Cloud Front
Ch Nisar

کر پشن کی بات کرنے والے بلاول سرے اوردبئی کے محل بھول گئے، چوہدری نثار

پیپلز پارٹی کا کرپشن کیخلاف مہم چلانا ایسے ہے جیسے بی جے پی مسلمانوں کے حقوق کیلئے مہم چلائے،پانامہ پانامہ کا شور کرنے والے بلاول اپنی والدہ کا کیس سپریم کورٹ لے جائیں بلاول کو’’گا ،گی‘‘ کا پتہ نہیں ، بچیکی الٹ پلٹ باتوں کا جواب نہ ما نگا جا ئے

وزارت داخلہ کو کریڈٹ دیں پیسوں کی خاطر معصوم شہریوں کو جلانے والے سفاک قاتل کو تھائی لینڈ سے پکڑ کر لے آئی
امریکی ہیلی کاپٹر نے ملکی خود مختاری کی خلاف ورزی کی ،ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر لانے کیلئے کابینہ سے کہوں گا،وزیر داخلہ

گزشتہ حکومت میں دھماکے ہوتے رہے حکمران عوام کو میٹھی گولیاں دیتے رہے ،پولیس اہلکار حکومت کے نہیں مملکت پاکستان کے ملازم ہیں ،اسلام آباد پولیس نے بھرتیاں وزیر داخلہ یا کسی رکن پارلیمنٹ کی سفارش پر نہیں میرٹ پر ہوئیں، ریپڈرسپانس فورس کے پہلے بیچ کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب ،میڈیا سے گفتگو

اسلام آباد: وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ امریکی ہیلی کاپٹر نے پاکستان کی خود مختاری کی خلاف ورزی کی تھی ،ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ کو منظر عام پر لانا چاہیے اس حوالے سے کابینہ میں سے مطالبہ کروں گا،پانامہ پانامہ کا شور کرنے والا بلاول سرے اوردبئی کے محل بھول گئے۔ جس شخص کی والدہ کانام پانامالیکس پرہو وہ دوسروں پربات کرتاہے،بلاول کو اپنی والدہ کا کیس سپریم کورٹ لے جانا چاہیے، آصف زرداری کی ایک بات سے متفق ہوں کہ وہ کرپشن پر بات نہیں کرتے۔عجب کرپشن کی غضب کہانی ہے جو کرپشن کے سوال پرجواب نہیں دیتے، پیپلز پارٹی کا کرپشن مخالف مہم چلانا ایسے ہے جیسے بھارت میں بی جے پی مسلمانوں کے حقوق کے لیے مہم چلائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹوکو’’ مذکر،مونث‘‘ کا علم نہیں،

ا مریکا میں الطاف کالیا کے پکڑے جانے پریہاں ایف آئی اے کو جھنجھوڑاتو انکوائری میں اس وقت کی پیپلزپارٹی حکومت لوگوں کی منی لانڈرنگ سامنے لے آئی، تھائی لینڈ سفاک قاتل کو بنکاک سے اٹھا کر لائے۔منگل کے روز ریپڈرسپانس فورس کے پہلے بیچ کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ جن کی والدہ کانام پانامالیکس میں ہے وہ دوسروں پراْنگلیاں اْٹھارہے ہیں،بلاول کو اپنی والدہ کا کیس سپریم کورٹ لے جانا چاہیے ،دوسروں کے نام پانامہ لیکس میں ہیں تو وہ سپریم کورٹ پہنچ گئے ہیں، پیپلز پارٹی کا کرپشن کے خلاف مہم چلانا ایسے ہی ہے جیسا کہ مودی کی بھارتی جنتا پارٹی ہندوستان میں مسلمانوں کے حقوق کے لیے تحریک چلائے ، سانحہ کوئٹہ رپورٹ پر بڑا شور مچایا جا رہا ہے ، ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ سامنے لائی جانی چاہئیے ،ضمیر کے علاوہ مجھ پر کسی کا کوئی دباؤ نہیں ہے ،

ان کا کیا دباؤ ہوگا جن کے پلے کچھ نہیں، ضمیر کے علاوہ مجھ پر کسی کا کوئی دباؤ نہیں ہے ، مجھ سے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے والوں کی اصلیت سب کے سامنے آ گئی ہے ، بلاول کو ’’گا‘‘ ’’گی‘‘ کا فرق نہیں پڑتا ان کی الٹ پلٹ باتوں کا جواب نہیں دینا چاہتا ، وزیر داخلہ نے کہا کہ ٹریفک قوانین کی پابندی سے سفارتخانے بھی مستثنیٰ نہیں ہیں امریکی سفارتخانے کوکہہ دیاکہ آئندہ ایساہواتوقانونی کارروائی کی جائیگی، ٹریفک قوانین سب کے لیے یکساں لاگو ہیں جو بھی خلاف ورزی کرے گا کارروائی ہو گی ۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں ملک میں دھماکے ہوتے رہے ، لوگ مرتے رہے ، ماضی میں کچہریوں میں بھی لوگ دہشت گردی کے واقعات میں شہید ہوتے رہے مگر ماضی کی حکومتوں نے کچھ نہ کیا اور لوگوں کو میٹھی گولیاں دیتے رہے، ہم نے آ کر ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ کیا اور آپریشن ضرب عضب کے باوجود ملک کی اندرونی سکیورٹی کے لیے 30ہزار فوجی جوان تعینات کیے ،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ پبلک کرنے کے حق میں ہوں ، وزیر اعظم کی منظوری کے بعد ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ منظر عام پر لائی جائے گی ،

