Cloud Front
bhutto

حلقہ این اے 204 : ذوالفقارعلی بھٹو سے بلاول بھٹو تک !‌

پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نےبلاول بھٹو کےہمراہ منتخب ہوکر موجودہ قومی اسمبلی میں جانے کا اعلان کردیاہے۔
گڑھی خدا بخش میں بینظیر بھٹو کی 9برسی پر منعقدہ جلسے سے خطاب میں سابق صدرنے کہا کہ میں نواب شاہ سے جبکہ بلاول بھٹو لاڑکانہ سے ضمنی الیکشن لڑیں گے ،ہم اسمبلی میں پہنچ کر مغل بادشاہوں کو نہیں چھوڑیں گے ۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے تحت نیب کےسربراہ کی تعیناتی پراعتراض نہیں، عدالتوں سے خوف نہیں ،جس کیس میں بابراعوان کالائسنس منسوخ ہواتھاوہ کیس دوبارہ کھولاجائے۔
آصف علی زرداری نے کہا کہ ہم نے نوازشریف کو امانت سونپی تھی،18ویں ترمیم کے بعدانہوں نے سب کچھ بھلادیا،ہم پرانے چیف جسٹس جیسا چیف جسٹس نہیں لگانے دیں گے ۔
سابق صدر کا کہناتھاکہ چیئرمین بلاول نے آپ سےجمہوری مطالبات کیے ہیں،بلاول نےیہ نہیں کہا کہ سڑکوں پرآئیں گے یا جمہوریت پرحملہ کریںگے، ہم پارلیمنٹ اور عدالتوں میں جائیں گے اوراپنا آئینی حق استعمال کریں گے۔

اگر سابق صدر اور بلاول بھٹو کی گزشتہ تقاریر کو دیکھا جائے تو آج کے جلسہ میں خطاب اور پارلیمنٹ میں جانے کا اعلان کھوا پہاڑ نکلا چوہا کے مصداق ہے کیونکہ اس میں چار نکات جن پربلاول بھٹونے احتجاج اور دمادم مست قلندر کی کال دی ہوئی تھی ان کا سرے سے ہی ذکر نہیں کیا

دوسری جانب پارلیمنٹ میں جانے کے لئے پیپلزپارٹی حلقہ این اے 204 سے ایازسومرو سے استعفیٰ لے گی جو 2013 کے عام انتخابات میں فنکشنل لیگ کے مہتاب اکبر رشدی کے مقابلے میں 50128 ووٹوں سے فاتح قرار پائے تھے جبکہ رشدی 32000 ووٹ حاصل کر پائے یہ حلقہ اس لئے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ یہاں سے پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار بھٹو بھی الیکشن لڑتے رہے ہیں اس کے علاوہ بیگم نصرت بھٹو اور پھر محترمہ بے نظیر بھٹو بھی لاڑکانہ سے اسی حلقہ سے انتخابات میں حصہ لے کر اسمبلی میں جایا کرتی تھیں اب پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو بھی اپنی پہلی سیاسی جدوجہد کا آغاز اسی حلقہ سے کریں گے. دقیق نظری سے دیکھا جائے تو بھٹو خاندان کے لئے یہ حلقہ تاریخی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہی سے ان کی سیاسی جدوجہد کا آغاز ہوا، ذوالفقار علی بھٹو سے لیکر بلاول تک یہ حلقہ قلیدی حثیت رکھتا ہے

دوسری جانب نواب شاہ سے حلقہ 213 سے سابق صدر اور شریک چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی آصف علی زرداری ضمنی انتخاب میں حصہ لیکر اسمبلی میں جائیں گے جو ان کی ہمشیرہ ڈاکٹر عذرا افضل کے استعفیٰ کے بعد خالی ہوگی اس حلقہ میں بھی پیپلزپارٹی کا قبضہ رہا ہے ماضی میں ڈاکٹر عذرا ایک لاکھ 13 ہزار 199 ووٹوں کی بھاری اکثریت یہ سیٹ جیتی تھیں

بظاہر یہ نظر آرہا ہےکہ سابق صدر آصف علی زرداری آئندہ انتخابات کی تیاری کر رہے ہیں کیونکہ اگر ضمنی انتخابات ہوتے ہیں‌ تو دونوں کو اسمبلی میں‌آتے آتے 3 ماہ لگ جائیں گے کیونکہ پہلے اس پر استعفیٰ ہوگا اس کے بعد الیکشن کی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا جس کے لئے وقت درکار ہوگا