Cloud Front
Dr Qadri

سول ایڈمنسٹریشن آرڈیننس جمہوریت اور آرٹیکل 140-A کی روح کیخلاف ہے، ڈاکٹر طاہر القادری

منتخب نمائندوں کے اختیارات سرکاری ملازموں کو دینا کون سی جمہوریت ہے ؟ سربراہ عوامی تحریک
نو منتخب چیئرمین ہوائی فائرنگ کر کے خوشی منانے کی بجائے آئینی اختیارات کے حصول کیلئے فکر مند ہوں
کمشنری نظام بحال کر کے برصغیر پر قابض انگریز دور کی یادوں کو تازہ کیا گیا ،صوبائی صدر سے ٹیلیفونک گفتگو

لاہور: پاکستان عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت کا سول ایڈمنسٹریشن آرڈیننس 2016 ء جمہوریت اور آئین کے آرٹیکل 140-A کی روح کے خلاف ہے۔ آئین بلدیاتی اداروں کو سیاسی ،انتظامی اور مالی اعتبار سے مضبوط کرنے کی بات کرتا ہے مگر پنجاب حکومت نے آرڈیننس کے ذریعے اپنے ہی منتخب میئرز اور چیئرمینوں کے اختیارات چھین کر سرکاری ملازمین، ڈپٹی کمشنرز کو دے دئیے۔یہ کیسی جمہوریت ہے جس میں منتخب عوامی نمائندوں کے گریبان سرکاری ملازمین کے ہاتھ میں دے دئیے گئے؟ انہوں نے کہا کہ نو منتخب میئرز اور چیئرمین اپنے انتخاب کی خوشی میں ہوائی فائرنگ کرنے کی بجائے آئینی اختیارات کے حصول کیلئے فکر مند ہوں۔ اگر یہ اختیارات انہیں نہ ملے تو پھر ان کا واحد کام عوام کی خدمت نہیں وزیراعلیٰ اور وزراء کے ضلعی دوروں کے موقعوں پر خیر مقدمی بینر لگوانا، سڑکوں کو صاف کروانا اور جلسہ گاہ میں کرسیاں لگانا رہ جائیگا۔ وہ گزشتہ روز پاکستان عوامی تحریک کے صوبائی صدور بشارت جسپال، جنوبی پنجاب کے صدر فیاض وڑائچ اور شمالی پنجاب کے صدر بریگیڈیئر(ر) محمد مشتاق لِلہ سے ٹیلیفون پر گفتگو کررہے تھے۔

ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ منتخب چیئرمینوں کو ڈپٹی کمشنر ز کے سامنے جواب دہ بنانا عوامی نمائندوں کی توہین ہے۔ اگر اضلاع میں ترقیاتی کام اور کچہریاں ڈپٹی کمشنرز کا اختیار ہے تو منتخب بلدیاتی نمائندوں کا کیا کام ہے؟ انہوں نے کہا کہ 8 سال تک عوام کو آئینی بلدیاتی اداروں سے محروم رکھا گیا اور اب اختیارات سلب کر کے ان اداروں کو کٹھ پتلی بنا دیا گیا۔

دنیا بھر میں بلدیاتی اداروں کو عوامی خدمت کے اداروں کا مقام حاصل ہے ۔ 40فیصد تک کا بجٹ بلدیاتی اداروں کے ذریعے استعمال کیا جاتا ہے مگر شریف برادران خاندانی اجارہ دار ی کو جمہوریت سمجھتے ہیں اسی لیے انہوں نے یہ فیصلہ منتخب صوبائی اسمبلی سے کروانے کی بجائے آرڈیننس کا سہارا لیا جو بدنیتی پر مبنی ہے۔ اس اقدام سے ایک بار پھر یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ لوگ آئین، قانون اور جمہوریت کو محض موم کی ناک سمجھتے ہیں اور یہ کبھی کسی آئینی ،سیاسی اور عوامی ادارے کو مضبوط اور متحرک نہیں دیکھنا چاہتے کیونکہ اس سے ان کی اپنی بادشاہت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کمشنری نظام غاصب انگریز کی باقیات ہے اسے بحال کر کے انگریز دور کی یادوں کو تازہ کیا گیا۔ برصغیر پر قابض انگریز نے اپنے قبضہ کو مستحکم کرنے کیلئے کمشنری نظام مسلط کیا تھا جسے شریف برادران نے دوبارہ بحال کر دیا کیونکہ ان کی سوچ بھی قبضہ گروپ والی ہے۔انہوں نے کہا کہ اختیارات اور وسائل سے محروم بلدیاتی ادارے گراس روٹ کے عوام کی کوئی خدمت نہیں کر سکیں گے۔ اختیارات کے بغیر ان اداروں کا ہونا یا نہ ہونا ایک برابر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاروں صوبوں میں بااختیار بلدیاتی ادارے چاہتے ہیں۔