Cloud Front
Pak-steel-mill

پاکستان سٹیل ملز نے مالی سال 2016/17کے دوران 4.9ارب کا نقصان کیا

پاکستان سٹیل ملز نے مالی سال 2016/17کے دوران 4.9ارب کا نقصان کیا ہے،قائمہ کمیٹی صنعت و پیداوار میں انکشاف
30ستمبر 2016تک مجموعی خسارہ167ارب روپے سے تجاؤز کر چکا ہے، سٹیل ملز کے ذمے بنکوں سمیت مختلف اداروں کے 177ارب سے ز ائد کے بقایا جات ہیں، سیکرٹری صنعت و پیداوار کی بریفنگ
کمیٹی نے سٹیل ملز کی موجودہ صورتحال پر بریفنگ کیلئے آئندہ اجلاس میں چیرمین نجکاری کمیشن اور سٹیل ملز کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کو طلب کرلیا
وزارت صنعت و پیداوارسے ملحق اداروں کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کیلئے ٹھوس بنیادوں پر سفارشات تیار کرنے کی ہدایت ، سمیڈا کو اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی بھی سفارش

اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار میں انکشاف کیا گیا کہ پاکستان سٹیل ملز نے مالی سال 2016/17کے دوران 4.9ارب روپے کا نقصان کیا ہے جبکہ30ستمبر 2016تک مجموعی خسارہ167ارب روپے سے تجاؤز کر چکا ہے اس وقت پاکستان سٹیل ملز کے ذمے بنکوں سمیت مختلف اداروں کے 177آرب روپے سے زیادہ کے بقایا جات ہیں گذشتہ سال ماہ جون سے قبل سٹیل ملز کی پیداوار45فیصد تک پہنچ چکی تھی مگر اچانک گیس کی فراہمی بند کرکے پیداوار ختم کر دی گئی جس کی وجہ سے اس کی نجکاری کی کوششیں ناکام ہوئی ہیں کمیٹی نے سٹیل ملز کی موجودہ صورتحال پر بریفنگ کیلئے اگلے اجلاس میں چیرمین نجکاری کمیشن اور سٹیل ملز کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کو طلب کر لیا ہے

کمیٹی نے وزارت صنعت و پیداوارکے ساتھ ملحق اداروں کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کیلئے ٹھوس بنیادوں پر سفارشات تیار کرنے کی ہدایت کی ہے جبکہ سمیڈا کو اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی بھی سفارش کی ہے کمیٹی کا اجلاس چیرپرسن ساجدہ بیگم کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا اجلاس میں کمیٹی کے اراکین کے علاوہ سیکرٹری صنعت و تجارت اور دیگر اداروں کے حکام نے شرکت کی اس موقع پر کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری صنعت و پیداوار نے بتایاکہ پاکستان سٹیل ملز گیس کی بندش کی وجہ سے جون2015سے بندہے سٹیل ملز کو حکومت کی جانب سے ماہانہ 40کروڑ روپے فراہم کئے جاتے ہیں اور گذشتہ دو سالوں کے دوران سٹیل ملز کے ملازمین کو تنخواہوں کی مد میں 10آرب روپے حکومت ادا کر چکی ہے

انہوں نے بتایاکہ اس وقت سٹیل ملز ملازمین کی تعداد`12800ہے جن کو ملز کی بندش کے باوجود تنخواہیں ادا کی جاتی ہیں انہوں نے بتایاکہ کہ اس وقت پاکستان سٹیل ملز 177آرب روپے سے زائد کی مقروض ہے جس میں بنکوں کے قرضے ،گیس بجلی اور پانی کے بلز اور دیگر ضروریات شامل ہیں انہوں نے بتایاکہ سٹیل ملز کو مالی سال 2016/17کے پہلے تین ماہ میں 4آرب9کروڑ روپے کا خسارہ برداشت کرنا پڑاجبکہ 30ستمبر2016تک سٹیل ملز کو 167آرب31کروڑ50لاکھ روپے کا خسارہ ہوا ہے کمیٹی کو بتایا گیا کہ سٹیل ملزکے ملازمین کو ڈیڈہ ماہ کی تنخواہوں کی منظوری ای سی سی نے ابھی دی ہے سٹیل ملز کی مجموعی اراضی19ہزار ایکٹر ہے حکومت کوشش کر رہی ہے کہ سٹیل ملز کی جلد از جلد نجکاری کی جائے اور اس سلسلے میں چیرمین نجکاری کمیشن چین اور ایران کی کمپنیوں سے بات چیت کر رہے ہیں تاہم ابھی تک اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا ہے کمیٹی کے رکن قیصر احمد شیخ نے کہاکہ بدقسمتی سے کمیٹیوں کی کارکردگی نہ ہونے کی وجہ سے گذشتہ تین سالوں سے کسی بھی ادارے کو درست نہ کر سکے انہوں نے کہاکہ پاکستان مسلم لیگ کی حکومت کا منشور ہے کہ تمام اداروں کی نجکاری کی جائے مگر بدقسمتی سے اس پر عمل درآمد نہیں ہورہا ہے

انہوں نے کہاکہ گذشتہ تین سالوں سے سٹیل ملز کی نجکاری کی بات کر رہا ہوں حکومت سٹیل ملز پر ماہانہ کروڑوں روپے
خرچ کر رہی ہے اس کی فوری نجکاری کی جائے تو ہم مذید نقصان سے بچ سکتے ہیں جس پر سیکرٹری صنعت و تجارت نے کہاکہ سٹیل ملز بہت بڑا ادار ہے اس کے ملازمین کی تعداد زیادہ ہے اور نقصا ن کی صورت میں کوئی بھی اس کو خریدنے کیلئے تیار نہیں ہے کمیٹی نے اجلاس میں چیرمین نجکاری کمیشن اور سٹیل ملز کے چیف ایگزیکٹیو کی اجلاس میں عدم شرکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ذمہ دار افسران کا یہ رویہ ہوگا تو اداروں کی نجکاری کیسے ہوگی کمیٹی نے دونوں افسران کو اگلے اجلاس میں طلب کر لیا ہے کمیٹی کو وزارت صنعت و تجارت کے دیگر اداروں سے متعلق بھی بریفنگ دی گئی کمیٹی کے رکن رانا محمد قاسم نون نے جنوبی پنجاب میں بھی انڈسٹریل زون تعمیر کرنے کا مطالبہ کیا جبکہ دیگر اراکین نے وزارت صنعت و تجارت کے اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کی سفارش کی کمیٹی کی چیرپرسن ساجدہ بیگم نے سمیڈا کی کاکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ ادارے کی جانب سے بنانے جانے والے منصوبے بہت طویل ہوتے ہیں جس پر عمل درآمد مشکل ہوتی ہے انہوں نے کہاکہ خیبر پختونخوا میں بیرونی ادارے فنڈنگ کرنا چاہتے ہیں مگر سمیڈا کے منصوبوں کی سمجھ نہیں آتی ہے اس کو درست کرنے کی ضرورت ہے جس پر وزارت کے ایڈیشنل سیکرٹری نے بتایاکہ سمیڈا کی کارکردگی کو بہت بہتر بنایا گیا ہے اور وزیر اعظم یوتھ لون سکیم کا کامیابی سے چلانے پر خراج تحسین پیش کیا گیا ہے ۔