Cloud Front
Amna Mufti

نام میں کیا رکھا ہے. . . آمنہ مفتی !

تہذیبِ انسانی کے ارتقا کے ساتھ جہاں اور ہزار اچھی بری قباحتیں ابھریں، وہیں ابلاغ کی ایک بڑی رکاوٹ (جسے ہم اصل میں ابلاغ کا ذریعہ سمجھتے ہیں )زبان کی شکل میں سامنے آئی۔

الفاظ اور ان کے معنی، نام اور ان کے صوتی اثرات،تاریخ اور اس کی کھینچی ہوئی لکیریں، یہ سب انسانوں کی زندگی میں اس بری طرح آڑے آتی ہیں کہ بعض اوقات جی چاہتا ہے کہ الفاظ کو یکسر مو قوف کر دیا جائے۔

چند روز قبل، سیف علی خان اور کرینہ کپور کے ہاں بیٹا پیدا ہوا۔ چونکہ دونوں ہی، اردو فلم کے ہر دلعزیز اداکار ہیں، تو ظاہر ہے یہ ایک بڑی خبر تھی۔ سب نے سنی اور اس سے متعلق مزید خبروں کے منتظر رہے۔ بچے کی پہلی تصویر، بچے کی نرسری، کس نے اور کس رنگ میں سجائی، وغیرہ وغیرہ، خبروں میں آتے رہے۔

پھر اچانک وہی ہوا جو انڈیا اور پاکستان میں اکثر ہوتا ہے۔ ساری تصویر، سارا کینوس اور منظر نامہ سمٹ سمٹا کے ایک مشترکہ خاندانی نظام کے تحت چلنے والے بڑے سے سسرال میں تبدیل ہو گیا۔ خاصے سمجھ دار اور خوفناک سیاسی بصیرت رکھنے والے لوگ ‘پھوپھا رپھڑی’ اور ‘ماسی مصیبتے’ بن گئے۔ ہوا یہ کہ ننھے نواب کا نام رکھ لیا گیا۔

یہ ہمارے معاشرے کا ایک عام مسئلہ ہے کہ اگر قسمت سے کسی کے ہاں بغیر کسی آفت اور مصیبت کے صحت مند اولاد پیدا ہو جائے تو خاندان میں ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوتا ہے بچے کا نام کیا رکھا جائے۔ دادی روتی ہوئی آتی ہیں کہ اس کا نام’ کنیز فاطمہ’ عرف ‘کیجو’ رکھا جائے گا۔ نانی کی ضد ہوتی ہے کہ ان کی بچپن کی سہیلی ‘انیسہ بتول’ کے نام پر انیسہ نام ہی رکھا جائے، ماں بے چاری پہلے ہی ‘مہر ماہ فاطمہ’ یا ’علشباہ‘ سوچے بیٹھی ہوتی ہے۔ باپ بے چارے سے کوئی پوچھے تو وہ پرائمری سکول کی ‘مس گل بہار’ کی یاد میں ننھی کو گل بہار کہنا چاہتا ہو گا۔ لیکن اس نقار خانے میں باپ کی طوطی کون سنے؟
سب جانتے ہیں کہ آخری جیت دادی کی ہوتی ہے۔ بلدیہ کے ریکارڈ میں دادی کا رکھا ہوا نام، ننھیال میں ‘انیسہ’ اور سکول کے رجسٹر میں ‘مہر ماہ فاطمہ،’ مگر پکارتے سب ‘ببلی’ ہیں۔

یہ کہانی گھر گھر کی ہے، مگر مجھے شک بھی نہ تھا کہ یہ کہانی ایک بار پھر دہرائی جائے گی۔ مگر میں نے کہا نا یہ پاکستان، ہندوستان اصل میں دو بہت بڑے سوپ اوپیرا کے سیٹ ہیں جہاں ہر لمحے ایک نو ٹنکی جاری ہے۔ ننھے میاں کا نام ‘تیمور علی خان‘ رکھ دیا گیا۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ تیمور کی قبر پہ لکھا تھا کہ اگر میں ایک بار پھر زمین سے نکل آیا تو بہت بڑی تباہی آئے گی۔

