Cloud Front

ایک کتاب زمین پر

عمر عبد الرحمن جنجوعہ
سینئرز کی رہنمائی اور والدین کی دعاؤں کی بدولت ایک ایسے کام کو انجام دیا جو بظاہر تو کافی آسان تھا لیکن یقین جانیے دن رات ایک کر کے پایہ تکمیل تک پہنچایا ،بل کہ بعض اوقات تو محسوس ہوتا ہے کہ کوئی غیبی طاقت ہی تھی جس نے مدد کی ،انتہائی مشکل ذمہ داری کوپوراکیا مجھے آج خود بھی یقین نہیں ہوتا۔مصنف بننا زندگی کی ایک بڑی خواہش تھی جوالحمد اللہ پوری ہوئی۔میری تصنیف زمین جو رئیل اسٹیٹ کے حوالے سے لکھی جانے والی نہ صرف پاکستان بل کہ دنیا کی پہلی اردو کی جامع اور منفرد کتاب ہے ۔اس کتاب میں عام آدمی کے لئے معلومات ، اپنے گھر کا خواب جو ہر انسان دیکھتا ہے اس کی تکمیل کے لئے آسان رستہ ،بے روزگار نوجوانوں کے لئے گائیڈ لائین اور رئیل اسٹیٹ کی بہتری کے لئے کون سے اقدامات ناگزیز ہیں یہ سب شامل ہے ۔

16نومبر2016 کو اس کی تقریب رونمائی اسلام آباد کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی جس میں سینئر زصحافیوں ،کالم نگاروں ،رئیل اسٹیٹ کے نمائندوں کے علاوہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔میں فرخ شہباز وڑائچ،نورالہدی،عبدالسلام وٹو کا مشکور ہوں کہ وہ لاہور سے خصوصی طور پر شریک ہوئے ۔کالم نگار و اینکر آصف محمود جو انتہائی مصروف ہونے کے باوجودسرگودھا سے تشریف لائے اور اس ناچیز کو شکریہ کا موقع فراہم کیا۔محترم شکیل اخترجن نے سٹیج سیکرٹری کے فرائض سرانجام دیتے ہوئے محفل کو رونق بخشی۔فیضان بن اشتیاق،ظفر امتیاز خواجہ،سید رضاعلی کاظمی، ساجد محمود، خورشید زمان،ظہیربابر،چوہدری عمران اور محمد ابرارجن نے اس محفل کو چار چاند لگانے میں میرا بھرپور ساتھ دیا۔اس کا دیدہ زیب ٹائٹل اور نام کا موجد ایک ایسا شخص ہے جو دیکھنے میں تو انتہائی شریف معلوم ہوتے ہیں پر ان کے ساتھ کام کرنے والے دوست بہتر بتا سکتے ہیں کہ وہ کتنے ۔۔۔۔۔ہیں جی میں ذکر کر رہا ہوں محمد اخلاق کا جو ایکسپریس سے ہی وابستہ ہیں ۔کتاب کے لئے وقت نکال کر تاثرات قلم بند کرنے والے محترم منیر حسین ،انوار فطرت ،ڈاکٹر طیب خان سنگھانوی ،احمد جاوید(انڈیا) فرخ شہباز وڑائچ ، چوہدری عبد الرؤف تمام احباب کا بہت شکریہ ۔بہت کم وقت میں کتاب نے پورے پاکستان میں پذایرئی حاصل کی پاکستان اور دنیابھر سے مبارکباد کا نہ تھمنے والا سلسلہ جاری ہے ۔بھارت سے احمد جاوید صاحب کا بے حد مشکور ہوں کہ انہوں نے اس کتاب کا پیش لفظ لکھ کر اس ناچیز کو شرف بخشا ۔
اس تصنیف کا مشورہ سینئر صحافی ،شاعرروزنامہ ایکسپریس اسلام آباد کے میگزین انچارج محترم انوار فطرت نے دیا اور تکمیل تک میری مکمل رہنمائی فرمائی میں ان کا بے حد مشکور ہوں ،تقریب رونمائی میں انوار فطرت صاحب کا اظہار خیال قارئین کے پیش نذر ہے ۔

صاحبو! تقریر کرنا تو ہمیں آتی نہیں، کہ ہم پروفیسر ہیں، نہ سیاستدان، وکیل بھی نہیں ہیں، میر نہیں ہیں کہ ہمارا فرمایا ہوا مستند ہو، میرزا بھی نہیں کہ اندازِ بیاں اور ہو، حتیٰ کہ شکیل اختر بھی نہیں کہ اک رنگ کا مضموں ہو تو سو رنگ سے باندھیں۔ ہم تو بس صحافی ہیں اور وہ بھی نام نہاد۔

