Cloud Front
Salman Ghafoor

پاک۔ستان۔۔۔اور سودی نظام

بیشک سود ا ﷲاور اس کے رسول ؐ کے خلاف جنگ ہے۔۔(القرآن)
پاکستان دو لفظوں کا مرکب ہے۔۔”پاک “۔۔”ستان”۔۔یعنی ۔۔۔پاک لوگوں کی جگہ۔۔!

بہت ہی پیارے دوست سے ملاقات کا اتفاق ہوا۔ایک مناسب درجے کے سرکاری ملازم۔کہنے لگے، وقت کڑا کچھ آن پڑا ہے،کچھ رقم درکار ہے،بینک جا رہا ہوں۔۔کہا انتظار میں ہوں ، ہو آےئے۔۔۔۔واپسی پر چہرے کے تاثرات بدلے ہوے تھے۔۔استفسار پر کہنے لگے، قرض مل تو رہا ہے مگر شرح سود بہت زیادہ ہے۔فلاں بینک 22% پر دے رہا ہے تو فلاں 27%پر۔۔۔اب عام بندہ کیا کرے؟ سود کی لعنت سے بچنا بھی چاہتا ہوں مگر چارہ کوئی نہیں ۔چاہتے نہ چاہتے قرض لینا ہی پڑے گا۔۔۔اُن کی بیچارگی محسوس کرتے ہوے ذہن میں جو پہلا خیال ابھرا ، وہ تھا۔۔اسلامی جمہوریہ پاکستان۔۔۔!

چُپ سادھنے کی کوشش کی مگر خیالات کے متصادم لشکر باہم الجھنے لگے۔صفحہ قرطاس پر کچھ اتارنے کے لئے راہنمای درکار تھی۔کلامِ حق کا خیال آیا۔۔۔رِبا(سود) کے لغوی معنی زیادتی اور اضافے کے ہیں ۔رِبا کے متعلق مختلف مقا مات پر آیات نازل ہوئیں۔سورہ روم۔۔۔النسا۔۔آلِ عمران۔۔اور آخر میں جو سخت ترین وعید نازل ہوئی ، وہ سورہ بقرہ کا حصہ ہے۔آیات کی تفسیر پڑھتے ہوے حیرانی و پریشانی میں اضا فہ ہوتا گیا۔پوری مسلم اُمہ کی عقل پر ماتم کرنے کو جی چاہا۔ایک طرف ان احکامات کو دیکھتا تودوسری طرف ملک میں رائج تمویلی نظام کو۔

عبد ا ﷲ بن عباس سے مروی ہے کہ اسلامی مملکت میں جو شخص سود چھوڑ نے پر تیار نہ ہو تو خلیفہ وقت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سے توبہ کرائے اور باز نہ آنے کی صورت میں اس کی گردن اُڑا دے۔۔(ابنِ کثیر) ۔۔۔۔آج کسی حکمران سے یہ مطا لبہ کجا،خود وقت کے حکمران اﷲ اور رسول کے خلاف محاذ آرائی میں منافقت کا جھنڈا تھامے رہبروں کی صورت ہیں۔۔بچپن کے دوست صائم یا سین کی تقریبِ نکاح میں ، جو کہ بہاولپور کی ایک مسجد میں بخیر و عافیت طے پائی ،داکٹر وسیم اختر کی صحبت میں کچھ دیر بیٹھنے کا شرف حاصل ہوا۔قبلہ کا تعلق جما عت اسلامی سے ہے اور پنجاب اسمبلی کے ایک معزز رکن بھی ۔نکاح پڑھانے سے قبل انہوں نے نہایت دل دوز بات بیان کی ۔کہنے لگے، اسمبلی میں جب ایک اجلاس کے دوران انہوں نے سود پر مبنی ملکی مالیاتی نظام پر انگلی اُ ٹھائی کہ خدارا اس میں تبدیلی کا کوئی استمراری بندو بست کیجئے تو ایک نامور وزیر ، کہ جن کا نام لینا مناسب نہیں ، نے جوا باً کہا۔۔”ڈاکٹر صاحب دنیا چاند پر پہنچ گئی اورآپ ابھی تک چودہ سو سال پرانی باتیں کرتے ہیں” ۔۔۔گویا اﷲاتنا ہی کم فہم ہے (نعوذ با ﷲ) کہ اُ س کو معلوم نہ تھا کہ آج سے چودہ سو سال بعد نظامِ معیشت سود کے بغیر چلنا ممکن نہ ہو گا ۔۔؟ مگر یہ شمس و قمر کے پجاری ذرا فہم نہیں رکھتے۔۔۔!