تیمور تو خیر کیا نکلتے، سیاست کی بال کی کھال نکالنے والے ’پھو پھا رپھڑی‘ میدان میں کود پڑے۔ یہ کیسا نام رکھا؟ امیر تیمور تو جنونی حملہ آور تھا، ہندوستانیوں کی جان کا دشمن، نیز مسلمان تھا ۔ آخر جرأت کیسے ہوئی اس بد شخص کے نام پہ بچے کا نام رکھنے کی؟ ایسے پیارے پیارے نام تھے ہم سے ہی پوچھ لیتے، سمیر، ندیم، راج، مراد، شکور، انیل وغیرہ وغیرہ۔

بچوں کا نام رکھنا ماں باپ کا کام ہو نا چاہیے۔ مجھے یاد ہے ہمارے ہاں ایک بہت ضعیف بزرگ کے پاس نو مولود کو لے جایا جاتا تھا اور وہ اس کو دیکھ کر بتاتے تھے کہ اس کا نام کیا ہے۔ ایک بار کسی بچے کانام ان سے پوچھے بغیر ’جلال‘ رکھ لیا گیا تو وہ بچہ نہائت غصیلا نکلا، یہاں تک کہ نام بدل کر ’حلیم‘ رکھا گیا، اور سبھوں نے سکھ کا سانس لیا۔ یعنی، نام کا اثر تو ہوتا ہے۔ جس شخصیت کے نام پر نام رکھا جائے اس کی عادات بھی بچے میں پیدا ہو سکتی ہیں۔

تیمور ایک عام نام ہے،جو اکثر مسلم گھرانوں میں رکھا جاتا ہے۔ ویسے تیمور کو مار دھاڑ کرتے ہوئے، ملتِ اسلامیہ کا کچھ خاص خیال نہیں ہوتا تھا۔ اس کی تلوار سب کے ساتھ ایک سا سلوک روا رکھتی تھی۔ کہتے ہیں کہ ایک اندھی عورت گرفتار ہو کر تیمور کے سامنے آئی ۔ تیمور نے نام پوچھا تو بولی ’دولت۔‘ تیمور نے طنز کیا کہ ’اچھا، دولت اندھی ہوتی ہے؟‘ دروغ بر گردنِ راوی وہ عفیفہ چندرا کر بولی، ’اگر اندھی نہ ہوتی تو لنگڑے کے پاس کیوں کر آتی؟’
لیجیے صاحبو! سارا جھگڑا ختم ہوا۔ جو شخص ایک اندھی سے بھرے بازار میں اتنی باتیں سن کر بھی ہنستا رہا، اس سے کیا ڈرنا؟ یوں بھی تیمور کے چھوڑے تیر تاریخ میں جہاں جہاں پیوست ہوئے تھے، ان زخموں پہ انگور آئے صدیاں گزر چکی ہیں، چھوڑیے، گئی بات پہ کیا اس قدر حجت؟

مگر مسئلہ وہیں کا وہیں ہے۔ یہ نام تو ہوا ددھیال کا، اب ننھیال سے بھی ایک نام آنا چاہیے۔ ’سونی کپور‘ کیسا رہے گا؟ اور بہت ممکن ہے ماں اس کانام ’لیونارڈو‘ رکھنا چاہتی ہو؟

یوں کرتے ہیں یہ تینوں نام رکھ لیتے ہیں۔ پاکستان میں تو ہم ایسا کر ہی لیتے ہیں۔ جیسے بلاول بھٹو زرداری، تو بچے کانام ’لیو نارڈو سونی کپور تیمور علی خان‘ رکھ لیتے ہیں ۔ عرفیت کے لیے سب کے پاس گنجائش موجود ہے، جو جی چاہے پکاریے۔
ہماری طرف سے ننھے نواب کو پھو پھا رپھڑیوں سے بھری اس دنیا میں آنا بہت مبارک ہو! خدا عمرِ خضر عطا کرے!

بشکریہ بی بی سی اردوڈاٹ کام