Cloud Front
Trump

امریکا:مسلمانوں کیلئے متنازع رجسٹری پروگرام ختم کرنے کا فیصلہ

پروگرام غیر موثر اور بے کار ثابت ہوا اس سے سکیورٹی میں بھی بہتری نہیں آئی، جس کے باعث اسے باضابطہ طور پر ختم کیا جا رہا ہے، محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی

واشنگٹن: امریکا کے محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے کہا ہے کہ وہ دہشت گردی کے شکار ممالک سے امریکا آنے والے لوگوں کے غیر فعال رجسٹری پروگرام کو ختم کر رہا ہے۔ بر طا نو ی خبر رساں ایجنسی کے مطابق محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے جس پروگرام کی منسوخی کا اعلان کیا یہ اْسی طرز کا پروگرام ہے جس پر نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ غور کر رہے ہیں۔ہوم لینڈ سکیورٹی کے ترجمان نیما حکیم نے کہا کہ ’نیشنل سکیورٹی انٹری۔ ایگزٹ رجسٹریشن سسٹم‘ پروگرام جو ’این ایس ای ای آر ایس‘ بھی کہلاتا ہے،

2011 میں معطل کردیا گیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ’پروگرام غیر موثر اور بے کار ثابت ہوا اور اس سے سکیورٹی میں بھی بہتری نہیں آئی، جس کے باعث ڈیپارٹمنٹ اسے باضابطہ طور پر ختم کر رہا ہے۔‘دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی سوال کیا گیا کہ کیا وہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی طرح مسلمانوں کی رجسٹری کے پروگرام کی حمایت کریں گے، جس کا انہوں نے کوئی واضح جواب نہیں دیا۔ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم کے کئی ساتھیوں نے بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ اس مردہ پروگرام میں دوبارہ جان نہیں ڈالے گی، حالانکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک مشیر نے ہی اس پروگرام کا خیال پیش کیا تھا

یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب فیس بْک، ٹوئٹر اور ایپل سمیت کئی ٹیکنالوجی کمپنیاں مختلف نیوز تنظیموں کو یہ بتاچکی ہیں کہ وہ مسلم رجسٹری قائم کرنے کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ کی مدد نہیں کریں گی۔رواں ماہ کے اوائل میں کئی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ملازمین نے اس آن لائن عہد پر دستخط کیے تھے، جس میں لوگوں کو ان کے مذہب کی بنیاد پر نگرانی اور بڑے پیمانے پر بے دخلی میں معاونت کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کی ڈیٹا رجسٹری کے لیے مدد فراہم نہ کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا تھا۔اس پروگرام کو ختم کرنے کے اوباما انتظامیہ کے فیصلے کی ناقدین بھی تعریف کر رہے ہیں، جنہوں نے اس پروگرام کو امتیازی قرار دیتے ہوئے اس پر تنقید کی تھی۔