائن میں پیش کیے جانے والے چار مطالبات میں چوہدری نثار کا استعفیٰ بھی شامل ہے اسی اثناء میں سابق صدر آصف علی زرداری جو کہ فوج کے خلاف بیان دینے کے بعد بیرون مک چلے گئے تھے وہ بھی واپس آرہے ہیں اس وقت وطن واپس لوٹنے کے پیچھے کیا محرکات ہیں کیا وہ ان تمام معاملات کو وقت سے پہلے نمٹانے آرہے ہیں ؟ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ وہ 27 دسمبر سے پہلے درمیانی راستہ نکالنے کی کوشش کریں گے

اس کے علاوہ عمران خان اس تمام معاملے پر خاموش بھی ہیں تو پی ٹی آئی کی جانب سے بھی چوہدری نثار کے استعفیٰ کا مطالبہ سامنے آیا ہے جبکہ ماضی میں عمران خان ہی وزیر اعظم کے متبادل کے طور پر چوہدری نثار کا نام پیش کر چکے ہیں، عمران خان اس وقت مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی دونوں کے درمیان سیاسی محاذ کو خاموشی سے دیکھتے ہوئے 27 دسمبر کے انتظار میں ہیں

جبکہ دوسری جانب کچن کیبنٹ میاں نواز شریف کو معاملے پر جارحانہ پالیسی کا مشورہ دے رہی ہے ان کی جانب سے وزریر داخلہ کے استعفیٰ کا بھی کہا گیا ، دیکھنا یہ ہے کہ کچن کیبنٹ کہیں وزیر اعظم کو غلط اقدام کی جانب تو نہیں لیکر جارہی کیونکہ اگر چوہدری نثار کا استعفیٰ آجاتا ہے تو حکومت کے لئے حالات مزید کشیدہ ہوسکتے ہیں ، ان کی پریس کانفرنس میں 80 فیصد حکومت کے خلاف چارج شیٹ کا واضح تاثر دیکھنے میں‌آیا ، اور وزارت کے بغیر اگر وہ چلیں گے تو ان کا رویہ کیسا ہوگا یہ اندازہ ان کی طبیعت اور پریس کانفرنس میں‌ ان جملوں سے کیا جا سکتا ہے کہ ” میں نے کوئی پٹرول پمپ یا آف شور کمپنی نہیں‌بنائی نہ پاناما میں نام ہے ” اس کے علاوہ انہوں نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی رپورٹ پر بھی کہا کہ ایک سوال جس کا تعلق وزیر اعظم آفس سے تھا اسکا جواب مجھ سے پوچھا گیا.

ان تمام حالات کو دیکھا جائے تو حکومت کے لئے آئند ہ چند دن کسی طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہونے جا رہے ہیں‌ کیونکہ میاں نواز شریف ایک دفعہ پھر مشکل حالات میں پھنس چکے ہیں اور اس دفعہ کچھ فیصلے ایسے محسوس ہورہے ہیں جیسے وہ کسی کے کہنے پر کر رہے ہیں جو ان کے لئے انتہائی مضر ثابت ہوسکتے ہیں