Cloud Front
Sindh Court

غیرمسلم شراب خانے بند کرناچاہتے ہیں تومسلمانوں کو کیا مسئلہ ہے، جسٹس سجاد علی شاہ

شراب خانوں پر پابندی سے متعلق درخواستوں کی سماعت
غیرمسلم شراب خانے بند کرناچاہتے ہیں تومسلمانوں کو کیا مسئلہ ہے، جسٹس سجاد علی شاہ
درخواست گزار رمیش کمار ایک سیاست دان ہیں وہ ہندووں کی نمائندگی نہیں کرسکتے، عاصمہ جہانگیر
کورٹ نے نئی درخواستوں پر فریقین کو گیارہ جنوری کے لیے نوٹس جاری کردیے

کراچی : چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس سجاد علی شاہ نے شراب خانوں پر پابندی سے متعلق نئی درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ غیرمسلم شراب خانے بند کرناچاہتے ہیں تومسلمانوں کو کیا مسئلہ ہے۔سندھ ہائی کورٹ نے شراب خانوں پر پابندی سے متعلق نئی درخواستوں پر فریقین کو گیارہ جنوری کے لیے نوٹس جاری کردیے۔ چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس سجاد علی شاہ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ میں دوران سماعت محکمہ ایکسائز کی وکیل عاصمہ جہانگیر نے موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار رمیش کمار ایک سیاست دان ہیں وہ ہندووں کی نمائندگی نہیں کرسکتے، رمیش کمار قومی اسمبلی میں شراب خانوں پر پابندی کے لیے قانون سازی کراسکتے ہیں۔دوسری جانب درخواست گزار رمیش کمار نے عدالت میں کہا کہ ہندومذہب کی مقدس کتاب گیتا سختی سے شراب پر پابندی عائد کرتی ہے آج جو شراب خانوں کے مالکان دفاع کیلئے کھڑے ہیں گیتا پڑھ لیتے تو کبھی یہاں نہ آتے،

آئین بھی صرف مذہبی تہواروں پرشراب نوشی کی اجازت دیتا ہے۔ بتایا جائے کہ ڈیفنس میں پابندی کے باوجود گیارہ شراب خانے کیوں کھولے گئے ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے دوہزار چودہ میں قومی اسمبلی میں شراب پر پابندی سے متعلق بل پیش کیا اور اب دوبارہ جمع کرادیا ہے ہندوؤں کے نام پر کیسے قانون بنایا جاسکتا ہے۔فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواستوں پر قانون کے مطابق فیصلہ کریں گے ہم بھی دیکھیں گے کہ ڈیفنس میں کتنی اقلیتی آبادی ہے اور گیارہ شراب خانے کیسے کھولے گئے ۔بعدازاں عدالت نے تمام فریقین کی رضا مندی سے سماعت 11 جنوری تک ملتوی کردی۔