چلےئے آ پ کی توجہ ایک اور مضحکہ خیز حقیقت کی طرف راغب کراتا ہوں ۔ہم انکی تقلید میں ہیں جو خود اپنی تقلید میں نہیں ۔دنیا میں سر گرداں معاشی نظام کا سرا ڈھونڈنے نکلیں تو یہودیوں کے ہاتھ میں ملتا ہے۔ارض و سماں کا مالک بائیبل میں بڑے صاف الفاظ میں سودی نظام کو اپنانے سے منع فرماتا ہے مگر با ئیبل کے پیروکار اپنی ہی مقدس تعلیمات سے منحرف ہو کر آج اس سودی نظام کے فروغ کا با عث ہیں۔سوال یہ اُٹھتا ہے کہ جو لوگ اپنی ہی مقدس تعلیمات کا انکار کرتے ہوے ایک بھٹکی ہوئی زندگی گزار رہے ہیں ،اُن کا جنا ہوا معاشی نظام تمہارے معاشرے میں کیا ترقی و خوشحالی کے باب جنے گا؟؟

مفتی تقی عثمانی کی تحریر (سود پر تاریخی فیصلہ)کا مطالعہ کرتے ہوے نا چیز پر اس بات کا ادراک ہوا کہ 1989ء کے بعد وفاقی شرعی عدالت میں سود کے خلاف کئی درخواستیں دائر ہوئیں اور ان کی سماعت کے بعد 1991ء میں وفاقی عدالت نے یہ فیصلہ صادر کیا کہ یہ قوانین اسلام کے منافی ہیں۔اس پر وفاقی حکومت پاکستان اور ملک کے مختلف بینک اور تمویلی اداروں نے سپریم کورٹ میں اس فیصلے کے خلاف دعوہ دائر کر دیا۔ان اپیلوں کی سماعت 1999ء میں ہوئی اور دسمبر 1999ء میں سپریم کورٹ نے بھی اپنا تا ریخ ساز فیصلہ سنا دیا،جس میں نہ صرف سود کو غیر قانونی اور اسلام کے منافی قرار دیا گیابلکہ وفاقی حکومت کو یہ ہدایت بھی کی گئی اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں ایک ایسا اختیاراتی کمیشن قائم کیا جائے جو موجودہ سودد پر مبنی مالیاتی نظام کواسلامی نظام پر منتقل اور کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔یہ فیصلہ 1100صفحات پر محیط ہے اور اس ملک کی تاریخ میں ضخیم ترین فیصلہ ہے، جسے پوری مسلم دنیا نے خوش آمدید کہا۔۔۔مگرصد افسوس۔۔کچھ ہی عرصہ بعد ایک بینک کی درخواست پر سپریم کورٹ نے فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے کیس دوبارہ وفاقی شرعی عدالت میں بھیج دیا۔۔۔تاہم اس فیصلے میں جو علمی بحث ہے ، اُس کی اہمیت اس واقعے سے کم نہیں ہوتی۔۔۔خدا جانے موردِ الزام کس کو ٹھہرانا چاہئیے۔۔۔حکمرانوں کو۔۔وفاقی حکومت کو۔۔بینکوں کو۔۔تمویلی اداروں کو۔۔سسٹم کو۔۔یا پھر سسٹم بنانے والوں کو۔۔؟

پیشہ ورانہ اختصاص اور مہارت کے حامل مذہبی علماء ،اقتصادی ماہرین اور بینکاروں نے مختلف قسم کے اسلامی طریقہ ہائے تمویل مرتب کئے ہیں جو سود کے بہترین متبادل ہیں اور یہ طریقہ ہائے تمویل دنیا کے مختلف حصوں میں تقریباًدو سو تمویلی اداروں کے استعمال میں ہیں ۔پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ یہاں حکومت اور نظام دونوں، سرمایہ دار طبقہ کی کوکھ سے جنم لیتے ہیں اور سرمایہ داروں کو صرف اپنے نفع سے غرض ہوتی ہے چاہے معاشرے میں بھوک اور افلاس رقص کرتے ہوں یا عوام اپنی زندگی سے بیزار۔۔۔!

سود ظلم کی وہ گھناؤنی صورت ہے کہ جتنی سخت وعید اس پر نازل ہوئی ، کسی اور معصیت کے ارتکاب پر نہ دی گئی۔ پیغمبرؐ معراج پر گئے تو دیکھا کہ کچھ لوگوں کے پیٹ کشادہ کمروں کی مانند بڑھے ہوئے ہیں اور ان کو عذاب ہو رہا ہے،ایسے ہی کچھ لوگ دیکھے جو خون کی ندی میں غوطے کھا رہے ہیں ۔۔۔پوچھنے پر پتا چلا کہ یہ سود خور ہیں۔۔۔مگر چھوڑےئے صاحب۔۔۔یہ تو صدیوں پرانی باتیں ہیں ، ہم جدید لوگوں کو ان سے کیا لینا دینا۔۔۔!
یہ کیسا اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے جہاں اسلام برائے نام۔۔جمہور غلام۔۔اور پاکستان سودی نظام کے رائج ہوتے تو کم از کم پاک نہیں ہو سکتا۔۔حل یہ ہے کہ حکمران سودی نظام کی تبدیلی میں اپنا کردار ادا کریں ورنہ عوام ہی ہوش کے ناخن لیں اور حکمرانوں کی تبدیلی کے لیے سرگردانِ عمل ٹھہر یں۔۔۔کہ پاک سر زمین میں ناپاکی کی کوئی گنجائش نہیں۔۔۔!
پاکستان دو لفظوں کا مرکب ہے۔۔۔”پاک”۔۔”ستان”۔۔یعنی۔۔۔پاک لوگوں کی جگہ۔۔۔۔؟

“سلمان غفور”

Salman Ghafoor