امریکی فورسز نے یہاں آکر ایک شخص کو قتل کیا اورلے گئے، ہماری آزادی اور خودمختاری کو چیلنج کیا گیاتھا اور 65سالوں میں اس سے بڑی خودمختاری کوچیلنج نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ بلاول کے کے کان میں کسی نے کہہ دیا ہے کہ عمران خان اسٹائل اپنانے سے کشتی پار لگ جائے گی، بلاول بھٹو کی اردو ٹھیک نہیں اسے مونث مذکر کا معلوم نہیں۔انہوں نے کہا کہ خانانی اور کالیا کے ذریعے پاکستان سے بڑ ے پیمانے پر منی لانڈرنگ ہوئی، گزشتہ حکومت کے اہلکار بھی شامل تھے ،

آئندہ دو ہفتوں میں حقائق سے پردہ اٹھاؤں گا،امریکا میں الطاف کالیا کے پکڑے جانے پر یہاں ایف آئی اے کو جھنجھوڑا،میں نیخاموشی سے انکوائری کرائی تو تشویشناک صورتحال سامنے آئی۔چودھری نثار نے کہا کہ سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری میں پیسے کی خاطر لوگوں کو زندہ جلایا گیا، تھائی لینڈ کے وزیر داخلہ کو خط لکھ رہا ہوں۔وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ سندھ میں اے ڈی خواجہ جیسے ایماندار آئی جی کا برا حال کیا گیا،وزیرداخلہ نے سندھ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جبری رخصت پر بھیجنا افسوسناک عمل ہے۔وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہگزشتہ ڈیڑھ سے 2 سال میں ایف سی اوررینجرزپر75 ارب روپے خرچ کیے،کہ اسلام آباد کو پرسکون بنانے میں پولیس کا اہم کردار ہے،

سخت سردی میں بھی پولیس کے جوان سینہ سپر ہوتے ہیں ، اللہ تعالی نے پولیس کے ہاتھ میں انصاف کی چھڑی دی ہے میں وزیرسے ہٹ کربڑاہونے کی حیثیت سے پولیس اہلکاروں سیالتجاکرتاہوں کہ لوگوں کوانصاف دیں اور مجرموں،ملزموں اورقبضہ مافیا کی زمینیں تنگ کردو،مجھے کرائم ریٹ زیرو چاہئے، پولیس اہلکار کسی حکومت کے نہیں پاکستان کے ملازم ہیں ،رینجرزکے جوان جب کھڑے ہوتے ہیں تواپنے فرائض بخوبی انجام دیتے ہیں اور پولیس کوبھی رینجرز کے جوانوں کو دیکھ کر سیکھنا چاہئے،انہوں نے کہا کہ سابق آرمی چیف راحیل شریف سے کہہ کر اسلام آباد میں رسپانس فورس قائم کیآپریشن ضرب عضب شروع ہواتوپولیس کوتھرڈلائن ڈیفنس پررکھا، پہلے ملک میں دھماکے ہوتے رہے اورحکومتیں باتیں کرتی رہیں، پولیس کے شہیدوں نے جان کانذرانہ دیکرملک کا نام روشن کیا۔ انہوں نے پولیس کے جوانوں کو مخالطب کرتے ہوئے کہا کہ حرام میں کوئی برکت نہیں،نیک نیتی اورانصاف میں سکون ہے،جوانوں نے اپنے خون کانذرانہ دیکرملک میں دہشت گردی کاخاتمہ کردیا ہے ،

حکومت پولیس کے جوانوں کے مسائل بھی حل کرے گی پولیس کیلئے اعلیٰ ترین رہائش کابندوبست کیاجاچکاہے اور فروری 2017 سے یہ رہائش پولیس کے جوانوں کو مل جائے گی۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ یہاں سب پاس آؤٹ ہونے والے میرٹ پر آئے ہیں ،میں پاس آؤٹ ہونے والوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں ،پاس آؤٹ ہونیوالوں نے قانون کی پاسداری کرنی ہے، مجھے خوشی ہے آپ اس جہاد میں شامل ہورہے ہیں،پولیس میں شامل ہونیوالے پاکستان کا مان رکھیں۔انہوں نے کہا کہ پولیس کے حلف میں کہا گیا ہے کہ افسران بالا کا حکم مانوں گا، حلف میں یہ ہونا چاہئیے کہ افسران بالا کا جائز کام مانوں گا ، شی ہے ساڑھے3سالوں میں اسلام آبادپولیس میں بھرتی شفاف اندازمیں ہوئی اور وزیر داخلہ پاکستان نے بھی نائب قاصد کی بھرتی کی سفارش نہیں کی۔