Cloud Front
FIlm from Iran

ترکی، ایران چین ودیگر ممالک سے فلمیں امپورٹ کرنے کا فیصلہ

کئی فلموں کی ڈبنگ بھی مکمل ، فلم انڈسٹری سے وابستہ شخصیات نے ثقافتی دوروں کی منصوبہ بندی کرلی

کراچی: پاکستانی سینما گھروں میں بھارتی فلموں کی نمائش ہنوز تعطل کا شکار ہونے کی بنا پر پاکستانی فلمسازوں ، فلم امپورٹرز اور سینما مالکان ہالی ووڈ موویز کے بعد ترکی ، ایران اور چین سے فلمیں امپورٹ کرنے کی حکمت عملی ترتیب دینے میں مصروف ہوگئے۔کہا جارہا تھا کہ عامر خان کی نئی فلم دنگل کی نمائش کیلئے خصوصی طور پر پابندی ہٹانے کافیصلہ کیا گیا تھا تاکہ معاشی طور پر کمزور ہوتی ہوئی سینما انڈسٹری کو استحکام ملے گا ان تما م امیدوں کے چراغ گل ہونے کے بعد ملکی فلمسازوں ،فلم امپورٹر ز اور سینما مالکان نے ملک میں سینما انڈسٹری میں جاری اربوں روپے کی ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کو استحکام دینے کیلئے ترکی ، ایران ، چین اور دیگر ممالک کی فلمیں ڈب کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس پر کئی اداروں نے ترکی و ایرانی ڈراموں کی آڑ میں فلمیں بھی درآمد کرلی ہیں جس کو ڈب بھی کرکے رکھا ہوا ہے۔

ملکی فنکاروں نے ان فلموں کی ڈبنگ اردو میں کرواکر شائقین فلم کیلئے تفریح کا بندوبست کردیا ہے۔ذرائع نے انکشاف کیا کہ پاکستانی فلم انڈسٹری سے وابستہ شخصیات نے ایران ، ترکی اور چین کے ثقافتی دوروں کی منصوبہ بندی کرلی ہے اس دوران وہ ان کی فلمیں پاکستانی سینماگھروں میں نمائش کرنے کا جائزہ بھی لیں گے اس حوالے سے گزشتہ دنوں ہدایتکار سید نور چین گئے اور وہاں فلمسازی کے حوالے سے اور ان کی فلمیں پاکستان میں ریلیز کرنے کا بھی جائزہ لیا۔

معروف امپورٹرز اور ڈسٹری بیوٹر شیخ امجد رشید نے بھی چین سے فلمیں منگوانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ وہ گزشتہ جمعہ کو چین کا 10 روزہ دورہ کرکے لوٹے ہیں وہ چین سے فلمیں منگواکر ڈب کرکے سینما گھروں میں نمائش کے خواہش مند ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ پاکستان فلم انڈسٹری کے دیگر فلمسازوں نے بھی تجارتی سرگرمیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بھارتی فلموں کے بجائے چین کے ساتھ مشترکہ فلمسازی کے منصوبے بنانے کی تیاریاں شرو ع کردی ہیں جس کیلئے وہ سرکاری طور پر سپورٹ بھی چاہتے ہیں۔واضح رہے ماضی میں لیجنڈ اداکار سدھیر کی فلم باغی ، غلام محی الدین و بابرہ شریف کی فلم میرا نام ہے محبت چین میں کئی برس تک نمائش پذیر رہی اسی طرح روس میں لیجنڈ اداکار محمد علی اور شمیم آرا کی فلم صاعقہ بھی کئی برس تک نمائش پذیر رہی۔