Cloud Front
Modi

پاک بھارت تعلقات میں آئندہ برس مثبت موڑ آ سکتا ہے، بھارتی سفارتکار

وزیر اعظم نریندر مودی کا ہمسایہ ملک کے حوالے سے موجودہ پالیسی میں نظرثانی کا امکان ہے،بھارتی سفارتی حلقوں کا دعویٰ

نئی دہلی : بھارتی سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ آئندہ برس پاک بھارت تعلقات میں کوئی مثبت موڑ آ سکتا ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی ہمسایہ ملک کے حوالے سے موجودہ پالیسی پر نظرثانی کر سکتے ہیں ۔ بھارتی میڈیا کے مطابق ایک بھارتی سفارتکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ وزیر اعظم کی جانب سے پاکستان کو مفاہمت کی پیش کش کے حوالے سے کوئی ٹائم فریم تو نہیں دیا لیکن اتنا ضرور کہا کہ ہو سکتا ہے مودی حکومت پاکستان کے لئے اپنی پالیسی میں تبدیلی کے لئے بھارتی پنجاب اور یوپی میں ریاستی انتخابات کا انتظار کریں جو کہ مارچ میں ہونے والے ہیں ۔ بھارتی سفارتکار نے اعتراف کیا کہ موجودہ ( بھارتی ) عوامی جذبات سرحد پار دہشتگردی کا معاملہ حل ہونے تک پاکستان سے مذاکرات کے حق میں نہیں ہی لیکن مودی عوامی رائے کو موثر بنانے کا ہنر جانتے ہیں جب انہوں ( مودی) نے پاکستان سے تعلق کی استواری کا کوئی قدم اٹھا لیا تو باقی تمام معاملات کے بارے میں یہ امر یقینی ہے کہ وہ بے دلی سے نہیں ہوں گے ۔

بھارتی سفارتکار کا دعویٰ تھا کہ ماضی کی بھارتی حکومتوں کے برعکس مودی کی حالیہ بھارتی حکومت صاف ذہن کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے پاکستان چونکہ طویل عرصے سے ایسی بھارتی حکومتوں کے ساتھ معاملہ کرتا رہا ہے جنہوں نے چند معاملات پر کبھی سخت موقف نہیں اپنایا لیکن وزیر اعظم مودی کا معاملہ مختلف ہے جب بھارتی وزیر اعظم نے امن عمل کو آگے بڑھایا تو انہوں نے پورے خلوص کے ساتھ اسے آگے بڑھایا تھا ۔ اسی سفارتکار نے پٹھانکوٹ اور اڑی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امن کے لئے مودی کے ان رابطوں کا جواب نہ دے کر پاکستانی حکومت نے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا ۔ دیگر مبصرین کے مطابق طاقت پر منبی خارجہ پالیسی ٹھوس نتائج حاصل کرنے میں ناکام ہو ہو چکی ہے ان مبصرین کو یقین ہے کہ اپنی سخت روی سے بھارت نے پاکستان میں امن کے حامی حلقوں کو درحقیقت بہت کمزور کر دیا ہے ۔