Cloud Front
World Bank

عالمی بینک نے سندھ طاس معاہدہ بچانے کیلئے انوکھا فیصلہ کرلیا

پاکستان اور بھارت کے درمیان 2 ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹس کی تعمیر پر پیدا ہونے والے اختلافات کو حل کرنے کیلئے سفیر مقرر کر دیا
پاکستان نے ان پلانٹس کی تعمیر پر اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے دریائے چناب اور نیلم میں پانی کے بہاؤ پر اثر پڑے گا

واشنگٹن: عالمی بینک نے سندھ طاس معاہدہ بچانے اور بھارت کے درمیان 2 ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹس کی تعمیر پر پیدا ہونے والے اختلافات کو حل کرنے کیلئے سفیر مقرر کر دیا ہے۔دونوں ممالک نے انڈس ریور سسٹم کیساتھ زیر تعمیر 2 ہائیڈرو الیکٹرک پاور پلانٹس کی تعمیر پر پیدا ہونے والے مسائل کو حل کرنے کیلئے چند ماہ قبل عالمی بینک سے رجوع کیا تھا۔ پاکستان نے ان پلانٹس کی تعمیر پر اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے دریائے چناب اور نیلم میں پانی کے بہاؤ پر اثر پڑے گا۔عالمی بینک نے جواب میں دونوں ممالک کو مسائل حل کرنے کیلئے سندھ طاس معاہدے کے استعمال کا میکنیزم طے کرنے کا کہا تھا تاہم دونوں کسی بھی نتیجے پر نہ پہنچ سکے اور دونوں نے مختلف طریقہ کار جاری کئے۔پاکستان کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کے برخلاف کشن گنگا اور ریٹل ہائیڈرو الیکٹرک پاور پلانٹس کی تعمیر پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ یہ پاور پلانٹس بھارت کی جانب سے بالترتیب کشن گنگا اور دریائے چناب پر تعمیر کئے جا رہے ہیں۔

بعد ازاں بھارت نے ایک غیر جانبدار ماہر بھیجنے کی درخواست کی جبکہ پاکستان نے ثالثی عدالت مقرر کرنے کا مطالبہ کیا۔عالمی بینک نے دونوں ممالک کی جانب سے اپنائے گئے موقف پر بیک وقت پیش رفت کی لیکن اسے یہ ڈر تھا کہ اس سے حاصل ہونے والے متضاد نتائج سندھ طاس معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں اور اسی باعث گزشتہ ہفتے انہیں ترک کر دیا گیا اور ورلڈ بینک گروپ کے صدر جم ینگ کم نے پاکستان اور بھارت کے وزراء خزانہ کو بھیجے گئے خطوط میں اس فیصلے سے آگاہ کیا اور موقف اپنایا کہ عالمی بینک سندھ طاس معاہدہ بچانے کیلئے ایسا کر رہا ہے۔

دراصل اس کا مطلب یہ تھا کہ عالمی بینک ثالثی عدالت یا غیر جانبدار نمائندوں کا چیئرمین مقرر نہیں کر رہا تھا۔ صدر کا کہنا تھا کہ ’’ہم سند ھ طاس معاہدے کو بچانے اور دونوں ممالک کو زیر تعمیر 2 پاور پلانٹس کی تعمیر پر سندھ طاس معاہدے کے تحت اختلاف کے حل کیلئے متبادل راستے تلاش کرنے کا موقع دینے کیلئے کارروائی روکنے کا اعلان کر رہے ہیں۔‘‘ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’یہ دونوں ممالک کیلئے اختلافات کوپرامن طریقے اور سندھ طاس معاہدے کی روح سے حل کرنے کیلئے ایک موقع ہے۔

بجائے اس کے کہ دونوں ممالک متوازی طریقہ اختیار کریں جس کے باعث سندھ طاس معاہدہ ناقابل عمل ہو سکتا ہے۔‘‘عالمی بینک کے ایک سینئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اگرچہ یہ معاملہ دونوں ممالک کو حل کرنے کا کہا گیا لیکن اس کے باوجود عالمی بینک نے دونوں فریقین کیساتھ رابطوں اور انہیں مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے ایک سفیر مقرر کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بینک کے صدر نئی دہلی اور اسلام آباد کے درمیان مذاکرات کیلئے این سولیمن کو نمائندے کے طور پر بھیجنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔سینئر عہدیدار کا کہنا تھا کہ ’’یہ اب بھی دونوں ممالک پر منحصر ہے کہ وہ اس معاملے پر بات چیت کریں اور اسے معاہدے کے تحت حل کریں۔

‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ معاہدے کے تحت بینک کا ایک باضابطہ کردار ہے اور یہ معاہدہ بینک کو اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ ایک فریق کے طریقہ کار کو دوسرے پر مقدم ٹھہرائے۔سندھ طاس معاہدہ 1960ء4 دنیا میں ہونے والے معاہدوں میں کامیاب ترین سمجھا جاتا ہے جو پاکستان اور بھارت کے درمین بارہا کشیدگی کے باعث بھی قائم ہے۔ اس معاہدے کے تحت دریاؤں کے استعمال کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان معلومات کے تبادلے کا میکنیزم بنایا گیا ہے جسے انڈس کمیشن کے نام سے جانا جاتا ہے اور اس میں دونوں ممالک کی جانب سے ایک ایک کمشنر ہوتا ہے۔ اس معاہدے میں دونوں فریقین کی جانب سے اٹھنے والے سوالات، اختلافات اور تنازعات کو حل کرنے کا طریقہ کار بھی وضع کیا گیا ہے۔