ہم شکل سے کچھ اس قدر ذاتِ شریف سے دکھائی دیا کرتے تھے کہ ہم پر احمق ہونے کا شائبہ ہوتا تھا۔ ایکسائیز اینڈ ٹیکسیشن، کسٹم، نارکوٹکس وغیرہ، ایسے محکمے تھے، جو عوام کی بے مثل خدمت کا شہرہ رکھتے تھے، ایک کرکے ان سب میں قسمت آزمائی کر لی، ناکام رہے۔ کچھ بزدل سے واقع ہوئے ہیں، سو پولیس میں بھی بھرتی ہونے کی کوشش کر دیکھی، سیاست کا بہت بعد میں علم ہوا کہ یہ بھی عوام کی خدمت کا ایک ادارہ ہے لیکن اس کا علم اس وقت ہوا جب ہمیں یہ خدشہ سا ہونے لگا ہے کہ اب ہم زیادہ ’’قائم‘‘ رہنے والے نہیں، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حلف کا بارِ گراں اٹھاتے سمے دم ہی دے بیٹھیں۔ سو جب ہر طرف سے مایوس ہوگئے تو شورش ملک مرحوم کے پاس چلے گئے، وہ قیامت کی نظر رکھتے تھے، ایک نگۂ غلط انداز ہم پر ڈالی اور جان گئے کہ آدمی کام کا…..نہیں لیکن مشوش بھی ہو گئے کہ چندے اور کام نہ ملا تو ضرور کسی چھوٹو موٹو گینگ میں شامل ہو جائے گا۔ دراصل طویل بے روزگاری کے باعث ہمارے چہرے پر کچھ وحشت کے آثار بھی نمودار ہونے لگے تھے۔ خیر یہ تشویش ان کی بے جا تھی، کہ ہم کو تو آج بھی کسی ویرانے سے گزرنا پڑ جائے تو ردِّ بلا کے لیے ’’جل تو جلال تو‘‘ یاد آئے نہ آئے ’’پولیس…پولیس‘‘ کا ورد ضرور یاد رہتا ہے۔

…….ایسے میں جب عمر عبدالرحمٰن ہمیں استاد تسلیم کرتا ہے تو ہمیں عجیب لگتا ہے۔ ہم خود بھی کئی اساتذہ کے شاگرد رہے ہیں۔ کلاس میں ہمارے ساتھ اور بھی بہت سے شاگرد ہوا کرتے تھے۔ بعض بچے تو ایسے ’’گل محمد‘‘ ہوتے تھے کہ جن پر استاد کھپ جایا کرتے لیکن ان کے پائے ثبات میں لغزش نہ آتی تھی (ریاضی کے معاملے میں ہمیں بھی ایسے ’’گل محمدوں‘‘ کی صف میں کھڑے ہونے کا اعزاز حاصل ہے)۔ ان کلاسوں میں ایسے شاگرد بھی تھے، جو استادوں کا ناک میں دم کیے رکھتے تھے اور زندگی میں کمال بھی ان ہی نے کیا، ان میں سے ایک آج کی تقریب کی نظامت کر رہے ہیں۔ ایسے شاگردوں پر استاد تفاخر کا اظہار کیا کرتے ہیں کہ ہمارا شاگرد فلاں بڑے عہدے پر متمکن ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ کوئی استاد کسی کو کارل مارکس، اقبال، عبدالسلام یا آئین سٹائین نہیں بنا سکتا، یہ سب خداداد ہوتا ہے۔ اسمٰعیل کو آدابِ فرزندی کسی استاد نے نہیں سکھائے، نہ وہ کسی مکتب کی کرامت تھی، یہ تو بس فیضانِ نظر ہی تھا۔ اسی لیے میں نے عمر عبدالرحمٰن کو تلمیذالرحمٰن قراردیا۔

عمر کے مزاج میں عجز اور انا نے آمیخت ہو کر بہت خوشرنگی پیدا کر دی ہے۔ وہ بظاہر بہت سجل اور سوشیل دکھائی دیتا ہے، بے شک وہ ہے۔ طبعِ سلیم بھی رکھتا ہے لیکن ایسا نہیں کہ اس کی اپنی کوئی رائے نہیں ہوتی۔ وہ جب کوئی رائے قائم کر لیتا ہے تو اس پر ڈٹ بھی جاتا ہے اور اس کے لیے دلائل بھی رکھتا ہے۔ اس کے لیے امکانات کے بہت سے در کھلے ہیں، وہ محنت، دیانت اور سچائی پر یقین رکھتا ہے۔ میں جب کسی شریف آدمی کا تصور کرتا ہوں تو عمر کو دیکھتا ہوں…. آدمی کو کم از کم عمر عبدالرحمٰن جتنا شریف تو ہونا ہی چاہیے۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عمر عبد الرحمن جنجوعہ
روزنامہ ایکسپریس سے وابستہ ہیں
پاکستان فیڈرل یونین آف کالمسٹ کے سینٹرل آرگنائزر ہیں