Cloud Front
Sindh Taas

بھا رت سندھ طا س معاہدے کی منسوخی کا اعلان کسی بھی وقت کر سکتا ہے!

معاہدے کی منسوخی کے لیے وزارتی ٹاسک فورس تشکیل دینا کا فیصلہ، منسوخی کا اعلان کسی بھی وقت متوقع
مودی نے بیاس ، راوی اور دریائے ستلج کے پانی کا رخ بدلنے کے لئے نہروں کی تعمیر کو حتمی شکل دینے کی بھی منظوری دیدی

نئی دہلی : پاکستان کے ساتھ 50 سالہ پرانے آبی معاہدے کی منسوخی مشن پر کاربند رہتے ہوئے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے سندھ طاس معاہدے کا جائزہ لینے کے لئے بین وزارتی ٹاسک فوس تشکیل دینے کا فیصلہ کر لیا ۔ بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق پاکستان کے بارے اپنا موقف مزید سخت کرتے ہوئے 50 برس قبل دونوں ملکوں کے درمیان عالمی بنک کے سندھ طاس آبی معاہدے کا ازسرنو جائزہ لینے کے لئے ایک بین وزارتی ٹاسک فورس تشکیل دینے کا فیصلہ لیا ہے مجوزہ بین وزارتی ٹاسک فورس کی کمان وزیر خزانہ ارون جیٹلی کو سونپی جا رہی ہے جبکہ اس میں کئی سینئر وزراء کے علاوہ قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول بھی شامل ہوں گے

رپورٹ کے مطابق اس دوران بھارتی وزیر اعظم کی زیر صدارت انڈس واٹر ٹریٹی سے متعلق ایک اہم میٹنگ نئی دہلی میں منعقد ہوئی جس میں پاکستان کو مختلف دریاؤں سے فراہم کئے جانے والے پانی کی مقدار میں کمی کامعاملہ زیر غور لایا گیا جبکہ اس دوران جموں و کشمیر میں دریائے سندھ جہلم اور دریائے چناب پر کئی بڑے پاور پروجیکٹ تعمیر کئے جانے کا منصوبہ بھی زیر غور لایا گیا ۔رپورٹ کے مطابق پہلی بین وزارتی ٹاسک فورس کی میٹنگ کی صدارت وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری نریندر امشرا نے کی جبکہ اس میں قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول کے ، آبی وسائل کے سیکرٹری ششی شیکھر ، فنانس سیکرٹری اشوک لاواس اور پنجاب و جموں و کشمیر کے چیف سیکرٹری بھی موجود تھے میڈیا رپورٹس کے مطابق بین وزارتی ٹاسک فورس کی پہلی میٹنگ کے دوران جموں و کشمیر میں دریاؤں پر ہزاروں میگاواٹ صلاحیت والے پن بجلی پروجیکٹوں کی تعمیر کا معاملہ زیر غور لایا گیا ۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق کل ملا کر 18 ہزار میگاواٹ صلاحیت والے پن بجلی پاور پروجیکٹ تعمیر کئے جا رہے ہیں جن میں سے تین ہزار میگاواٹ صلاحیت والے پروجیکٹوں کی نشاندہی کا کام مکمل کیا جا چکا ہے ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق جموں و کشمیر میں دریائے سندھ ، دریائے چناب اور دریائے جہلم پر زیر تعمیر پن بجلی پروجیکٹوں بشمول کشن گنگا پروجیکٹ پر جاری کام کی رفتار کو بھی زیر غور لایا گیا ۔ رپورٹ کے مطابق دوسرے مرحلے میں بھارت سرکار کی طرف سے بیاس ، راوی اور دریائے ستلج کے پانی کا رخ بدلنے کے لئے نہروں کی تعمیر کو حتمی شکل دی جائے گی اور اس کے ساتھ ساتھ جموں وکشمیر کے تینوں دریاؤں پروجیکٹ تعمی کئے جانے کے حوالے سے بھی ایک جامع منصوبہ مرتب کیا جا رہا ہے۔