Cloud Front
High Court

شکار کیلئے جاری کردہ لائسنسز میں قانونی تقاضوں کو مدنظر نہیں رکھا گیا، لاہور ہائیکورٹ

لاہور ہائیکورٹ،پنجاب میں قطری اور سعودی شہزادوں کو تلور کے شکار کی اجازت کیخلاف درخواست کی سماعت
بادی النظر میں شکار کیلئے جاری کردہ لائسنسز میں قانون تقاضوں کو مدنظر نہیں رکھا گیا، ریمارکس
محکمہ وائلڈ لائف سے اکیس دسمبر تک شیڈول میں تبدیلی کیلئے کابینہ کو جاری کی گئی سمری اور دیگر متعلقہ دستاویزات

لاہور: چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے شہری نعیم صادق کی سردار کلیم الیاس ایڈووکیٹ کی وساطت سے دائر درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ وزارت خارجہ نے پابندی کے باوجود قطری اور سعودی شہزادوں کو تلور کے شکار کیلئے لائسنز جاری کر دیئے ہیں، لائسنسز کے اجراء4 کیلئے حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا سہارا لیا ہے،

حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے کی غلط تشریح کر رہی ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہیں نہیں لکھا کہ تلور کے شکار کی اجازت ہے، انہوں نے مزید موقف اختیار کیا کہ لاہور ہائیکورٹ پہلے بھی تلور کے شکار کے لائسنسز معطل کر چکی ہے، لہذا حالیہ دنوں میں قطری اور سعودی شہزادوں کو تلور کے شکار کیلئے جاری لائسنسز معطل کئے جائیں، سرکاری وکیل نے موقف اختیار کیا کہ محکمہ وائلڈ لائف کے شیڈول میں ترمیم کر کے شکار کے لائسنز جاری کئے ہیں، اسکے اجازت نامے عدالت میں پیش کر دیئے گئے ہیں جس پر درخواست گزار نے وکیل نے کہا کہ شیڈول میں تبدیلی کیلئے صوبائی کابینہ کی منظوری لازمی ہے، ایک سیکرٹری پوری کابینہ کا اختیار استعمال نہیں کر سکتا،

شکار کی اجازت کیلئے خصوصی رولز بھی بنائے جانے تھے لیکن آج تک وہ رولز بھی نہیں بنائے گئے، عدالت نے تفصیلی دلائل سننے کے بعد ریمارکس دیئے کہ بادی النظر میں شکار کے لائسنسز دیتے ہوئے قانونی تقاضوں کو مدنظر نہیں رکھا گیا، عدالت نے محکمہ وائلڈ لائف سے اکیس دسمبر تک شیڈول میں تبدیلی کیلئے کابینہ کو جاری کی گئی سمری اور دیگر متعلقہ دستاویزات طلب کر لیں۔