Cloud Front
Senat

سینیٹ کا مختلف سرکاری اداروں میں ٹیسٹنگ ایجنسیوں کے ذریعے بھرتیوں پر شدید تحفظات کا اظہار

اسلام آباد ،سینیٹ اراکین کا مختلف سرکاری اداروں میں ٹیسٹنگ ایجنسیوں کے ذریعے بھرتیوں پر شدید تحفظات کا اظہار
این ٹی ایس سمیت ٹیسٹنگ ایجنسیوں کو ختم یا ان کیلئے قانون سازی کا مطالبہ

اسلام آباد : سینیٹ میں اراکین نے مختلف سرکاری اداروں میں ٹیسٹنگ ایجنسیوں کے ذریعے بھرتیوں پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ این ٹی ایس سمیت ٹیسٹنگ ایجنسیوں کو ختم کرنے یا ان کیلئے قانون سازی کا مطالبہ کیا ہے۔ سوموار کے روز ایوان بالا میں ٹیسٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے سرکاری ملازمتوں کیلئے لیے جانے والے ٹیسٹ پر تحریک پیش کرتے ہوئے سینیٹر داؤد خان اچکزئی نے کہا کہ ملک میں بہت سے ادارے این ٹی ایس سمیت دیگر ٹیسٹنگ ایجنسیاں کام کررہی ہیں جو کہ بغیر کسی قانون سازی کے بھرتیوں کا کام کرتی ہیں جس کی وجہ سے کسی بھی ادارے کے پاس بھرتیوں کا ریکارڈ موجود نہیں ہوتا۔

انہوں نے کہاکہ ٹیسٹنگ ایجنسیوں کے اپنے افراد صرف بی اے پاس ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیسٹنگ ایجنسیاں بہت زیادہ فیس چارج کرتی ہیں اگر کوئی امیدوار ٹیسٹ دے دیتا ہے تو اس کا کوئی ٹائم پیریڈ نہیں ہے یہ ایک کاروبار بن چکاہے اور اپنی مرضی کے مطابق شارٹ لسٹنگ کرتے ہیں اور انہوں نے کہا کہ کروڑوں روپے فیسوں کی مدمیں وصول کئے جاتے ہیں اور اس کے بعد شارٹ لسٹنگ کی جاتی ہے انہوں نے کہاکہ ٹیسٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے لی جانے والی فیسیں سرکاری خزانے میں نہیں جاتیں اور یہ ادارے 2012 ء تک امیدواروں سے فیس لے چکے ہیں ان ٹیسٹنگ ایجنسیوں کوختم کیا جائے۔ سینیٹر اعظم سواتی نے کہا کہ این ٹی ایس کے سربراہ کی ڈگری جعلی تھی اور اسے نکالا گیا ہے۔ این ٹی ایس کے حکام پہلے سے بعض امیدواروں کو پیسے لے کر پاس کردیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے تعلیم یافتہ تباہ ہورہے ہیں این ٹی ایس حکام ہال کے اندر رشوت لیکر بعض امیدواروں کو پاس کرتے ہیں جبکہ اس سلسلے کو ختم کیا جائے۔ سینیٹر مولانا عطاء الرحمن نے کہا کہ این ٹی ایس چند ریٹائرڈ بیورو کریٹس کا قائم کردہ ہے اس کو تمام سرکاری اداروں پر مسلط کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ ان ٹیسٹنگ ایجنسیوں نے لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا ہے جس سے حکومت کے ادارے بدنام ہورہے ہیں یہ بہت بڑا فراڈ کا ذریعہ ہے ان اداروں کوختم کیا جائے۔ سینیٹر کلثوم پروین نے کہاکہ این ٹی ایس کا ادارہ ڈبل شاہ بن چکا ہے اور اس کا چیئرمین ملک سے فرار ہوچکا ہے انہوں نے کہا کہ این ٹی ایس سمیت ٹیسٹنگ ایجنسیاں کروڑوں کمارہی ہیں اس کی جانب توجہ دی جائے۔سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہاکہ این ٹی ایس سمیت دیگر ٹیسٹنگ ایجنسیاں صرف پیسوں کیلئے کام کررہی ہیں اور امیدواروں سے بہت زیادہ فیسیں وصول کی جاتی ہیں انہوں نے کہا کہ ٹیسٹنگ ایجنسیوں کیلئے قانون سازی ہونی چاہیے۔ سینیٹرسعید مندوخیل نے کہا کہ این ٹی ایس سمیت ان اداروں کا ملک کے ذہین طلباء کے مستقبل پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔ سینیٹر میاں عتیق نے کہا کہ بہت سے حلقوں نے این ٹی ایس پر اعتراضات کئے ہیں یہ ایک این جی او کے تحت قائم کیا گیا ہے جس کیلئے کوئی قانون سازی نہیں کی گئی۔ سینیٹر شاہی سید نے کہا کہ یہ ایک اہم مسئلہ ہے ٹیسٹنگ ایجنسیاں ملک میں بے روزگاروں سے پیسے لیتی ہیں۔ سینیٹر سردار اعظم موسیٰ خیل نے کہاکہ ٹیسٹنگ ایجنسیوں کے نام پرقابل اور غریب امیدواروں کی حق تلفی کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ این ٹی ایس سمیت ٹیسٹنگ ایجنسیوں کیلئے قانون سازی کی ضرورت ہے۔

سینیٹر الیاس بلور نے کہا کہ نیشنل ٹیسٹنگ سروس اور بلوچستان ٹیسٹنگ سروس سمیت کئی ادارے ملک میں کام کررہے ہیں یہ ادارے کس نے بنائے ہیں اگر یہ سرکاری ادارے ہیں تو ہمیں بتایا جائے۔ تحریک پر بحث کو سمیٹتے ہوئے وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ حکومتوں کے اوپر بھرتیوں کے الزامات لگنے کے بعد این ٹی ایس جیسے ادارے معرض وجوود میں آئے ہیں انہوں نے کہا کہ ٹیسٹنگ ایجنسیوں ذریعے صرف امیدواروں کی شارٹ لسٹنگ کی جاتی ہے انہوں نے کہا کہ ملک میں بے روزگاری بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے ایک آسامی کیلئے ہزاروں درخواستیں موصول ہوتی ہیں اور انہی ٹیسٹنگ ایجنسیوں کے ذریعے ابتدائی شارٹ لسٹنگ کی جاتی ہے انہوں نے کہا کہ ٹیسٹنگ ایجنسیوں کے ذریعے صرف گریڈ 15 تک کی سرکاری آسامیوں کیلئے شارٹ لسٹنگ کی جاتی ہے انہوں نے کہاکہ سسٹم میں خرابیاں موجود ہیں تاہم اس کو سفارشات کے ذریعے درست کیا جاسکتا ہے انہوں نے کہا کہ وزارتوں کے پاس ہزاروں امیدواروں کو سنبھالنا آسان نہیں ہوتا ہے ہمیں ملک میں شفاف طریقے سے بھرتیوں کیلئے اقدامات کرنے ہوں گے انہوں نے بتایا کہ اس وقت این ٹی ایس کیلئے کسی قسم کی قانون سازی نہیں کی گئی ہے تاہم اسٹیبلشمنٹ ڈویژن تمام معاملات کراسکتی ہے۔