Cloud Front
Corruption

و رکرزویلفیئر فنڈ پشاور میں55کروڑ کرپشن کے نئے سکینڈل کا انکشاف

افسران نے سکالر شپ ، ڈیٹو گرانٹ اور جہیز فنڈز کے نام پر لوٹ مار کی

اسلام آباد: اعلیٰ افسران نے مختلف حادثات میں جاں بحق ہونے والے مزدوروں کی بیواؤں اور یتیم بچوں کے لئے مختص فنڈز میں55کروڑ روپے اپنی جیبوں میں ڈال لئے۔ یہ فنڈز ملک بھر کی فیکٹریوں اور کارخانوں میں کام کرنے والے ایسے مزدور جو حادثات کا شکار ہو کر جان کی بازی ہار گئے انکے لواحقین کے لئے مختص کئے گئے تھے۔ ان فنڈز کے ذریعے مرحومین کے بچوں کو سکالر شپس اور جہیز کے لئے رقوم دی جانی تھیں۔ سرکاری مگر مچھوں نے 55کروڑ کھا کر ڈکار بھی نہیں لیا۔ تفصیلات کے مطابق یہ55کروڑ روپے ورکرز ویلفیئر فنڈ پشارو (کے پی کے) کے افسران نے کی ہے جن کیخلاف ابھی تک کوئی تادیبی کارروائی نہیں ہو سکی کیونکہ ان افسران کا تعلق حکمران جماعت سے انتہائی قریبی ہے۔

آن لائن کو ملنے والی دستاویزات کے مطابق ورکرز ویلفیئر فنڈ پشاور کے کرپٹ افسران نے حادثات میں جاں بحق ہونے والے مزدوروں کی بیواؤں ۔ بچوں کو جہیز فنڈز ڈیٹو گرانٹ وغیرہ کی مد میں ایک ارب 80کروڑ روپے جاری کء ہیں تاہم متعلقہ بنکوں کے ریکارڈ کے مطابق ایک ارب 10کروڑ روپے مزدوروں کی بیواؤں کو ملے ہیں جبکہ باقی 55کروڑ روپے افسران نے خود اپنی جیبوں میں ڈال لئے ہیں اور متعلقہ ریکارڈ بھی ضائع کر دیا ہے جبکہ کچھ ریکارڈ میں ٹمپرنگ کرنے کے مرتکب بھی ہوئے ہیں۔ بینک کے ریکارڈ کے مطابق سکالر شپ کے نام پر 1105ملین جاری کئے۔ میرج گرانٹ 79ملین روپے جبکہ ڈیتھ گرانٹ کے نام پر 62ملین روپے جاری کئے۔ باقی 550ملین روپے اپنی جیبوں میں ڈال لئے تھے۔ یہ کرپشن2014-15ء کے عرصے میں ہوئی ہے۔ آن لائن نے ڈبلیو ڈبلیو ایف سے مؤقف کے لئے رابطہ کیا لیکن حکام نے جواب نہیں دیا