Cloud Front

چوہدری نثار کا استعفیٰ اور آصف زرداری !

پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین ، سابق صدر آصف علی زرداری کل پاکستان واپس لوٹ آئیں ہیں ان کی آمد سے پہلے سندھ رینجرز کی جانب انتہائی کاروائی کی گئی جس میں سابق صدر کے انتہائی قریبی ساتھی انور مجید کے دفاتر پر کاروائی کی گئی جس میں ابتدائی رپورٹ میں مبینہ طور پر کچھ فائلیں بھی قبضہ میں لی گئیں اور جب وہ جلسہ سے خطاب کر چکے اس کے بعد اسلحہ ملنے کی خبریں گردش کرتی نظر آئیں

تاہم اس کاروائی کا سابق صدر کو معلوم ہوگیا تھا انہوں نے اپنے خطاب میں کافی اہم باتیں کیں لیکن بلاول کے چار مطالبات کا ذکر بالکل نہیں کیا ہو سکتا ہے کاروائی اثر دکھاگئی ہو
اس کے بعد پاکستان پیپلزپارٹی کی جانب سے سخت موقف آیا جس میں مولا بخش چانڈیو کا کہنا تھا کہ کاروائی اس وقت ہی کیوں کی گئی جس پر میاں نواز شریف نے فورآ وزیر داخلہ چوہدری نثار سے رپورٹ طلب کی .

Nisar-and-PM

ذرائع یہ کہتے ہیں کہ اس کاروائی کے متعلق میاں‌نواز شریف پہلے سے نہیں جانتے تھے جس کے لئے انہیں چوہدری نثار کو طلب کرنا پڑا . سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر وہ اس کاروائی کے متعلق نہیں جانتے تھے تو چوہدری نثار اور میاں نواز شریف کے درمیان اختلافات ہیں ! اگر ایسا ہے تو چویدری نثار اگر استعفیٰ دیتے ہیں تو کیا ہوتا ہے کیا مسلم لیگ ن میں پھر سے بغاوت شروع ہوجائے گی یہ بھی کہا جاتا ہے کہ چوہدری نثار کا استعفیٰ پھر ایک نہیں‌ہوگا پھر کئی استعفیٰ آئیں گے ایسا میاں نواز شریف کے ساتھ ماضی میں بھی ہو چکا ہے

دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ اگر اس کاروائی کے متعلق چوہدری نثار بھی آگاہ نہیں تھے تو پھر رینجرز اپنی معمول کی کاروائیاں کر رہی ہے جنرل راحیل شریف کا ہی مشن جاری و ساری ہے یہ تاثر بھی ختم ہو جاتا ہے کہ جنرل باجوہ کے آنے سے فوج کے آپریشنز اثر انداز ہونگے.