Cloud Front
zardari and nawaz shrif

”شیروں کا شکاری زرداری ”

پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری آج ڈیڑھ برس بعد وطن واپس لوٹے ہیں وہ خود ساختہ جلاوطنی کاٹ رہے تھے سیاسی مخالفین کی جانب سے ان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے کہ وہ ملک چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں لیکن آج انہوں نے وطن واپسی پر عوام کے جم غفیر سے خطاب کرتے ہوئے سب سے پہلے پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا اور سندھ ، پنجاب، کے پی کے اور بلوچستان کو متحد کرنے کا مثبت پیغام دیا ۔

خطاب کے دوران انہوں نے جس انداز میں عوام کو مخاطب کیا وہ کچھ دلچسپ اور نیا ہے انہوں نے ، بیٹیوں، بیٹوں اور نوجوانوں کے الفاظ ادا کیے جبکہ بھٹو اپنے خطاب میں میرے نوجوان ساتھیوں کا لفظ استعمال کیا کرتے تھے زرداری کا یہ انداز بھی کافی مثبت تاثر رکھتا ہے ۔

شاید آصف زرداری اس بات سے بھی آشنا ہو چکے ہیں کہ کشمیر کی بات کیے بغیر وہ اپنے سیاسی مقاصد حاصل نہیں کر سکتے اور انہوں نے کشمیر کے لئے بھی نعرہ بلند کر دیا اس سے پہلے وہ کشمیر کی کم ہی بات کیا کرتے تھے ۔انہوں نے کہا کشمیر تکمیل پاکستان ثابت ہوگا ۔
سابق صدر ایک بھاری جملہ ادا کرنے کے
بعد خود ساختہ جلا وطنی کاٹنے چلے گئے تھے جو فوج اور اسٹبلشمنٹ کے خلاف تھا کہ آپ تین سال کے لئے آتے ہیں اور آپ نے چلے جانا ہے جبکہ ہم نے ہمیشہ یہاں رہنا ہے ۔ لیکن آج وہ فوج کی تعریف بھی کر گئے واضح رہے جنرل باجوہ کی تقرری پر وہ انہیں فون کرکے مبارکباد بھی دے چکے ہیں شاید وہ بتانا چاہ رہے تھے کہ وہ اپنے بیان پر پچھتاوہ رکھتے ہیں

درمیان میں وہ بلاول کی شادی کی جانب بھی اشارہ دے گئے جب انہوں نے کہا کہ ہمیں مستقبل کو بہتر بنانا ہے اپنے بچوں کے لئے ، آپ کے بچو ں کے لئے ، بلاول کے بچوں کے لئے ۔ اب یہ ان کے لئے بھی پیغام ہے جو کہتے ہیں کہ بلاول شادی نہیں کریں گے ۔

خطاب میں اصل مدعا کی جانب آتے ہوئے سڑکوں کے علاوہ کام کرنے کا کہا اور ایک سرمایہ دار خاندان پر تنقید کر کے چھپے الفاظ میں میا ں نواز شریف کو اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کا عندیہ دیا، ان کے خطاب سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ وہ آئندہ انتخابات کی تیاری بھی کر رہے ہیں اسی لئے اختتام میں پارٹی ترانہ چلا ”شیروں کا شکاری زرداری”جس سے یہ بھی واضح ہوا کہ وہ آئندہ انتخابات میں پاکستا ن تحریک انصاف و دیگر جماعتوں کی بجائے مسلم لیگ ن کو اہم ہدف سمجھتے ہیں آج کے خطاب میں سیاست میں واپسی کے مصداق ہے اور ان کی آئندہ دنوں کی پلاننگ کا خلاصہ بھی۔دقیق نظری سے دیکھا جائے تو وہ عمران خان کے خلاف نہیں بولے شاید وہ انہیں مستقبل میں ساتھ لیکر چلنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور عمران خان بھی حقیقت میں شیر کا شکار کرنا چاہتے ہیں اس کے لئے ہو سکتا ہے وہ زرداری کی بجائے بلاول سے ہاتھ ملا لیں او ر زرداری بھی جو کام خود نہیں کر سکتے وہ بلاول سے کروانے کے عزائم پر کاربند ہیں ۔