Cloud Front

کول پاور پراجیکٹ اور ماحولیاتی آلودگی

2013میں کراچی میں گرمی کی شدت میں ہوش ربا اضافہ دیکھا گیا۔2015میں صرف جون کے مہینے تک700افراد گرمی اور حبس کی وجہ سے لقمہ اجل بنے۔ یہ پہلی بار نہ تھا بلکہ 2013سے کراچی میں گرمیوں میں سختی کے باعث اموات میں اضافہ ہو رہا تھا

حکومت نے اس گرمی میں اضافے اور ہلاکتوں کی وجوہات جاننے کے لئے ایک کمیٹی بنائی ۔ اس کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاست راجھستان میں لگے کوئلہ پاور پلانٹس اس گرمی اور ہلاکتوں کی بنیادی وجہ ہیں۔ راجھستانی علاقہ تھمبلی میں واقع گرال کول پلانٹ کی حرارت نے کراچی کے شہریوں کو ڈسا۔

سابق ڈی جی محکمہ موسمیات قمر الزمان چوہدری کی سربراہی میں کراچی میں گرمی اور ہلاکتوں کی وجوہات کا پتہ چلانے والی کمیٹی میں محکمہ صحت، محکمہ موسمیات، پی ڈی ایم اے، این ڈی ایم اے، ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اور دیگر محکموں کے نمائندے شامل تھے۔

گرال کول پلانٹ صوبہ سندھ سے صرف چند سو کلومیٹر دور واقع ہے جس کے باعث انڈسٹری سے نکلنے
والے دھویں کا رخ سندھ میں داخل ہونے کے باعث درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

کمیٹی نے حکومت کو سفارش کی راجھستان میں واقع برسنگ سر، صورت گڑھ، کوٹا، چھابڑا بجلی گھر کوئلہ سے چلتے ہیں اور زہریلا دھواں چھوڑتے ہیں اور اگر اس معاملے کو سفارتی سطح پر نہ اٹھایا گیا تو کراچی اس سے متاثر ہوتا رہے گا۔
کول پاور پلانٹس یا کوئلے سے چلنے والے بجلی بنانے کے پلانٹس دنیا بھر میں تنقید کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس وقت دنیا بھر میں پیدا ہونی والی بجلی میں سے55فیصد بجلی کول پاور سے پیدا ہوتی ہے۔

کول پاور پلانٹس اور ماحولیاتی خطرات
کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس گلوبل وارمنگ کی ایک بہت بڑی وجہ ہیں۔ کوئلہ کے استعمال سے Acid Rain اورsmogمیں اضافہ ہوتا ہے ۔

ہر سال 38ہزار Heart Attacks، 5لاکھ50ہزارAsthama Attacksاور12لاکھhospital admissionsانہی کول پاور پلانٹس سے نکلنے والے دھویں کی وجہ سے ہوتے ہیں

یورپ اور امریکہ میں کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کو آہستہ آہستہ ختم کیا جا رہا ہے۔ جرمنی نے 9کے9 کول پاور پلانٹ بند کر دیئے ہیں۔ ڈنمارک اور نیوزی لینڈ نے نئے کوئلے کے پلانٹس پر پابندی لگا دی ہے۔

کینیڈا اگلے دس سال میں کوئلے کے پلانٹس ختم کرنے کا فیصلہ کر چکا ہے اور نئے پلانٹ نہیں لگا رہا۔

خود دوست ملک چین میں کوئلے کے پاور پلانٹس پر بہت تنقید ہ رہی ہے ۔2ہزار میگا واٹ کا منصوبہ جو shenzhen اورhong Kongکے قریب لگایا جا رہا تھا اُسے روک دیا گیا ہے جس کی وجہ چینی میڈیا کی تنقید ہے۔ گرین پیس کے اندازے کے مطابق اگر یہ پاور پلانٹ لگ جاتا تو کم
از کم1700افراد کی اموات کا سبب بنتا۔

کوئلے کے دھویں میں 60سے زائد خطرناک Pollutantsہوتے ہیں جن میں دھات ، گیس ، organic compounds، وغیرہ شامل ہیں

ایک500میگا واٹ بنانے والا پلانٹ سال بھر میں 3ملین ٹن کاربن ڈائیواکسائیڈ پیدا کرتا ہے۔کاربن ڈائی اوکسائیڈ دم گھٹنے اور دل کی رفتار میں تیزی کا باعث بنتی ہے

دنیا میں سب سے زیادہ سلفر ڈائی آکسائیڈ کوئلے جلانے کی وجہ سے ہی بنتی ہے۔ Nitrogen Oxide اورSulpher Dioxice پانی سے مل کر Acid Rainیا تیزابی بارش کا باعث بنتی ہیں جو جلدی بیماریوں کے ساتھ ساتھ زمین کی پیداواری صاحیت کو ختم کر دیتی ہے۔Nitrogen Oxide Smogکا باعث بنتی ہے ۔

کوئلے کے جلنے سے Neurotoxin Mercuryپیدا ہوتا ہے۔ یہmercury ایک ذہر ہے جوfood chainمیں شامل ہو کر مختلف جان لیوا بیماریوں ، Nervous Systemکی خرابی کا باعث بنتا ہے۔

ان کیمیکلز کے علاوہ coal Burningکی وجہ سے fine particles of sulphate, nitrates, ammonia, sodium chloride, carbon and mineral dust وغیرہ بھی پیدا ہوتے ہیں جو دمہ ، دل کی بیماریوں اور پھیپھروں کی پیچیدگیوں میں اضافہ کرتے ہیں۔




محمد بلال افتخار خان پروگرام کھرا سچ سے وابستہ ہیں بین الاقوامی معاملات میں کافی گرفت رکھتے ہیں قومی اور بین الاقوامی اخبارات میں بھی لکھتے ہیں اورسٹریٹیجک سٹڈیز میں ایم اے کی ڈگری رکھتے ہیں